لائیو

جمعیت علمائے اسلام (ف)کا شہر اقتدار میں آزادی مارچ

سیاسی منظرنامے سے متعلق اہم خبریں، تبصرے اور آرا

تازہ ترین
12:27 AM

اب تحریک کو اتنی طاقت دی جائے گی کہ حکومت کا سنبھلنا ممکن نہیں ہوگا، فضل الرحمٰن

12 نومبر ,2019
8:41 PM

جے یو آئی (ف) کے پلان 'بی' پر کل سے عملدرآمد شروع ہوگا، ذرائع

5:54 PM

جے یو آئی (ف) نے اپنے پلان 'بی' کو حتمی شکل دے دی

4:30 PM

ہم ڈی چوک کی طرف نہیں جائیں گے، مولانا راشد سومرو

1:46 PM

'فضل الرحمٰن مظلوم کارکنوں کو پارلیمان میں جانے کی خواہش کی بھینٹ نہ چڑھائیں'

11:46 AM

آزادی مارچ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے جے یو آئی کا مشاورتی اجلاس طلب

11:15 AM

احتجاج کو وسعت دیں یا نہیں، جے یو آئی (ف) میں اتفاق نہ ہوسکا

1:26 AM

ناجائز اور بدبودار حکومت کا خاتمہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

11 نومبر ,2019
7:07 PM

تمام سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہیں، مشاہداللہ خان

6:57 PM

'کس صوبے میں کونسی شاہراہ کو مکمل بند کرنا ممکن ہے'

4:52 PM

رجسٹرار پی ایم ڈی سی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات

4:41 PM

ۤآزادی مارچ: 'حکومت کی غیر سنجیدگی اسے لے ڈوبے گی'

3:22 PM

وزیر اعظم کے استعفے کے برابر کا معاہدہ قابل قبول ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

3:21 PM

جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

3:09 PM

جے یو آئی (ف) کی قیادت آج 'پلان بی' پر مشاورت کے لیے ملاقات کرے گی

10:14 AM

راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سروس کو 4 کروڑ روپے کا خسارہ

9:49 AM

چھٹی نہ ملنے پر پولیس اہلکار نے گلے پر بلیڈ پھیر لیا

1:23 AM

'نااہل حکومت کی وجہ سے پہلی بار اقبال کا دن گرونانک کے نام ہوگیا'

10 نومبر ,2019
9:41 PM

جے یو آئی (ف) نے حکومت کےخلاف پلان 'بی' پر عملدرآمد کی حکمت عملی تیار کرنا شروع کردی

4:35 PM

ہم چاہتے ہیں کہ دھرنا جلد سے جلد ختم ہو، قاسم سوری

3:58 PM

دھرنے کے مقام پر بڑی ٹنکیاں لائی گئیں تاکہ شرکا وضو کرسکیں

3:51 PM

ہم نے آج تک اتنی بڑی سیرت کانفرنس تاریخ میں نہیں دیکھی، مولانا فضل الرحمٰن

11:22 AM

جے یو آئی کا وزیراعظم پر 'مغرب حمایتی' ہونے کا الزام

1:08 AM

اگلے ہفتے ہمارا نیا لائحہ عمل سامنے آجائے گا، اکرم درانی

1:00 AM

ربڑ اسٹمپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے، مولانا فضل الرحمٰن

09 نومبر ,2019
5:59 PM

آزادی مارچ میں سیرت طیبہ کانفرنس

1:48 PM

مذاکرات کے لیے آؤ تو استعفیٰ ساتھ لاؤ، فضل الرحمٰن

1:16 PM

موسمی تبدیلی سے جڑواں شہروں کے شرکا اپنے گھروں کو روانہ

12:29 PM

دھرنا کے شرکا کیلئے جیکٹس لانے والی گاڑی لاپتا

08 نومبر ,2019
10:22 PM

نواز شریف کی شہباز شریف کو فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت

7:25 PM

مذاکرات بامقصد ہونے چاہئیں، مولانا عبدالغفور حیدری

6:22 PM

مریم نواز کی ہدایت پر لیگی رہنماؤں کی مولانا فضل الرحمٰن سے خفیہ ملاقات

3:11 PM

جے یو آئی کی 12 ربیع الاول کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کی تیاریاں

2:33 PM

آزادی مارچ کے پڑاؤ کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی متاثر

1:44 PM

حکومتی کمیٹی میں وزیراعظم کو جے یو آئی کے مطالبات بتانے کی ہمت نہیں، خواجہ آصف

1:18 PM

یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیگی رہنما

12:42 PM

اپوزیشن جماعتیں جمہوریت چاہتی ہیں تو مذاکرات کریں، وزیر دفاع

11:30 AM

آزادی مارچ کا 8 واں دن، سخت سردی میں شرکا موجود

1:21 AM

وزیر اعظم 'انتخابی دھاندلی' پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے تیار ہیں، پرویز الہٰی

07 نومبر ,2019
11:29 PM

ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، حکومت ٹائم پاس کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

5:33 PM

آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا موڑ اختیار کرے گا، اکرم خان درانی

4:37 PM

پرویز الہیٰ کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، 'جلد قوم کو خوشخبری دیں گے'

