بات سنیے! آپ کے پھیلائے کوڑے کو اٹھانا کسی کمتر کا فریضہ نہیں

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

اس بات کو سمجھیے کہ کچرے کو ایک تھیلیی میں اکٹھا کرنے اور اسے کوڑا دان تک پہنچانے میں آپ کی بہت کم توانائی خرچ ہوتی ہے—اے ایف پی
اس بات کو سمجھیے کہ کچرے کو ایک تھیلیی میں اکٹھا کرنے اور اسے کوڑا دان تک پہنچانے میں آپ کی بہت کم توانائی خرچ ہوتی ہے—اے ایف پی

کوڑا کرکٹ، چاہے ہمارے گھر کے باہر سڑکوں پر پڑا ہو یا پھر کسی سیاحتی مقامات پر بکھرا ہو، ہمیشہ ہی آنکھوں کو بُرا لگتا ہے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چاہے پہاڑوں پر واقع دیوسائی کا قومی پارک ہو، کراچی کا ہاکس بے ساحلِ سمندر ہو یا پھر پاکستان میں کہیں بھی اے ٹی ایم کا کمرہ ہو، وہاں اکثر و بیشتر آپ پھیلا ہوا کچرا پائیں گے اور اس کے قریب رکھا ہوا کوڑا دان یا تو مکمل طور پر خالی یا آدھا بھرا ہوگا، یعنی یہ تو واضح ہوگیا کہ مسئلے کا تعلق کوڑے دانوں کی تنصیب تک محدود نہیں۔ کوڑا پھینکنا ہماری معاشرتی روایات کا حصہ بن چکا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہوئے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی نے 14 اگست سے اسلام آباد میں پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امید اور خیال یہی ہے کہ اس قابلِ تعریف فیصلے کے بعد کوڑے کے پھیلاؤ اور اس کے صحت اور ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

تاہم صورتحال جس قدر خراب ہوچکی ہے اس میں مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آخر ہم اتنا زیادہ کوڑا کیوں پیدا کرتے ہیں اور ہم مسئلے کی اصل جڑ کو کس طرح ختم کرسکتے ہیں؟

مزید پڑھیے: کچرا کم کرنے اور اسے دوبارہ استعمال کرنے کے چند مفید مشورے

ہر گزرتے سال کے ساتھ پاکستان کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے، جو اپنے پیچھے کوڑے کرکٹ کا ڈھیر چھوڑ جاتے ہیں، تاہم اگر ان مقامات پر آنے والے افراد اپنے طور پر کوشش کریں تو اس گندگی سے بچا جاسکتا ہے۔

سیف الملوک جھیل کے آس پاس سیاحوں کا پھیلایا ہوا کوڑا کرکٹ—تصوریر بشکریہ لکھاری
سیف الملوک جھیل کے آس پاس سیاحوں کا پھیلایا ہوا کوڑا کرکٹ—تصوریر بشکریہ لکھاری

فیض علی اور ان کی اہلیہ ہنزہ میں گلمت نامی گاؤں میں ایک چھوٹا ریزورٹ چلاتے ہیں۔ فیض کہتے ہیں کہ ’ہمارا گاؤں بہت چھوٹا ہے اور یہاں فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی خاطر خواہ نظام موجود نہیں ہے لہٰذا یہ کام خود ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے۔‘ ان کے مطابق سیر و تفریح کی غرض سے یہاں آنے والے افراد جتنا گند پھیلاتے ہیں اس کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ شاید انہیں ان خوبصورت مقامات کی پاکیزگی کی قدر ہی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحتی صنعت اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور عوامی مقامات کو صاف رکھنے کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں مدد فراہم کرے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وہ ٹؤر آپریٹرز بھی اس گند کچرے کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جو لوگوں کو یہاں لاتے ہیں۔ زیادہ تر ٹؤر آپریٹرز نوجوان لڑکے ہیں جو ایک یا دو بار ہی یہاں آچکے ہیں اور انہیں یہاں کی آب و ہوا اور ماحولیات کے بارے میں زیادہ علم نہیں۔‘

فیض اپنے ریزورٹ کی صفائی ستھرائی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ ’ہم ٹؤر آپریٹرز کو تربیت دیتے ہیں کہ وہ جن سیاحوں کو بھی یہاں لائیں انہیں لازمی اس بارے میں بریفننگ دیں کہ وہ کس طرح بغیر کوڑا کرکٹ پھیلائے سفر کریں۔‘ فیض خود بھی ماحولیاتی اعتبار سے کافی آگاہ دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے ریزورٹ پر بھی اس طرح کی کوشش کی ہے۔ وہاں ایک چھوٹا نامیاتی یا آرگینک باغ ہے جہاں وہ سبزیاں اگاتے ہیں۔ سیاحوں کی جانب سے پھیلائے ہوئے کچرے کو اکٹھا کرنے کے بعد وہ سپاٹ زمین پر لے جاتے ہیں اور وہاں یا تو جلادیتے ہیں یا پھر زمین میں دفن کردیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں کھانے کی اشیا کے فضلے سے کھاد تیار کرتا ہوں جسے ہم بکاشی پکارتے ہیں۔‘

