پنجاب میں کامیابی کے بعد 'ویمن آن وہیلز' پروگرام کا کراچی میں آغاز

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2019

ای میل

کراچی میں اس پروگرام کو نومبر میں لانچ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے — فوٹو/ اے ایف پی
کراچی میں اس پروگرام کو نومبر میں لانچ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے — فوٹو/ اے ایف پی

صوبہ پنجاب میں شروع کیے جانے والے 'ویمن آن وہیلز' پروگرام کی کامیابی کے بعد اب جلد ہی اس کا آغاز ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی کردیا جائے گا۔

پنجاب میں شروع کیے گئے اس منصوبے میں ان مسائل پر توجہ دی گئی تھی جو سفر کے دوران خواتین کو پیش آتے ہیں، اسی کو دیکھتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انہیں موٹر سائیکل چلانے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔

اس پروگرام کی کامیابی کے بعد اب اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کراچی میں 'ویمن آن وہیلز' کی افتتاحی تقریب رواں سال 25 نومبر کو منعقد ہوگی۔

یاد رہے کہ 2016 میں حکومت پنجاب کے اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ نے 40 خواتین کے ساتھ اس منصوبے کی ابتدا کی تھی، جس کے تحت 5 ہزار سے زائد خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی تھی۔

اس ہی منصوبے کے تحت گزشتہ سال 700 سے زائد خواتین کو سبسڈی پر موٹر سائیکل بھی فراہم کی گئی۔

یہ بھی دیکھیں: لاہور میں ویمن آن ویلز

اس حوالے سے 'پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016' متعارف کرانے والے سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں ویمن آن وہیلز کو نومبر میں متعارف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستانی خواتین کو ہر روز دیگر مقامات پر جنسی ہراساں کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواتین اب خود کو گھروں سے باہر محفوظ محسوس نہیں کرتیں، تاہم ان کا ان مقامات میں رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کا ہے'۔

سلمان صوفی کے مطابق یہ پروگرام بہت اہم ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ حکومت اسے آگے بڑھائے، انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال وہ خود اس کی مالی معاونت کر رہے ہیں اور سول سوسائٹی کی مدد سے اسے دوبارہ متعارف کرویا جارہا ہے'۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سندھ سے رابطے میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ باضابطہ طور پر اس پروگرام کی توثیق کریں گے۔

واضح رہے کہ ویمن آن وہیلز پروگرام کا مقصد خواتین کو بااختیار اور خود مختار بنانا ہے تاکہ وہ ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

سلمان صوفی کے مطابق اس وقت خواتین کی بڑی تعداد ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے اپنے گھر کے مردوں پر انحصار کرتی ہے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ خواتین کے لیے شروعات میں موٹر سائیکل سے بہتر انتخاب کوئی اور نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے تحت موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ حفاظتی ورک شاپس بھی رکھی جائیں گی جبکہ مکمل تربیت کے بعد نوکری تلاش کرنے میں ان کی مدد بھی کی جائے گی۔

سلمان صوفی کے مطابق تربیت فراہم کرنے کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔

وہ خواتین جو اس پروگرام میں حصہ لینے کی خواہش مند ہیں انہیں رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر اور گھر کا پتہ درج کروانا ہوگا۔