3:44 PM

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس جاری

3:06 PM

پرویز الہیٰ کی مولانا فضل الرحمٰن سے مسلسل چوتھے روز ملاقات

1:00 PM

اسلام آباد اور راولپنڈی میں کل تک سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان

12:58 PM

بارش اور سردی بھی آزادی مارچ کے شرکا کے حوصلے پست نہ کر سکی

12:46 PM

رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

12:43 PM

جے یو آئی کا آزادی مارچ کے دوران سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان

06 نومبر ,2019
11:26 PM

دھرنا سیاسی سرگرمی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

9:35 PM

آزادی مارچ اب یرغمالی مارچ بن چکا ہے، فردوس عاشق اعوان

نومبر 13, 2019 12:27am

اب تحریک کو اتنی طاقت دی جائے گی کہ حکومت کا سنبھلنا ممکن نہیں ہوگا، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بدھ سے آزادی مارچ کے پلان 'بی' پر عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہاں کا اجتماع پلان 'اے' ہے جو باقی رہے گا اور اس کے ہوتے ہوئے ہم پلان 'بی' کی طرف جائیں گے، لیکن جب تک شرکا کو پلان 'بی' کی طرف جانے کا کہا نہ جائے آپ نے یہاں جمے رہنا ہے اور پلان کا اعلان ہوتے ہی قافلے اس طرف چل پڑیں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پلان بی کی تفصیل صوبائیں جماعتیں دیں گی، کل سے ہم اس کو شروع کریں گے لیکن کل تک ہم نے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں ہے اور اپنی جگہ پر برقرار رہتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے، ہم نے گھروں میں نہیں جانا، گاؤں نہیں جانا، ہم نے میدان میں رہنا ہے اور مارچ کے شرکا کی وساطت سے ان کارکنوں کو ہدایت دینا چاہتا ہوں جو گھروں میں ہیں کہ اپنے گھروں سے نکل آئیں اور یہاں موجود لوگ ان کی مدد کو پہنچیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'اب اس تحریک کو اتنی طاقت دی جائے گی کہ پھر حکومت کا سنبھلنا ممکن نہیں ہوگا، لیکن کارکنان نے قانون و آئین کو ہاتھ میں نہیں لینا، تصادم سے خود کو بچانا ہے اور پرامن رہنا ہے۔'

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

ای میل

نومبر 12, 2019 08:41pm

جے یو آئی (ف) کے پلان 'بی' پر کل سے عملدرآمد شروع ہوگا، ذرائع

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے آزادی مارچ کے پلان 'بی' پر کل سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

باخبر ذرائع نے کہا کہ آزادی مارچ کے پلان 'اے' یعنی اسلام آباد کے پشاور موڑ کا دھرنا جاری رہے گا جبکہ ساتھ ہی کل سے پلان 'بی' پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پلان 'بی' کے تحت پہلے مرحلے میں اہم تجارتی شاہراہیں بند کی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز بند کیے جائیں گے۔

پلان 'بی' کی کامیابی کے چند روز بعد پشاور موڑ پر جاری آزادی مارچ موخر کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق صوبائی عہدیداران کو پلان 'بی' پر عملدرآمد کرنے کے لیے جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

نومبر 12, 2019 05:54pm

جے یو آئی (ف) نے اپنے پلان 'بی' کو حتمی شکل دے دی

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں پلان 'بی' کو حتمی شکل دے دی گئی۔

ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں جے یو آئی (ایف) کے چاروں صوبائی امیروں نے پلان 'بی' پر اپنی تیاری پر مکمل بریفنگ دی، مولانا فضل الرحمٰن نے چاروں امیروں کی پلان 'بی' پر تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام پلان کو دستاویزی شکل دی گئی اور سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اہم شاہراہیں بند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی اہم مقامات پر لاک ڈاؤن کرنے کا منصوبہ پلان میں شامل ہے۔

ترجمان مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اجلاس کے فیصلوں کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن جلسہ گاہ میں کریں گے۔

نومبر 12, 2019 04:30pm

ہم ڈی چوک کی طرف نہیں جائیں گے، مولانا راشد سومرو

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما و سیکرٹری جنرل سندھ مولانا راشد سومرو کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ڈی چوک کی طرف نہیں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پلان بی آگے جانے کا پلان ہے پیچھے ہٹنے کا نہیں، پلان اے پلان بی پلان سی پلان ڈی سب عمران خان کا استعفی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا ہم انتہا کی طرف نہیں جائیں گے اس لیے ہم ڈی چوک کی طرف نہیں جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'جمعیت علما اسلام (ف) کے پاس 16 رکن اسمبلی ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کے 84 ارکان ہیں، اب انہیں ہماری بات ماننا چاہیے یا ہمیں ان کی؟'۔

نومبر 12, 2019 03:06pm

'فضل الرحمٰن مظلوم کارکنوں کو پارلیمان میں جانے کی خواہش کی بھینٹ نہ چڑھائیں'

