42 روز میں کرپشن سےمتعلق ایک سوال نہیں کیا گیا، مریم نواز

18 ستمبر 2019

ای میل

مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، فوٹو: عدنان شیخ
مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، فوٹو: عدنان شیخ

لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی اور انہیں 25 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے منتظم جج چوہدری امیر محمد خان نے مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس دوران نیب کی طرف سے خصوصی پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ اعوان اور حارث قریشی پیش ہوئے جبکہ ملزمان مریم نواز اور یوسف عباس کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

دوران سماعت نیب نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کی استدعا کی اور کہا کہ اسما نواز، کلثوم نواز، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف کے اہل خانہ بھی چوہدری شوگر ملز میں شامل تھی۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع

تفتیشی افسر نے بتایا کہ چوہدری شوگر ملزم 1992 سے ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہے،70 کروڑ میں شوگر ملز قائم ہوئی جس میں 40 کروڑ بینک کا قرض شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کی آمدنی اور ٹیکس کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے جبکہ نواز شریف کے اہل خانہ کی 9 آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

دلائل کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا چوہدری شوگر ملز کے لیے ای ایف ایف انٹرپرائزز سے 3 کروڑ روپے قرض لیا اور پنجاب کارپیٹس سے ایک کروڑ روپے قرض لیا گیا۔

اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ نیب جو بھی تفتیش کرتا ہے اسی پر شام کو ٹی وی اینکرز پروگرامز کر رہے ہوتے ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ آپ اس پر بات نہ کریں، استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے دیں پھر آپ کو بھی سنیں گے۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ ڈالز آف شور کمپنیوں نے چوہدری شوگر ملز کو قرض دیا، یہ رقم کمپنی کے نام پر بیرون ملک سے آئی تھی جبکہ مریم اور یوسف عباس نے دوران تفتیش آف شور کمپنیوں سے اس رقم کی وصولی کی وضاحت نہیں کی، اس پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ 23 کروڑ روپے یوسف عباس اور عبدالعزیز کے اکاؤنٹس میں دبئی سے رقم آئی جس کی تفتیش کرنا باقی ہے، چوہدری شوگر ملز کے 2 بینک اکاؤنٹس میں 90 کروڑ روپے نقد جمع کروائے گئے مگر رقم جمع کروانے والے کا نام نہیں بتایا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ وہ شخص ان کا ملازم ہے مگر رقم جمع کروانے والے شخص کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے چوہدری شوگر ملز کے مالیاتی امور کی تفصیلات طلب

اس موقع پر مریم نواز کے وکیل نے دلائل دینا شروع کیے اور جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ تفتیشی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ 1992 میں میاں شریف کے نام پر تمام جائیدادیں تھیں،1992 سے 1999 تک میاں شریف نے جائیدادیں اپنے بچوں کے نام منتقل کیں، جس کے بعد پرویز مشرف کا دور آیا اور اہل خانہ کے افراد بیرون ملک چلے گے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے امجد پرویز نے کہا کہ 2016 سے ان کے موکل کے پاس کوئی شیئرز نہیں ہیں جبکہ یوسف عباس نے بھی کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھا نہ ہی اس سے متعلق کوئی شہادت پیش کی گئیں۔

دوران سماعت ملزمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ محظ رقم اکائونٹ میں آنے پر الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ رقم اکائونٹ میں آنا کوئی جرم نہیں ہے، کوئی بھی ایسی وجہ اب موجود نہیں کہ ملزموں کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے آج پرانی باتوں کو ہی بنیاد بنا کر جسمانی ریمانڈ مانگا ہے۔

اس موقع پر عدالت میں موجود مریم نواز نے نیب کی تفتیشی رپورٹ مسترد کر دی۔

مریم نواز نے کہا کہ مجھ سے ایک روپے کی کرپشن کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا، 42 روز میں کرپشن کا سوال نہیں کیا گیا، بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کے دادا نے آپ کو کاروبار کیوں دیا۔

مزید پڑھیں: نیب کا مریم نواز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں، منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز

لیگی نائب صدر نے کہا کہ میں ایک سو ایک دفعہ بتا چکی ہوں کہ کوئی اپنے ہی بچوں کو جائیداد کا حصہ دیتا ہے کسی ہمسائے کو تو نہیں دیتا؟، اگر ان کو دستاویزات کی ضرورت تھی تو کیوں مجھے ابتدائی طور پر گرفتار کیا، گرفتاری کے بعد کوئی کیسے دستاویزات لا کر دے سکتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے سیاسی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ میں جلسے کر رہی تھی۔

بعد ازاں عدالت میں مریم نواز کی بات مکمل ہونے پر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کردی۔

چوہدری شوگر ملز کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو 10، مریم نواز کو 7 سال قید بامشقت

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔

جس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی اور آخری مرتبہ عدالت نے انہیں 4 ستمبر کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