کراچی میں محض30 روپے کرائے پر متعدد پیٹرول پمپ لیز پر دینے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2019

ای میل

شہر قائد کی متعدد سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے—فائل فوٹو: علی رضا کتھری
شہر قائد کی متعدد سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے—فائل فوٹو: علی رضا کتھری

ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی میں پوش علاقوں میں 30 اور 100 روپے کرائے پر متعدد پیٹرول پمپ لیز پر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ نے کیا۔

سینیٹر میر کبیر شاہی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے شرکت کی اور کراچی کے معاملے پر بات کی۔

دوران اجلاس وفاقی وزیر نے بتایا کہ کراچی میں کئی قیمتی زمینوں پر قبضہ ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر اس قبضے کو خالی کروانے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ جب زمین پر قبضہ خالی کروانے کے لیے انتظامیہ کے لوگ گئے تو لوگوں نے گھروں میں خواتین کو بند کرکے تالہ لگا لیا اور کہا کہ اب اس پر بلڈوزر چلا دیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ شہر قائد میں مہنگی ترین زمینوں پر غنڈوں کا قبضہ ہے، غیرقانونی طریقے سے لوگ سرکاری زمین پر بدمعاشی سے قابض ہیں، ہم زبردستی نہیں چاہتے لیکن ان قیمتی زمینوں سے قبضہ ہر صورت خالی کروائیں گے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے بات جاری ہے اور کراچی میں سرکاری زمینوں پر قبضہ خالی کروائیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی کے پوش علاقوں میں 30 سے 100 روپے کرائے کی بنیاد پر پیٹرول پمز لیز پر دینے کا انکشاف بھی کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی کے پوش علاقوں میں قیمتی زمینوں پر پیٹرول پمز ہیں، جس میں کوئی پیٹرول پمز 30 تو کوئی 100 روپے کرایہ ادا کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ پیٹرول پمز ان علاقوں میں ہیں، جہاں کوئی عام شخص کرائے پر جگہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ایک پمپ تو شاہراہ فیصل پر بھی قائم ہے، کیا شاہراہ فیصل پر کوئی 30 یا 35 روپے میں کسی جگہ کو ہاتھ لگانے دے گا؟

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان پیٹرول پمز کی لیز پر 1960 سے کوئی نظرثانی نہیں کی گئی، اس پر جب بھی نظرثانی کی کوشش کی جاتی تو کوئی نہ کوئی حکم امتناع لے آتا ہے۔

اسی دوران انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر کوئی ایسا پیٹرول پمپ ہے جس کا کرایہ 30 یا 35 روپے ہے تو مجھے بھی دلوادیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں800 دکانیں مسمار

خیال رہے کہ شہر قائد میں تجاوزات، سرکاری زمینوں، پارکس پر قبضے کے خلاف متعدد درخواستوں کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعتیں ہوچکی ہیں، جس میں عدالت عظمیٰ نے شہر قائد سے تجاوزات اور ان زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے احکامات پر ابتدائی طور کراچی میں بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز تو کیا گیا تھا، اسی سلسلے میں مشہور زمانہ ایمپریس مارکیٹ صدر کے اطراف قائم دکانوں اور تجاوزات کو مسمار کردیا گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے سرکاری زمینوں، نالوں پر قائم متعدد مارکیٹس کو بھی تجاوزات کے نام پر ختم کردیا تھا، تاہم سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم کروانے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور اب بھی شہر قائد کی متعدد زمینیں قبضہ مافیا کے پاس موجود ہیں۔