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰں مظلوم ورکروں کو اپنی پارلیمان میں جانے کی خواہش کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'مولانا فضل الرحمٰن آپ اور آپ کے ہم نوا جبری تسلط کی منفی سوچ ترک کریں اور جمہوری رویہ اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ' آپ کو رنج ہے کہ ملک میں چند خاندانوں کی بجائے پہلی مرتبہ حقیقی عوامی راج کیوں قائم ہوا؟ آپ کی پریشانی یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان معیشت درست سمت ڈال کر عوام کا روزگار اور کاروبار چلانا چاہتے ہیں'۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰں مظلوم ورکروں کو اپنی پارلیمان میں جانے کی خواہش کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

معاون خصوصی نے کہا مولانا فضل الرحمٰن مظلوم کارکنوں کو بے رحم سرد موسم کے حوالے کرنے کی بجائے باعزت گھر واپسی کی 'آزادی' دیں۔

انہوں نے کہا کہ غریبوں کے بچوں، بزرگوں کی صحت اور سلامتی خطرے میں نہ ڈالیں،آئین اور جمہوریت کے منافی مطالبے کرکے نظام کو نقصان نہ پہنچائیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن 4 سال صبر فرمائیں اور مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز بلند کر کے 10 سال کشمیر کمیٹی کے بطور چیئرمین پروٹوکول لینے کا قرض اتاریں۔

نومبر 12, 2019 11:46am

آزادی مارچ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے جے یو آئی کا مشاورتی اجلاس طلب

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیرِصدارت آزادی مارچ سے متعلق جے یو آئی (ف) کا مشاورتی اجلاس آج ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورتی اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، جے یو آئی (ف) کے اراکین پارلیمان اور صوبائی عہدیداران شریک ہوں گے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں آزادی مارچ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا اور پلان اے کے پلان بی سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن نے صوبائی تنظیموں سے پلان بی پر رائے مانگی تھی لہذا تمام صوبائی امرا اپنی تیاری کے حوالے سے اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔

اجلاس سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ صوبائی عہدیداران آگاہ کریں گے کہ کس صوبے میں کون سی شاہراہ کو مکمل کرنا ممکن ہے۔

علاوہ ازیں پلان بی کے ساتھ کشمیر ہائی پر دھرنا جاری رکھنا ہے یا نہیں اس حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پلان بی میں ملک بھر کی مرکزی شاہراہوں اور تجارتی رابطوں کو منقطع کرنے کا فیصلہ آج ہوگا۔

ساتھ ہی اجلاس میں آزاردی مارچ کے لیے تشکیل کردہ مختلف 6 رابطہ کار کمیٹیاں اپنی کارکردگی سے متعلق آگاہ کریں گی۔

نومبر 12, 2019 11:15am

احتجاج کو وسعت دیں یا نہیں، جے یو آئی (ف) میں اتفاق نہ ہوسکا

پیر کے روز جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والے مرکزی مجلس کے اجلاس میں پلان بی کے ساتھ ساتھ دھرنے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں شریک ایک رکن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے زیادہ تر صوبائی اور ضلعی عہدیدار اسلام آباد میں موجود ہیں اس لیے انہیں دھرنے کو دیگر شہروں اور قصبوں تک وسعت دینے کے لیے وقت درکار ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے زیادہ تر ساتھیوں کا کہنا تھا کہ دھرنے میں اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی حمایت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘۔

علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے پلان بی کے حوالے صوبائی تنظیموں کو کل تک رائے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ کس صوبے میں کون سی شاہراہ کو مکمل بند کرنا ممکن ہے۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

نومبر 12, 2019 01:26am

ناجائز اور بدبودار حکومت کا خاتمہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اس ناجائز اور بدبودار حکومت کا خاتمہ کرنا ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے اور اسی جذبے کے ساتھ یہ تحریک آگے بڑھے گی اور قوم کو ان ناجائز قوتوں سے نجات دلا کر رہیں گے۔

اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایسے لوگوں کا ملک پر مسلط ہونا ایک عذاب الہٰی سے کم نہیں ہے، دوسروں کو چور کہنا آسان نہیں لیکن اتنے بڑے چور کہ اگر ان کی بہن نے دبئی میں 70 ارب ڈالر کی جائیدادیں بنائی ہیں تو کیا اس کا حساب نہیں لیا جائے گا، دوسروں کو چور کہنے والے خود چور نکل آئے اور چور بھاگتا ہے تو وہ بھی خود کو بچانے کے لیے 'چور، چور' کے نعرے لگاتا ہوا بھاگتا ہے لیکن اب یہ لوگ پھنس چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک افراتفری کا شکار ہے، ملک پر حکومت کی رِٹ ختم ہو چکی ہے، قوم ایک پیج پر ہے اور اس کا یہی مطالبہ ہے کہ ہم پاکستان پر جبر کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم ملک پر سو سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کرنے والے انگریزوں سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں تو آج بھی ملک کے عوام میں اتنی طاقت موجود ہے کہ یہودیوں کے ایجنٹوں کو شکست دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

7:07 PM, نومبر 11

تمام سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہیں، مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اور تمام سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہیں۔

مشاہداللہ خان نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے پاس امپائر کی انگلی ہے تو ہمارے پاس مولانا فضل الرحمٰن کا انگوٹھا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے مدینے کی ریاست کا بارہا ذکر کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ مصلے چرانے والے ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں، عمران خان کا وژن بھی یوٹرن لیتا ہے۔

