سعودیوں کی فیاضیاں اور ہمارے رہنماؤں کی عاجزیاں

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2019

ای میل

اب اس سے بڑھ کر عاجزی اور کیا ہوگی کہ ایک خوش مزاج گہری رنگت والا وزیرِاعظم خود آپ کا ڈرائیور بن جائے؟ (کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹریڈیو اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ان کی گہری رنگت مصنوعی تھی۔)

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وزیرِاعظم عمران خان کی اعلیٰ مہمان نوازی نہیں بھولے ہیں۔ اس مہمان نوازی کے بدلے ولی عہد نے عمران خان کے لیے اسلام کے مقدس ترین مقام کعبتہ اللہ کے دروازے کھول دیے، یہ ایک ایسی مہربانی ہے جو سعودی والے صرف انہی افراد پر کرتے ہیں جن کی قربت انہیں قبول ہوتی ہے۔

بعدازاں جب ولی عہد کو معلوم چلا کہ عمران خان اور ان کا اقتصادی وفد عام کمرشل پرواز کے ذریعے امریکا جارہا ہے تو انہوں نے اس سفر کے لیے اپنا ذاتی طیارہ پیش کردیا۔ البتہ یہاں اگر دردِ سر بننے والے یمنیوں کا معاملہ ہوتا تو وہ اپنا یہ اڑن محل خود ہی اڑاتے۔

برسا برس سے پاکستانی حکمران اس قسم کی بے ساختہ سعودی فیاضیوں کے عادی بن چکے ہیں۔

دسمبر 2000ء کے وسط میں برطرف کیے جانے والے وزیرِاعظم نواز شریف کو قلعہ اٹک سے رہا گیا جہاں انہیں اغوا کاری، ہائی جیکنگ اور بدعنوانی کے جرم میں دی گئی عمر قید کی سزا کاٹنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ نواز شریف 14 ماہ تک اس جیل میں محصور رہے اور پھر اچانک وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سعودی شاہی خاندان کے طیارے میں سوار ہوکر پاکستان بدر ہوگئے۔ مکہ آمد کے فوراً بعد انہوں نے اپنی غیر متوقع نجات کے شکرانے کے طور پر عمرہ ادا کیا۔

مارچ 2004ء میں جب صدر جنرل پرویز مشرف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تب اس وقت کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید (جو اس وقت عمران خان کی کابینہ کے کافی باتونی وزیرِ ریلوے ہیں) کے مطابق انہوں نے ’کشمیر، فلسطین، عراق اور افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی۔‘

شیخ رشید نے بڑے ہی شوخ و جذباتی انداز میں یہ بھی بتایا تھا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف وہ واحد پاکستانی رہنما ہیں جنہیں عمرہ ادائیگی کے بعد کعبتہ اللہ کی چھت پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔‘

بعدازاں 2016ء میں مشرف نے ایک انٹرویو کے دوران یہ انکشاف کیا کہ ’پاکستان چھوڑنے کے چند ماہ بعد عمرہ ادائیگی کے لیے جب وہ سعودی عرب پہنچے تو وہاں سعودی فرماں رواں شاہ عبداللہ نے ان سے پوچھا کہ ان کی رہائش کہاں ہے؟ پرویز مشرف نے بتایا کہ شاہ عبداللہ انہیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتے تھے اور انہوں نے ان کے لیے لندن میں ایک بینک اکاؤنٹ کھلوایا جس میں بڑی رقم جمع کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ آدھی رات کو سعودی افسران کی ایک ٹیم ان کے پاس آئی اور بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے مطلوب کاغذات پر دستخط لیے۔‘

ابھی حال ہی میں سعودیوں کی جانب سے جنرل راحیل شریف (20 سے زائد برس بعد مدت ملازمت میں توسیع کے بغیر ریٹائرڈ ہونے والے پہلے آرمی چیف) کو پُرکشش تنخواہ کے عوض آسان ملازمت پر رکھا گیا ہے۔ انہیں سعودی عرب کی زیرِ قیادت دہشتگردی کے خلاف بننے والے اسلامی عسکری اتحاد کے کمانڈر اِن چیف کے طور پر ملازمت پر رکھا گیا ہے۔

