سرفراز نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2019

ای میل

سرفراز نے ٹیم میں کم بیک کرنے والے عمر اکمل اور احمد شہزاد کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
سرفراز نے ٹیم میں کم بیک کرنے والے عمر اکمل اور احمد شہزاد کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ ایک عرصے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے بلے بازوں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے تجربہ کار عمر اکمل اور احمد شہزاد کی ایک عرصے بعد ٹیم میں واپسی ہوئی ہے لیکن پہلے ٹی20 میچ میں دونوں ہی کھلاڑی کچھ قابل ذکر کھیل پیش نہ کر سکے۔

مزید پڑھیں: محمد حسنین نے ٹی20 کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا

عمر اکمل 3سال بعد اپنے پہلے ٹی20 میچ میں گولڈن ڈک پر آؤٹ ہوئے جبکہ احمد شہزاد بھی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکے۔

مذکورہ میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن بدترین ناکامی سے دوچار ہوئی اور ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم کے خلاف 166 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 101 رنز پر ڈھیر ہو کر تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کے خسارے سے دوچار ہوئی۔

پہلے ٹی20 میچ میں ناکامی کے باوجود کپتان سرفراز احمد نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دومیسٹک سیزن اور پی ایس ایل میں ان دونوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہم میں واپس آنے والے کھلاڑیوں مکلمل مواقع دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں کیونکہ دونوں تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور سیٹ ہونے کے بعد کارکردگی دکھائیں گے، انہیں بطور کپتان میری مکمل حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے میچ میں حارث سہیل اور فخر زمان کو نہ کھلانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ان کے نمبروں پر کھلانے کی کوشش کی، اگر فخر زمان کھیلتے تو احمد شہزاد کو ون ڈاؤن پر کھیلنا پڑتا لہٰذا میں نے اور کوچ مصباح الحق نے احمد شہزاد کو بطور اوپنر آزمانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمیں اس نمبر پر ان سے بہتر کھلاڑی نہیں مل سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: نمبر ون پوزیشن پر ہونے کے باوجود شکست پر دکھ ہوتا ہے، مصباح الحق

انہوں نے کہا کہ ہمیں حارث سہیل کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں لیکن ہم عمر اکمل کو ان کے نمبر پر کھلانا چاہتے تھے اس لیے ہم نے حارث کو ڈراپ کیا، ہم نے ہار اور جیت سے قطع نظر ٹیم میں 6 نئے کھلاڑی شامل کیے، ہم انہیں کھلا کر اعتماد دینا چاہتے کیونکہ ٹیم میں کم بیک کرنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے آسان نہیں ہوتا، اگر آپ ڈومیسٹک میں اچھا پرفارم کرتے ہیں تو انٹرنیشنل کرکٹ میں کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ اننگز درکار ہوتی ہیں۔

عالمی نمبر ایک پاکستان کی 2018 میں کارکردگی انتہائی شاندار رہی تھی جہاں قومی ٹیم نے 19 میں سے 17 ٹی20 میچوں میں فتح اپنے نام کی تھی البتہ 2019 میں قومی ٹیم اپنے 5 میں سے 4 میچ ہار چکی ہے۔

ٹیم کی موجودہ شکستوں خصوصاً پاکستان کا دورہ کرنے والی نسبتاً کمزور سری لنکن ٹیم کے خلاف ناکامی کے حوالے سے سرفراز نے کہا کہ ٹی20 میں کسی بھی ٹیم کو آسان تصور نہیں کیا جا سکتا، سری لنکا نے ہم سے بہتر کھیل پیش کی جس پر انہیں کریڈٹ دینا چاہیے، وہ ہمارا بُرا دن تھا اور ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی لیکن ہم سیریز میں کم بیک کریں گے اور شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