سعودی تیل تنصیبات حملہ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2019

ای میل

ریاض دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے — فوٹو: اے پی
ریاض دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے — فوٹو: اے پی

سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن اس حملے کے بعد سے اس کی تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوگی۔

سعودی کمپنی آرامکو کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی فراہمی میں 5 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مقدار میں کمی کی وجہ سے طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوجائے گا جو مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے، امریکا

خیال رہے کہ یمن میں حوثیوں باغیوں کے خلاف جاری سعودی عرب کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کی کارروائیوں کے بعد متعدد مرتبہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے لیکن اس مرتبہ ابقیق اور خریص پر کیے جانے والے حملے ملکی صنعت پر اثر انداز ہوئے۔

ریاض، دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو یومیہ 70 لاکھ بیرل تیل سپلائی کرتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں مرکز برائے عالمی توانائی پالیسی سے وابستہ جیسن بروڈوف کا کہنا تھا کہ ابقیق دنیا میں تیل سپلائی کرنے والی بہت اہم آئل فلیڈ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ’جیسے کو تیسا‘ والے خطرے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خطرہ ہے جس میں اب تک نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد کو فون، تیل تنصیبات کے تحفظ کیلئے مدد کی پیشکش

سعودی عرب میں امریکی سفیر جان ابیزید کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے عام لوگوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، یہ حملے قابل قبول نہیں ہیں، کبھی نہ کبھی ان سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ اینڈریو موریسن نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب میں شہری آبادی اور تجارتی انفرا اسٹرکچر پر حملے نہ کریں۔

مرکز برائے عالمی پالیسی کے بانی ڈائریکٹر کامران بخاری کا کہنا تھا کہ ‘یہ سعودی حکام کے لیے نئی صورتحال ہے، انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ ان کی تیل کی تنصیبات کو فضا سے بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے‘۔

دوسری جانب آرامکو کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تمام تر صورتحال پر قابو بھی پالیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں ٹینکر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

خیال رہے کہ ان ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کرکے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش پر ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب دہشت گردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیلفونک رابطے کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

آرامکو آئل فیلڈ حملہ

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

سعودی حکام کے مطابق ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پالیا گیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کرلی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔

سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت مخالف حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔

امریکا نے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹہرایا، تہران نے الزام مسترد کردیا

امریکا نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جبکہ تہران نے واشنگٹن کے الزامات کو مسترد کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔

مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا تھا کہ کشیدگی ختم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے ’دنیا کی توانائی سپلائی‘ پر حملہ کیا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ میں ناکامی کے بعد اب مائیک پومپیو ’زیادہ سے زیادہ دھوکہ‘ دینے کی جانب چلے گئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ایران پر الزام عائد کرنے سے تباہی ختم نہیں ہوگی۔‘