آپ ضرور یہ سوچتے ہوں گے کہ عبیق اور خریس کے مقامات پر موجود تیل کی تنصیبات پر شدید نقصان پہنچانے والے حملوں کی پیش بینی نہ کرنے پر انہوں نے اپنے مالکوں کو نہ جانے سے کون سی وضاحت پیش کی ہوگی؟

ایک خبر میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ وہاں موجود سعودی دفاعی نظام ’غیر مؤثر ثابت ہوا... کیونکہ یہ نچلی پروازوں کے اہداف کی ٹریکنگ اور انہیں انگیج کرنے میں ناکام رہا۔‘

دوسری طرف برطانوی اخبار گارجین نے ایک مختلف وضاحت پیش کی ہے، جس کے مطابق ’(سعودی) دفاعی نظام کا رخ غلط سمت کی طرف تھا، اس نظام کو ایران کی جانب پورے خلیجی خطے اور یمن کی جانب جنوبی علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا۔‘

کسی زمانے میں اسرائیلیوں نے معمول سے ہٹ کر 3 ریورس اور ایک فارورڈ گیئر کی خصوصیات کے ساتھ ڈیزائن کیے جانے والے مصری ٹینک کا مذاق اڑایا تھا۔ چونکہ اسرائیلی سامنے سے حملہ آور ہوسکتے تھے اس لیے 3 ریورس گیئر رکھے گئے جبکہ ایک گیئر رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی پیچھے سے خلافِ توقع حملہ بھی کرسکتے تھے۔

ریاض میں سعودی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ کی جانب سے منعقد ہونے والی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کچھ خاص وضاحت حاصل نہیں ہوسکی۔ وزیرِ مملکت نے بتایا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ’یہ حملے یمن سے نہیں کیے گئے بلکہ شمال کی جانب سے کیے گئے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سعودیوں نے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک سے ان حملوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سعودی حکام اس جارحیت کے جواب کے لیے ’مناسب طریقہ کار‘ کا فیصلہ کریں گے۔

اس سے بڑھ کر مہربان یا خطا بخش، یا تاخیر پسند اعلامیہ آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ سے ڈرون اور میزائل حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرکے جان بوجھ کر معاملے میں تاخیر کی جارہی ہے۔ نہ سعودی ولی عہد اور نہ ہی عمران خان کو یہ بات یاد آئے گی کہ بینظیر بھٹو کی موت کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے 3 رکنی کمیشن نے 9 ماہ کا وقت لیا تھا، مگر اتنا وقت لینے کے بعد بھی کمیشن نے تحقیقات کا نتیجہ یہ نکالا کہ ’سنجیدہ اور قابلِ بھروسہ فوجداری تحقیقات کی ذمہ داری پاکستانی حُکام پر ہی عائد ہوتی ہے۔‘

ایک عاجزانہ سا سوال یہ ہے کہ سعودیوں نے ہمارے نمائندگان پر دل اور بٹوے کھول کر جو فیاضیاں کیں ان سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ اور ہمارے رہنما خوشامدانہ احسان مندی کے چکر میں خود کو اتنا کیوں جھکا دیتے ہیں؟

افواہیں گردش میں ہیں کہ سعودی والے پس پردہ اپنے پرانے پسندیدہ رہنما نواز شریف کو آزاد کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو ایک بار پھر جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ وزیرِاعظم عمران خان نے قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ وہ کسی صورت انہیں رہا نہیں کریں گے۔ تاہم ان کا ریکارڈ دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی بھی ضرورت پڑجائے تو وہ یوٹرن لینے سے گریز نہیں کرتے۔

دوسری طرف اس ایک خاصیت پر نواز شریف کی اہلیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جو ان کے جانشین کو ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہے۔ جناب وہ 2 بار سزا یافتہ ہوچکے ہیں۔

یہ مضمون 26 ستمبر 2019ء کو شائع ہوا۔