افسوس کے ساتھ زیادہ تر کوڑا قابلِ ترک یا ڈسپوزایبل پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ ہنزہ شہر کی طرح ایک دن ہر جگہ ڈسپوزایبل پلاسٹک پر پابندی عائد کردی جائے گی تاکہ اس بڑے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔‘

عبدالباسط سینٹرل خنجراب نیشنل پارک (سی کے این پی) اور اس کے ساتھ دیوسائی نیشنل پارک (ڈی این پی) کے ساتھ بطور پراجیکٹ کوآرڈینٹر منسلک ہیں۔ ان کے مطابق پارک انتظامیہ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے مختلف طریقے آزما چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ایک گاڑی ڈی این پی سے روزانہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کرتی ہے اور پھر اسے ایک مخصوص جگہ لے جاکر جلا دیا جاتا ہے۔ مگر اس طرح مسئلے کا حل نہ نکل سکا۔ اس کے بعد ہم نے سیاحوں کو بائیو ڈی گریڈ ایبل یا قدرتی طور پر پگھل جانے والی پولی تھین کی تھیلیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنا کچرا اپنے ساتھ لے جائیں، مگر یہ طریقہ بھی کارگر ثابت نہ ہوسکا۔ لہٰذا اب انتظامیہ نے مقامی اسکول کے طلبا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پارک کو صاف ستھرا رکھنے کی مستقل کوشش کا آغاز کیا ہے۔‘

تاہم، سی کے این پی میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے ایک طریقہ اپنایا گیا جو کامیاب رہا ہے۔ باسط اس طریقہ کار کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’ہم نے کے ٹو بیس کیمپ سے نیچے کوڑا اٹھا کر لانے والوں کو پیسوں کی ادائیگی شروع کردی ہے۔ بعدازاں اس کوڑے کرکٹ کو سوست کے قریب واقع ایک لینڈ فل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ نظام ابھی تک وسیع حد تک کامیاب رہا ہے اور اب یہ گلگت بلتستان حکومت کی زیرِ سرپرستی اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کی مالی امداد سے چلنے والا منصوبہ بن چکا ہے۔‘

سی کے این پی کے اسٹاف ممبران کوڑا اٹھانے میں مصروف ہیں
سی کے این پی کے اسٹاف ممبران کوڑا اٹھانے میں مصروف ہیں

مارگلہ نیشنل پارک کے راستوں پر پھیلے کوڑے کرکٹ میں کس طرح کمی لائی گئی اس حوالے سے اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمٰن کے پاس کچھ دلچسپ تفصیلات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی طور پر یہ کوڑا اٹھانے کے لیے تو ان کا اپنا اسٹاف بھی پُرجوش نہیں تھا، لہٰذا انہیں اس کام کی ترغیب دینے کے لیے ہم نے بھی ان کے ساتھ کوڑا اٹھانا شروع کردیا۔ ڈیڑھ برس قبل ہم ہر ہفتے 600 سے 800 کلوگرام کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگاتے تھے۔ کئی ماہ تک ہم یونہی کوڑا اٹھاتے رہے اور پھر یہ احساس ہوا کہ ہم اب بھی اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہے ہیں۔ چنانچہ تقریباً 6 ماہ تک ہم نے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیا جس میں ہم نے لوگوں کو بتایا کہ کوڑا کرکٹ کا پھیلاؤ کس طرح آلودگی اور نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

اس طرح بھی جب کچھ خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہوا تو بورڈ نے اس مسئلے کے حل کا ایک اور طریقہ آزمانے کا سوچا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سیاحوں کو ایک فارم دیا جاتا جس میں ہر ڈسپوز ایبل چیزوں کی تفصیلات درج کرنے کے لیے کہا جاتا۔ انہیں اس فارم میں یہ درج کرنا ہوتا کہ ان کے پاس چپس کے پیکٹس یا جوسز کے کتنے ڈبے ہیں۔ ہم ان فارمز کے ساتھ ان کا قومی شناختی کارڈ اپنے پاس رکھتے اور ان کی واپسی پر یہ یقینی بناتے کہ وہ اپنا کوڑا اپنے ساتھ ہی لے جا رہے ہیں۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی کوڑے کرکٹ کے پھیلاؤ کا مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا کیونکہ ہم اس طریقے کو اپنانے کے بعد بھی بھاری مقدار میں کوڑا کرکٹ اٹھا رہے تھے۔ اگلا قدم تھا راستوں پر بڑے بڑے نوٹس بورڈ لگانا جس میں لکھا تھا کہ آس پاس کوڑا پھینکنا غیر قانونی عمل ہے۔ حتیٰ کہ اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہوا کیونکہ ایسا 40 برس پرانے وائلڈ لائف ایکٹ کے مطابق تھا۔

اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے اسٹاف ممبران اسلام آباد کے چڑیا گھر کے برابر میں موجود خشک ہوچکے اس نالے کی صفائی میں مصروف ہیں جہاں ایک وقت میں تازہ پانی چشمہ بہتا تھا مگر اب طعام خانوں کے مالکان یہاں کوڑا پھینکتے ہیں
اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے اسٹاف ممبران اسلام آباد کے چڑیا گھر کے برابر میں موجود خشک ہوچکے اس نالے کی صفائی میں مصروف ہیں جہاں ایک وقت میں تازہ پانی چشمہ بہتا تھا مگر اب طعام خانوں کے مالکان یہاں کوڑا پھینکتے ہیں

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تاہم جب بورڈ پر ندی نالوں کو آلودہ اور پلاسٹک کے ڈسپوزیبل چیزوں پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تفصیلات لکھی گئیں تو کام بن گیا، اب کوڑا اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہا۔‘

مزید پڑھیے: پلاسٹک سے جان چھڑانے میں مجھے ہفتہ لگا، لیکن میں کامیاب ہوگئی!

اسلام آباد کے چڑیا گھر کے اختیارات جب ڈاکٹر رحمٰن کو ملے تو انہوں نے وہاں بھی یہی پابندی لاگو کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات کا علم تھا کہ سیاحوں کی جانب سے چھوڑے جانے والے کوڑے کو جانور نگل لیتے ہیں جو ان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ صرف یہاں کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ چڑیا گھر کو پلاسٹک فری قرار دے دیا گیا ہے اور چڑیا گھر میں کسی قسم کے ڈسپوز ایبل پلاسٹک کی کوئی بھی چیز لانا منع ہے۔ اس پر عمل درآمد کروانے میں ابھی کچھ عرصہ لگے گا کیونکہ سیر و سیاحت کے شوقین لوگ پلاسٹک سے بنی تھیلیوں و دیگر چیزوں کے بہت زیادہ عادی بن چکے ہیں۔ مگر ہم جانوروں کو محفوظ ماحول کی فراہمی میں کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔‘

وادئ نلتر میں پھیلا کوڑا کرکٹ
وادئ نلتر میں پھیلا کوڑا کرکٹ

طارق رحیم شاہ اسلام آباد میں مارگلہ ہلز کے قریب آرام گاہ اور ریسٹورینٹ چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس ماحول دوستی کے کلچر کو فروغ دینے کی خاطر کھانے پینے کی چیزیں مٹی اور شیشے سے بنے برتنوں میں پیش کرنے کا آپشن موجود ہے، مگر اس آپشن کے باوجود وہاں آئے سیاح برانڈڈ بوتل بند پانی پینے کی ہی ضد کرتے ہیں۔ لہٰذا میں خالی بوتلوں کو اکٹھا کرتا ہوں اور ان میں ریت بھر کر انہیں ماحول دوست اینٹ بنادیتا ہوں جس کا استعمال میں اپنی پناہ گاہ کی عمارت کی توسیع میں کرسکتا ہوں۔ یہ ماحول دوست اینٹیں عام اینٹوں کے مقابلے میں کم خرچ ثابت ہوتی ہوں اور کسی حد تک کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے۔‘

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کے لیے بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو قوم صاف ستھرائی کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی۔ کیا عوامی آگاہی، بھاری جرمانے اور سخت پابندیاں مسئلہ کا حل ہے؟

مثلاً خیبر پختونخوا حکومت نے کوڑے کرکٹ سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی کے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت چائلڈ اسٹار احمد شاہ کے ساتھ ایک اشتہار بھی تیار کیا گیا جسے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ گلیاٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کوڑے پھینکنے پر جرمانے عائد کردیے ہیں اور یہ ادارہ سیر و سیاحت کے لیے آنے والے افراد کے علاوہ 23 ہوٹلز، 18 ریسٹورینٹس، 16 کیبنز اور 6 رہائشی گھروں سے 1 لاکھ 43 ہزار روپے تک جرمانہ وصول کرچکا ہے۔ امید ہے کہ ماحول دوستی کے ان اقدامات پر عمل مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور دیگر صوبائی حکومتیں بھی آگے بڑھ کر اس حوالے سے اقدامات کریں۔