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اللہ کا معجزہ ہے کہ نواز شریف بچ گئے ہیں، اللہ جانے ان لوگوں نے نواز شریف کے ساتھ کیا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ پلیٹ لیٹس کو ہٹ کیا گیا ہے جس سے ان کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔

،

6:57 PM, نومبر 11

'کس صوبے میں کونسی شاہراہ کو مکمل بند کرنا ممکن ہے'

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے پلان بی کے حوالے صوبائی تنظیموں کو کل تک رائے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ کس صوبے میں کون سی شاہراہ کو مکمل بند کرنا ممکن ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے صوبائی تنظیموں سے پلان بی پر رائے مانگ لی ہے اور تمام صوبائی امراء کو اپنی تیاری کے حوالے سے مرکزی مجلس عاملہ کو کل بریفنگ دینے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے تمام اراکین کو پلان بی پر اپنی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی اور ان سے تفصیل طلب کی ہے کہ کس صوبے میں کون سی شاہراہ کو مکمل بند کرنا ممکن ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کل بعد نماز ظہر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرلیا ہے جہاں صوبائی عہدیدار اپنی تیاری اور وسائل کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پلان بی کے ساتھ کشمیر ہائی وے پر دھرنا بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور پلان بی کے تحت ملک بھر کی مرکزی شاہراہوں اور تجارتی رابطوں کو منقطع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

4:52 PM, نومبر 11

رجسٹرار پی ایم ڈی سی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی ) کے وفد نے ملازمین کی برطرفیوں اور آرڈیننس پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو بریفنگ دی۔

رجسٹرار پی ایم ڈی سی ڈاکٹر اظہر شاہ نے بتایا کہ حکومت نے قومی اسمبلی سے آرڈیننس منظور کروایا جس پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے پی ایم ڈی سی کے برطرف ڈھائی سو ملازمین سڑک پر ہیں اور کوئی حکومتی نمائندہ برطرف ملازمین کی خیریت تک پوچھنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر اظہر شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے سینیٹ میں آرڈیننس کی سخت مخالفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

4:41 PM, نومبر 11

ۤآزادی مارچ: 'حکومت کی غیر سنجیدگی اسے لے ڈوبے گی'

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ نے کہا کہ اپوزیشن ہر جمہوری عمل کو تحریک کا حصہ بنائے گی۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے 'پلان بی' سے متعلق نئی حکمت عملی کے لیے محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔

بعدازاں عثمان کاکٹر نے بتایا کہ اگلا لاٸحہ عمل ابھی طے نہی ہوا جیسے ہو گا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں اور یہ ہی غیر سنجیدگی اسے لے ڈوبے گی۔

3:22 PM, نومبر 11

وزیر اعظم کے استعفے کے برابر کا معاہدہ قابل قبول ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جہاں ان کی جماعت وزیر اعظم کے استعفیٰ سے کم پر معاہدہ کرنے کو تیار نہیں وہیں وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کے 'برابر' کے کوئی معاہدے پر غور کیا جائے گا۔

انگریزی اخبار دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں دی۔

دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں بات کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے باعزت طریقے سے دھرنے سے نکلنے کی رپورٹس کو مسترد کیا اور کہا کہ حکومت کو اپنی عزت بچانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت میں 'آزادی مارچ' اور دھرنے نے عوام سے حکومت کا خوف نکال دیا ہے۔

3:21 PM, نومبر 11

جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

آزادی مارچ پر بحث کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کا اجلاس پارٹی صدر مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق دھرنوں کے مستقبل کے حوالے سے اجلاس میں مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں احتجاج کے آئندہ کے لائحہ عمل 'پلان بی' کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی جس میں اہم شاہراہیں اور شٹر ڈاؤن ہڑتال شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں اجلاس میں اہم فیصلے کیے جانے متوقع ہیں۔

اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عطا الرحمٰن، مولانا عبدالغفور حیدری اور اکرم درانی سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

3:09 PM, نومبر 11

جے یو آئی (ف) کی قیادت آج 'پلان بی' پر مشاورت کے لیے ملاقات کرے گی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت آج پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر 'پلان بی' پر عمل در آمد کے لیے ملاقات کریں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس کی قیادت مولانا فضل الرحمٰن کریں گے اور اس میں 'پلان بی' پر بحث کی جائے گی جس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز بھی زیر غور آئیں گی۔

10:14 AM, نومبر 11

راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سروس کو 4 کروڑ روپے کا خسارہ

اسلام آباد کے ایچ 9 اور کشمیر ہائی وے پر آزادی مارچ کے دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس کو تاحال 3کروڑ 85 لاکھ روپے کا خسارہ ہوگیا۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم ٹی اے) راولپنڈی مینجر آپریشن شمیلہ محسن نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر بس سروس کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام بسیں 12 دن سے اسلام آباد انتظامیہ کی تحویل میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بس سروس معطل ہونے پر روزانہ 35 لاکھ روپےکا نقصان ہورہا ہے، اگر دھرنا جاری رہا تو خسارے میں مزید اضافہ ہوگا۔

