ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد کو فون، تیل تنصیبات کے تحفظ کیلئے مدد کی پیشکش

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2019

ای میل

ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکا کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے — اے ایف پی/ فائل فوٹو
ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکا کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے — اے ایف پی/ فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کرکے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش پر ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب دہشت گردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیلفونک رابطے کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے یمن سے ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے

ان کا کہنا تھا کہ 'حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، عالمی برادری اس کی مذمت کرے'۔

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی ایران پر الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سعودی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں ایرانی آئل تنصیبات پر بمباری کی جانی چاہیے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب نے حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں پلانٹس سے تیل کی پیداوار عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پالیا گیا۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صبح 4 بجے آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے ڈرون حملے کے نتیجے میں ابقیق اور خریس کی سہولتوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے کام شروع کردیا تھا جبکہ واقعے میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں حملہ آوروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی اور کہا کہ وہ ابھی اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے 10 ڈرونز کی مدد سے ان دو آئل فیلڈز پر حملہ کیا تھا۔

حوثی باغیوں کے ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

خیال رہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد مارچ 2015 سے یمن میں حکومت کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں سے جنگ لڑ رہا ہے اور ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے اس طرح کے حملے کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی شیبہ میں آرامکو کے قدرتی گیس کے پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی البتہ کسی کے بھی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

سعودی عرب کی آرامکو، ابقیق میں واقع اپنی تیل کی فیکٹری کو دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا پلانٹ قرار دیتی ہے جہاں اس پلانٹ پر 2006 میں القاعدہ نے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