ہم مل کر کس طرح یہ کام انجام دے سکتے ہیں؟

چونکہ اس مسئلے نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ لیا ہوا ہے اس لیے مختلف اقسام کی حکمت عملی اور حل فراہم کرنے والوں کی ضرورت ہے۔

حکومت کمیونٹی سطح پر پلاسٹک سے بنی چیزوں کے استعمال کے خلاف قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی شہریوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔ مقامی آبادی کو بطور ٹؤرسٹ پولیس استعمال کیا جاسکتا ہے اور جرمانوں کے نفاذ اور اس سے حاصل ہونے والی رقم حکومت کے ساتھ بانٹی جاسکتی ہے۔ اس طرح ان کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور مقامی حکومتوں کے محدود بجٹ کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور ایک حد تک کوڑے سے جڑے مسائل میں بھی کمی آئے گی، کیونکہ کوئی بھی طریقہ قانون کے سخت اطلاق سے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ ڈسپوز ایبل پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کو بھی کوڑے کرکٹ کی صفائی میں شریک ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر کوڑا ان کی مصنوعات سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ یہ کمپنیاں کوڑا اٹھانے کے عمل یا کوڑے کی ریسائیکلنگ کے لیے مراکز قائم کرنے میں حکومت کی معاونت کرسکتی ہیں۔

حکومت، کارپوریٹ اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بڑی سطح پر اسکولوں میں آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے۔ ٹھیک جس طرح دنیا کے ایک سب سے صاف ملک سنگاپور میں اسکول کے نصاب میں شہری ذمہ داری کا درس بھی شامل ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری و نجی اسکولوں اور مدرسوں کے نصاب میں اس قسم کا مواد شامل کرنے کے ساتھ ساتھ مساجد کو آگہی کے عمل میں شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ خطبوں کے ذریعے شہری ذمہ داری پر زور دیا جائے اور لوگوں کی اس مسئلے کی جانب ذہنیت کو تبدیل کیا جاسکے۔

مزید پڑھیے: پاکستان عرف پلاسٹکستان

ہمیں حقیقی معنوں میں جس چیز سے چھٹکارا چاہیے وہ ہے ڈسپوز ایبل کلچر۔ اسٹیل سے بنی بوتلیں اور کپڑے سے بنی تھیلیوں یا سودا سلف لانے یا سیر و سیاحت کے لیے تنکوں سے بنی ہوئی ٹوکریاں اٹھانے میں کوئی زیادہ محنت تو درکار نہیں ہوتی۔ اپنے پھیلائے ہوئے کچرے کو ایک تھیلیی میں اکٹھا کرنے اور اسے کوڑا دان میں ڈالنے میں آپ کی بہت ہی کم توانائی خرچ ہوتی ہے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ ان چیزوں کا استعمال ہی محدود کردیا جائے۔ فیض علی کے مطابق ’اگر سارے کوڑے کو بھی اکٹھا کردیا جائے تو بھی مسئلہ یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا کیونکہ اسے ٹھکانے بھی لگانا ہوتا ہے۔ ہمیں کوڑا ہی محدود کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ہمیں اس سوچ میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ آپ کے پیدا کردہ کچرے کو اٹھانے کا کام کا کسی کم تر شخص کا فریضہ ہے۔ ایک دوست نے بتایا کہ جب وہ جاپان میں ٹرین میں سفر کر رہا تھا تب کوئی شخص اپنے پیچھے کوڑا چھوڑ کر اتر گیا، کوڑا دیکھ کر فوراً ایک خاتون آگے بڑھیں اور کچرا اٹھا کر قریب موجود کوڑا دان میں ڈال دیا۔ اسی طرح سوئیڈن سے شروع ہونے والی ’پلوگنگ‘ نامی سرگرمی اب دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں بھی خاصی مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ دراصل اس تصور کے تحت ہوتا یہ ہے کہ جاگنگ کرنے والے یا سیاح راستے پر پڑا کوڑا اٹھاتے ہیں۔ صاف ستھرے ملکوں میں دیگر کا کوڑا اٹھانا باعثِ شرم عمل تصور نہیں کیا جاتا بلکہ وہاں کوڑا اپنے پیچھے چھوڑ جانا باعث شرم عمل ہے۔

امید ہے کہ ایک دن یہی سوچ ہمارے قومی طور طریقے کا خاصہ بنے گی۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے ہر ایک کو پورے خلوص دل کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے۔


یہ مضمون 25 اگست 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