9:49 AM, نومبر 11

چھٹی نہ ملنے پر پولیس اہلکار نے گلے پر بلیڈ پھیر لیا

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کی سیکیورٹی کے سلسلسے میں تعینات پولیس اہلکار نے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں خودکشی کوشش کی۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ سوات سے تعلق رکھنے والا اہلکار چھٹی لینا چاہتا تھا اس کے لیے اعلیٰ افسران کو چھٹی کی درخواست بھی دی تھی۔

تاہم افسران نے چھٹی کی درخواست پر اہلکار کی سرزنش کی جس پر اہلکار نے دلبرداشتہ ہو کر گلے پر بلیڈ پھیر کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

فرنٹیئر ریزرو پولیس اہلکار کی اس حرکت پر ڈسٹرک انسپکٹر جنرل آپریشنز نے روایتی نوٹس لے کر ایس پی انڈسٹریل ایریا کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

پولیس حکام کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنےکا اہلکار ہیڈکانسٹیبل صدیق خان ہے جس کا علاج اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جاری ہے۔

1:23 AM, نومبر 11

'نااہل حکومت کی وجہ سے پہلی بار اقبال کا دن گرونانک کے نام ہوگیا'

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے ہمیشہ 9 نومبر کو یوم اقبال منایا ہے، اس حکومت نے پہلی مرتبہ اقبال کے حوالے سے یہ دن محسوس ہی نہیں ہونے دیا اور پہلی مرتبہ اقبال کا دن گرونانک کے نام ہوگیا۔

آزادی مارز کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بھارت نے اس کے بدلے میں آپ کو کیا تحفہ دیا کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی، جس کے لیے مسلمانوں نے مقدمہ لڑا، قربانیاں دیں، جمنا کو اپنے خون سے سرخ کردیا لیکن آج اُسی دن ہمارا حکمران کہتا ہے کہ آج جب ہم گرونانک کا دن منا رہے تھے تو اس دن تو آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ ایسی حکومت ہے جس کی پشت پر بڑی بڑی طاقتیں ہیں، اس کے خلاف بات کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، ہم نے وہ دبدے توڑ دیے، ہم نے ان کا غرور خاک میں ملا دیا، آج ان کی قوم میں دو ٹکے کی حیثیت نہیں رہی، اس ذلت و رسوائی کے ساتھ کرسی پر بیٹھے رہو، مکھیاں مارتے رہو لیکن قوم آپ کو حکمران کے طور پر نہیں دیکھتی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے ملک کو مذاق بنا دیا ہے، آج ہمارا اسٹیٹ بینک خسارے میں جارہا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار چینی مہنگی ہوگئی اور منظور نظر حکومت کی ایک سینئر نااہل شخصیت کی مِلز میں 40 فیصد چینی ذخیرہ کی گئی اور پھر انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے مہنگے داموں بیچا۔'

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

9:41 PM, نومبر 10

جے یو آئی (ف) نے حکومت کےخلاف پلان 'بی' پر عملدرآمد کی حکمت عملی تیار کرنا شروع کردی

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کے پلان 'بی' پر عملدرآمد کی حکمت عملی تیار کرنا شروع کردی ہے۔

باخبر ذرائع نے کہا کہ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے جماعت کی صوبائی قیادتوں کو پلان 'بی' پر عملدرآمد کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبائی قیادت اپنے صوبوں کی اہم شاہراہوں کی نشاندہی کریں اور اضلاع کے ہیڈکوارٹرز کی تفصیلات فراہم کریں۔

ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف پلان 'بی' پر آئندہ چند دنوں میں عملدرآمد شروع ہوگا۔

4:35 PM, نومبر 10

ہم چاہتے ہیں کہ دھرنا جلد سے جلد ختم ہو، قاسم سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج لوگوں کا آئینی حق ہے اور حکومت ان سے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہین کہ دھرنا جلد سے جلد ختم ہوجائے'۔

مزید تفصیل یہاں پڑھیں

3:58 PM, نومبر 10

دھرنے کے مقام پر بڑی ٹنکیاں لائی گئیں تاکہ شرکا وضو کرسکیں

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے کے مقام پر بڑی بڑی ٹنکیاں نصب کردی گئیں تاکہ شرکا وضو کرسکیں۔

— فوٹو: جاوید حسین
— فوٹو: جاوید حسین

3:51 PM, نومبر 10

ہم نے آج تک اتنی بڑی سیرت کانفرنس تاریخ میں نہیں دیکھی، مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں 12 ربیع الاول کے سلسلے میں دھرنے کے مقام پر منعقد کی گئی سیرت طیبہ کانفرنس سے خطاب کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا آزادی مارچ اب سیرت کانفرنس میں تبدیل ہوچکا ہے، ہم نے کبھی تاریخ میں اتنی بڑی سیرت کانفرنس نہیں دیکھی'۔

ان کے خطاب سے قبل کانفرنس میں قومی ترانہ بھی بجایا گیا تھا۔

11:22 AM, نومبر 10

جے یو آئی کا وزیراعظم پر 'مغرب حمایتی' ہونے کا الزام

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل اور سینیٹر عبد الغفور حیدری نے الزام عائد کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آسیہ بی بی کو مغربی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے رہا کیا اور مغربی طاقتوں نے توہین رسالت کے قوانین میں نرم کرنے کے لیے عمران خان کو اقتدار میں لانے کی سازش کی۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد ختم چکا جو اپنی داغ دار ساخت کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔

