تصادم اور غنڈہ گردی سے ریاست کو یرغمال نہیں بننے دیں گے، فردوس عاشق اعوان

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2019

ای میل

حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کی اجازت دی، فردوس عاشق اعوان — فوٹو: ڈان نیوز
حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کی اجازت دی، فردوس عاشق اعوان — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور مسائل کے حل کے لیے مل کر بات کرنے کو تیار ہیں جبکہ تصادم اور غنڈہ گردی سے ریاست کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

آزادی مارچ کے شرکا سے مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'چند دنوں سے اسلام آباد میں ایک تھیٹر چل رہا ہے، کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسلام آباد آئے، ہم نے احتجاج کرنے والوں کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہا اور پہلی بار ہوا کہ حکومت مارچ کرنے والوں کے پاس مارچ سے پہلے گئی۔'

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کی اجازت دی، دنیا کا کوئی مذہب الزام تراشی کی اجازت نہیں دیتا لیکن خود کو عالم دین کہنے والے بہتان تراشی کر رہے ہیں، دھرنے میں جو کچھ ہو رہا ہے سب دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان پر ذاتی حملے کیے گئے اور 2 بڑی جماعتوں نے مولانا کے بیانیے سے اختلاف کیا۔

یہ بھی پڑھیں: یہاں سے پسپائی نہیں پیش رفت کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے مذہب کارڈ استعمال کیا جس کی مذمت کرتے ہیں، مولانا کے دھرنے سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز کو ہوا تاہم سیاسی جماعت ہوتے ہوئے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور مسائل کے حل کے لیے مل کر بات کرنے کو تیار ہیں تاہم مذاکرات کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے جبکہ تصادم اور غنڈہ گردی سے ریاست کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کی 15 سیٹیں پی ٹی آئی کی 156 سیٹوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، وہ معاہدے پر عمل کریں گے تو حکومت ہر مسئلے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، وزیر اعظم کے اشارے پر اس سے بڑا مجمع اکٹھا ہوسکتا ہے تاہم امید ہے کہ مولانا تصادم سے بچ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمٰن سے مارچ کو محفل میلاد مصطفیٰ ﷺ میں تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس مبارک ماہ میں ہمیں انتشار سے بچنا چاہیے۔