پاکستانی استاد احمد سایا نے دنیا کے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ جیت لیا

21 ستمبر 2019

ای میل

ایوارڈ 2019 کیلئے 4 ہزار اساتذہ کو نامزد کیا گیا، پاکستانی استاد نے اسے ورلڈکپ جیتنے کے مترادف قرار دیا۔— فوٹو: اسکرین شاٹ یوٹیوب
ایوارڈ 2019 کیلئے 4 ہزار اساتذہ کو نامزد کیا گیا، پاکستانی استاد نے اسے ورلڈکپ جیتنے کے مترادف قرار دیا۔— فوٹو: اسکرین شاٹ یوٹیوب

کراچی سے تعلق رکھنے والے استاد احمد سایا نے دنیا کی معروف ترین کیمبرج یونیورسٹی کے ڈیڈیکیٹڈ (پرعزم ترین) ٹیچر 2019 کا ایواڈ جیت لیا۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق احمد سایا طلبہ کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والے سال 2019 کے بہترین استاد ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ جامعہ نے ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایوارڈ 2019 کے لیے دنیا بھر سے 4 ہزار اساتذہ کو نامزد کیا گیا تھا جس میں 50 کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا۔

ان شارٹ لسٹ کیے گئے اساتذہ میں آخری 6 کے درمیان حتمی مقابلہ ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ ووٹ پاکستانی استاد احمد سایا کو ملے جس کے ساتھ ہی وہ سال کے بہترین استاد ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

ان آخری 6 اساتذہ کا تعلق پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، سری لنکا، ملائیشیا اور فلپائین سے تھا۔

مزید پڑھیں: کیمبرج یونیورسٹی پریس کے 'ڈیڈیکیٹڈ ٹیچر ایوارڈز' کیلئے پاکستانی نامزد

احمد سایا گزشتہ 18 سال سے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جنہوں نے فاؤنڈیشن پبلک اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اکاؤنٹنگ اور ریاضی کا اپنا شوق پورا کرنے کے لیے انہوں نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی برطانیہ سے اپلائیڈ اکاؤنٹنگ میں گریجویشن مکمل کیا۔

بعد ازاں انہوں نے انسٹیٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنٹ (آئی او بی ایم) سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

اس وقت احمد سایا اے لیول کے مختلف اسکول اور کالجز سے وابستہ ہیں جو اکاؤنٹنگ اور ریاضی کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ او اینڈ اے لیول کے اساتذہ کے لیے ٹریننگ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔

وہ سائیکومیٹرک ٹیسٹنگ اور کاؤنسلنگ کے ادارے ’ریویل پاکستان‘ کے چیف آپریٹنگ افسر (سی او او) بھی ہیں جہاں وہ طلبا کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان کی کمزوریوں کو سامنے لانے میں ان کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ صحیح سمت میں جاتے ہوئے اپنے کیریئر کا انتخاب کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’سندھ کے ایک لاکھ 35ہزار اساتذہ ریاضی، سائنس نہیں پڑھا سکتے‘

اس کے ساتھ ساتھ احمد سایا پسماندہ طالبعلموں کے لیے بنائے گئے ایک اسکول ’دی برج اسکول‘سے بھی وابستہ ہیں۔

کیمبرج کے مطابق احمد سایا کو اسکول مکمل کرنے کے بعد اپنے طلبا کی زندگی سنوارنے کے اعزاز میں ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز کے لیے نامزد کیا گیا۔

احمد سایا کا کہنا ہے کہ ’پڑھانا ایک کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جو کلاس کے اختتام کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے طالب علموں کو صرف نصابی تعلیم نہیں دینا چاہتا، یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں اعلیٰ کردار، اخلاقیات اور حسن عمل کی تعلیم دوں۔‘

مزید پڑھیں: تعلیم اور دیہی ترقی کیلئے یورپی یونین 10کروڑ یورو کی امداد پاکستان کو دے گا

بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں روشن مستقبل ہر بچے کا حق ہے اور انہیں ان کے خواب پورے کروانے میں جو بھی کردار ادا کرسکتا ہوں اس پر میں خوش ہوں۔‘

احمد سایہ نے ایوارڈ جیتنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے ان تمام طلبہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بارے میں سوچا، مجھے ان پر فخر ہے اور امید کرتا ہوں کہ میں ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لایا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایوارڈ جیتنے کے بعد میں اپنے آپ کو ایک بادشاہ کی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

احمد سایا نے ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایواڈ کو اپنے ملک کے لیے ورلڈکپ جیتنے کے برابر قرار دے دیا۔