آزادی مارچ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے استعفیٰ نہ دیا تو جلد ہی ملک میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ ایک تحریک ہے اور یہ پورے ملک میں پھیل جائے گی، ہم شاہراہوں اور موٹر ویز بلاک کردیں گے اور اگر آپ (وزیر اعظم عمران خان) حکومت نہیں چھوڑتے تو ہم پورے ملک میں لاک ڈاون کردیں گے۔

1:08 AM, نومبر 10

اگلے ہفتے ہمارا نیا لائحہ عمل سامنے آجائے گا، اکرم درانی

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا ہے کہ پیر یا منگل کو اگلا لائحہ عمل آجائے گا۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات معطل نہیں ہوئے، مذاکرات آگے کس طرح بڑھانے ہیں اس پر مشاورت ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے جس طرح بات کی تھی اسی لہجے میں جواب دے دیا۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پیر ہو یا منگل اپنے پلان بی پر عمل کریں گے اور رہبر کمیٹی کا اجلاس بھی ضرورت پڑنے پر بلا لیں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ پیر یا منگل کو ہمارا اگلہ لائحہ عمل سامنے آ جائے گا۔

1:00 AM, نومبر 10

ربڑ اسٹمپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے، مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم انگھوٹھا چھاپ اور ربڑ اسٹمپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ملک میں ایک قانونی اور جمہوری حکومت برپا کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘انگھوٹھا چھاپ اسمبلیاں خود وجود میں لا کر سمجھتے ہیں کہ ہر فیصلہ ہم کریں گے ، ہم انگھوٹھا چھاپ اور ربڑ اسٹمپ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے، ہم ایسی حکومت کو تسلیم نہین کریں گے، ہم ملک میں ایک باوقار، جائز ، جمہوری اور آئینی حکومت برپا کرنا چاہتے ہیں تاکہ قوم عزت و آبرو اور آزادی کی زندگی بسر کر سکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم دنیا اور خطے میں میں دوست بڑھانا چاہتے ہیں ہم کرہ ارض کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنا چاہتے ہیں’۔

‘ہم نے ایک آواز بننا ہے پاکستان کے مستقبل ٹھیک، روشن طاقت ور کرنا ہے یہ ملک ہمارا ہے یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں، ہم اس ملک میں غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے، ہاں دوستی کرتے ہو تو آؤ ہم امریکا اور یورپ سے بھی دوستی کرنے کو تیار ہیں لیکن غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں اور اور ہمیں غلام رکھنا چاہتے ہیں اور ہم غلامی سے انکار کرتے ہیں’۔

مزید تفصیل یہاں پڑھیں

5:59 PM, نومبر 9

آزادی مارچ میں سیرت طیبہ کانفرنس

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف جاری آزادی مارچ میں 12 ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت طیبہ کانفرنس ہورہی ہے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صدارت میں ہونے والی سیرت طیبہ کانفرنس سے پیر ذوالفقار نقشبندی خصوصی خطاب کریں گے اور دیگر علما میں مولانا ادریس، مولانا زاہد الراشدی، مولانا سعید یوسف، مولانا اسماعیل کاظمی، مولانا الیاس گھمن شامل ہیں۔

سیرت طیبہ کانفرنس میں ملک کے نامور قرا قاری ابراہیم، قاری عبدالرووف اور قاری ادریس کے علاوہ نعت خواں مولانا شاہد عمران عارفی، حافظ منیر، عثمان قصوری اور حافظ عبدالباسط حسانی سمیت دیگر شریک ہوں گے۔

نماز عصر کے بعد شروع ہونے والی سیرت طیبہ کانفرنس رات گئے تک جاری رہے گی۔

1:48 PM, نومبر 9

مذاکرات کے لیے آؤ تو استعفیٰ ساتھ لاؤ، فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس مذاکرات کے لیے آؤ تو استعفیٰ ساتھ لے کر آؤ۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے لہجے کو تصادم کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'کل میں نے یہ بات کہی تھی کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس کے اندر ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات رکھتی ہے، لہٰذا ہم نے انہیں پیغام دیا کہ ہمارے پاس آؤ تو استعفیٰ لے کر آؤ خالی ہاتھ نہ آیا کرو'۔

انہوں نے کہا کہ 'قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے'۔

فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ 'میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے اندر واقعی مفاہمت کی خواہش ہے تو آپ کا لب و لہجہ اور پارلیمانی گفتگو بھی اس کی تائید کرے'۔

1:16 PM, نومبر 9

موسمی تبدیلی سے جڑواں شہروں کے شرکا اپنے گھروں کو روانہ

موسمی تبدیلی کے باعث اسلام آباد میں دھرنا دیے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے شرکا کی تعداد بتدریج کم پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی کی مساجد میں نماز جمعہ میں لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت پر زور دیا گیا۔

