’مہنگائی پر وضاحت دیں‘، حکومتی ارکان اسمبلی نے حفیظ شیخ کو طلب کرلیا

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

مشیر خزانہ عوام کا پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں، وہ پارلیمنٹ آکر یہاں مہنگائی پر وضاحت دیں— فائل فوٹو: اے پی پی
مشیر خزانہ عوام کا پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں، وہ پارلیمنٹ آکر یہاں مہنگائی پر وضاحت دیں— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: پارلیمنٹ میں صدر مملکت عارف علوی سے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سے متعلق خطاب سننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنے ہی اراکین کی جانب سے مہنگائی اور تعلیم کے شعبے میں خراب کارکردگی پر تنقید کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے پہلے 2 رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان اور راجا خرم شہزاد نے حکومت پر اسلام آباد کے کالجز میں طالب علموں کو داخلے سے منع کرنے کے معاملے پر تنقید کی جبکہ پارٹی کے پشاور سے منتخب رکن نور عالم خان نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو گیس، بجلی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

نور عالم خان نے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری سے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ 'مشیر خزانہ کو یہاں آنا چاہیے، وہ عوام کا پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں، وہ پارلیمنٹ آکر یہاں مہنگائی پر وضاحت دیں'۔

مزید پڑھیں: ’کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس نہ لیا گیا تو عالمی امن بحران کا شکار ہوسکتا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ 'مشیر خزانہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'بجلی اتنی مہنگی ہوگئی ہے مگر اس کی کوئی وضاحت کرنے والا نہیں ہے'۔

نور عالم خان جنہوں نے عام انتخابات سے چند روز قبل ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو خیرباد کہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی، انہوں نے یوریا کی قیمت پر 200 روپے فی بوری بڑھانے کے فیصلے پر حکومت سے سوالات کیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ 'آپ یوریا اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ نے روٹی کی قیمت کیوں بڑھائی ہے؟ نوکری پیشہ افراد اب کس طرح سے اپنا گزارا کریں گے؟'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم یہاں صرف ڈیسک بجانے نہیں آتے، ہم یہاں غریبوں کی بات کرنے آتے ہیں، لعنت ہو ان پر جو غریبوں کے ووٹ سے منتخب ہوئے اور ان کی بات ہی نہیں کرتے'۔

پی ٹی آئی رکن نے اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ 'اگر کسی کو میری بات پسند نہیں آتی تو میں اپنی نشست قربان کرنے کو تیار ہوں'۔

تحریک انصاف کے قانون ساز نے موجودہ احتساب کے عمل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 'احتساب حقیقی انداز میں کیا جانا چاہیے یا پھر اسے بند کردینا چاہیے، 2 یا 3 افراد کو پکڑنے سے احتساب مکمل نہیں کیا جاسکتا'۔

یہ بھی پڑھیں: بحران سے نکل کر مستحکم دور میں داخل ہوگئے، مشیر خزانہ

واضح رہے کہ 12 ستمبر کو نئے پارلیمانی سال کے موقع پر آئینی طور پر ضروری صدر مملکت کے پارلیمانی خطاب میں انہوں نے حکومت کی ہر شعبے میں کارکردگی کو سراہا تھا، بالخصوص انہوں نے حکومت کی معاشی ٹیم کو ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اقدامات کرنے پر سراہا تھا۔

قبل ازیں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے علی نواز اعوان اور راجا خرم نے ایوان کی توجہ اسلام آباد کے اسکول اور کالجز میں داخلہ نہ دیے جانے پر طالب علموں کو درپیش مشکلات کی طرف مبذول کروائی تھی۔

دونوں قانون سازوں نے پرنسپلز اور تعلیمی اداروں کے سربراہان پر داخلہ نہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے یومیہ اجرت پر اساتذہ کی سروسز ریگولرائز نہ کرنے اور نئی بھرتیاں نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