موسمی تبدیلی کے باعث دھرنے کے مقامی شرکا اپنے گھروں کو واپس چلے گئے تاہم ملک کے دیگر شہروں سے آنے والے تاحال دھرنے کے مقام پر ڈٹے رہنے کی تلقین میں مصروف ہیں۔

جہلم، چکوال، ابیٹ آّباد سمیت قریبی علاقوں سے آنے والے شرکا بارش کے باعث اپنے گھر واپس چلے گئے۔

گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دھرنے کے شرکا کی تعداد غیرمعمولی کم ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور اندورن پنجاب سے آنے والے تاحال کیمپ میں موجود ہیں۔

موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے دیوبندی مکتبہ فکر خصوصاً جے یو آئی کی مساجد میں امام نے نماز جمعہ آزادی مارچ کی حمایت میں خطاب کیا اور لوگوں کو دھرنے میں شریک ہونے پر زور دیا۔

12:29 PM, نومبر 9

دھرنا کے شرکا کیلئے جیکٹس لانے والی گاڑی لاپتا

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما بلال احمد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ دھرنا کے شرکا کے لیے 5 ہزار جیکٹس لانے والی اسلام آباد کی گاڑی ’لاپتہ‘ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ٹھنڈ سے بچنے کے لیے 5 ہزار جیکٹس کا آرڈر کیا گیا تھا۔

بلال احمد نے بتایا کہ جیکٹس لانے والے گاڑی لاہور سے نکلی اور جسے اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن جہلم میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گاڑی کے ساتھ ڈرائیور اور پارٹی رہنما بھی لاپتہ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پر امن مظاہرین اوررہنماؤں کے لیے انتظامیہ سے جیکٹس کے لیے درخواست کی تھی‘۔

10:22 PM, نومبر 8

نواز شریف کی شہباز شریف کو فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپنے بھائی اور پارٹی کے صدر شہباز شریف کو مولانا فضل الرحمٰن سے فوری ملاقات کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ہدایت کے بعد شہباز شریف کی جلد اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

ذرائع نے کہا کہ شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے جبکہ آزادی مارچ کے حوالے سے اہم فیصلوں پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

دوسری جانب نواز شریف نے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹیم میں احسن اقبال، خواجہ آصف، خرم دستگیر اور رانا تنویر شامل ہیں۔

ذرائع نے مطابق نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے چاروں ارکان کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کنٹینر پر نظر آنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

7:25 PM, نومبر 8

مذاکرات بامقصد ہونے چاہئیں، مولانا عبدالغفور حیدری

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کرنے والے حکومتی ٹیم کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ ہم نے بند نہیں کیا اگر حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی ہے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ہمارا سادہ سا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفی دے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہٰی باوقار انسان ہیں، ان سے ماضی میں ایک تعلق رہا ہے اور چوہدری برادران کی کوشش ہے کہ ہم وزیراعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ ڈائریکٹ استعفی اچھا نہیں لگتا تو الیکشن کروا لیں، اگر کام لٹک گیا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو گا کیو نکہ ہمارا بنیادی مطالبہ بھی وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے الیکشن ہیں۔

حکومتی موقف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب ہم سے رابطے کیا گیا تھا تو ان کو ہم نے اپنے موقف سے واضح کردیا تھا، معاملے کو تصادم کی جانب حکومت لے کر جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنے کا معاملہ کچھ اور تھا، ہم تو آٹھ دن سے پرامن بیٹھے ہوئے ہیں، یہ ایک تحریک ہے ہم آگے قدم بڑھائیں گے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پس پردہ رابطے بھی اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں، پس پردہ رابطے کبھی چھپے نہیں رہتے۔

6:22 PM, نومبر 8

مریم نواز کی ہدایت پر لیگی رہنماؤں کی مولانا فضل الرحمٰن سے خفیہ ملاقات

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ہدایت پر لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔

ملاقات سے باخبر ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے ملاقات میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، خواجہ محمد آصف اور پرویز رشید شریک تھے۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن اور اکرم درانی ملاقات کا حصہ تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبات کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے لیگی رہنماؤں سے نواز شریف کی خیریت دریافت کی۔

3:11 PM, نومبر 8

جے یو آئی کی 12 ربیع الاول کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کی تیاریاں

ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے ذریعے وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی کو بڑا پیغام پہنچایا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے، حکومت ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے۔

ذرائع نے بتایا کہ اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف نے تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں اور 12 ربیع الاول (اتوار) تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی اور وفاقی نشستوں سے استعفوں کا آپشن بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن کی اگلی حکمت عملی پر اپنی تیاریاں شروع کرلی ہیں اور سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان مرتب کررہی ہے۔

خبر کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں

2:33 PM, نومبر 8

آزادی مارچ کے پڑاؤ کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی متاثر

اسلام آباد کے ایچ-9 سیکٹر میں آزادی ماچ کے شرکا کی جانب سے احتجاج کے آغاز کے بعد سے مذکورہ علاقے اور کشمیر ہائی وے کے اطراف مقیم افراد اور وہاں سے گزرنے والوں کو بدترین ٹریفک، کنٹینرز رکاوٹوں، سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

اس علاقے میں ویسے بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے خریداری کے لیے ہفتہ وار بازاروں اور سرکاری دفاتر میں آنے کے باعث ٹریفک کا دباؤ رہتا ہے۔

تاہم اب احتجاج کے باعث ان کے روز مرہ کے معمولات سخت میں رکاوٹ آگئی ہے۔

مارچ کے باعث میٹرو بس کے ڈپو بند ہیں اور راولپنڈی تا اسلام آباد سروس روکی ہوئی ہے جبکہ سرکاری دفاتر مثلاْ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، ایکسایئز اینڈ ٹیکسیشن آفس، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر محکموں میں سائلین کی تعداد بھی خاصی کم ہوگئی ہے۔

1:44 PM, نومبر 8

حکومتی کمیٹی میں وزیراعظم کو جے یو آئی کے مطالبات بتانے کی ہمت نہیں، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الٰہی نے بتایا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے اندر وزیراعظم کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اصل مطالبات بیان کرنے کی ہمت نہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پرویز الٰہی نے کہا کہ وزیراعظم کو آزادی مارچ کے مطالبات میں نے بتائے۔

جس پر حکومتی نشستوں کے احتجاج کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میں نہیں جانتا یہ سچ ہے یا جھوٹ یہ پرویز الٰہی نے کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی والے کہتے ہیں کہ ہم اصل بات بتاتے ہیں تو وزیراعظم ناراض ہوجاتے ہیں۔

1:18 PM, نومبر 8

یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیگی رہنما

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے وزیر دفاع پرویز خٹک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ' اس ایوان میں 12 آرڈیننس بغیر کسی کارروائی کے پاس کیے گئے اور وزیراعظم اپنے دفتر میں بیٹھ کر دیکھتے رہے گزشتہ روز جس طرح قانون سازی ہوئی اس پر پورا ایوان شرمسار ہوا'۔

مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ' گزشتہ روز جو ہوا وہ اس ایوان کے لیے اچھا شگون نہیں تھا، اس طرح کے رویے رہے تو زیادہ دور نہیں کہ سارا نظام لپیٹ میں آئے'۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ' جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا پرویز خٹک آپ کا اور ہمارا بیڑا غرق ہوجائے اس کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن اداروں کا جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا'۔

انہوں نے وزیر دفاع کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ' یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے، پرویز خٹک آپ کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کرتے تھے'۔

12:42 PM, نومبر 8

اپوزیشن جماعتیں جمہوریت چاہتی ہیں تو مذاکرات کریں، وزیر دفاع

وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ملک چلانا چاہتی ہیں تو مسائل کے حل کے لیے بات کریں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ' جمہوریت چاہتے ہیں اس ملک کو چلاناچاہتے ہیں تو آکر بات کریں، وہاں دھرنا دیا ہے تو بیٹھے رہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا'۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ' یہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھی دھاندلی کی بات کی ہم الیکشن کمیشن گئے، ہم عدالت گئے ہم اسمبلی آئے لیکن یہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں '۔

انہوں نے کہا کہ' مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں کیا کرسکتے ہو'۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ روز حکومت کی جانب سے 11 آرڈیننس پاس کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

11:30 AM, نومبر 8

آزادی مارچ کا 8 واں دن، سخت سردی میں شرکا موجود

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف 'آزادی مارچ' کا پڑاؤ 8ویں روز بھی اسلام آباد میں جاری ہے اور شرکا سردی اور بارش کے باوجود اپنے قائدین کی آواز پر احتجاج کے مقام پر موجود ہیں۔

شرکا کو سخت سردی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے—فوٹو: رائٹرز
شرکا کو سخت سردی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے—فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد میں بارش اور سردی کی شدت میں اضافے سے آزادی مارچ کے شرکا کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے پلاسٹک کے خیموں میں پناہ لی جبکہ کچھ نے دیگر چیزوں سے خود کو ڈھانپ کر وقت گزارا۔

دھرنے میں شامل افراد خیموں میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں—فوٹو: رائٹرز
دھرنے میں شامل افراد خیموں میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں—فوٹو: رائٹرز

یہی نہیں بلکہ کچھ نے سردی سے بچنے کے لیے زیرتعمیر میٹرو بس اسٹیشن کے نیچے پناہ لی۔

کچھ شرکا زیرتعمیر میٹرو بس کے نیچے ناشتہ کرتے نظر آئے—فوٹو: رائٹرز
کچھ شرکا زیرتعمیر میٹرو بس کے نیچے ناشتہ کرتے نظر آئے—فوٹو: رائٹرز

1:21 AM, نومبر 8

وزیر اعظم 'انتخابی دھاندلی' پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے تیار ہیں، پرویز الہٰی

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے تیار ہیں۔

نجی چینل 'جیو نیوز' کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پرویز الہٰی نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط کیا جائے، وزیر اعظم نے اس پر بھی ہاں کردی ہے۔

پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو دھرنے سے اس سے زیادہ کیا کامیابی چاہیے کہ وہ اسمبلی میں نہ ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن لیڈر بن چکے ہیں اور شہباز شریف فارغ ہوچکے ہیں۔

11:29 PM, نومبر 7

ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، حکومت ٹائم پاس کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے جبکہ حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں، اگر وہ ملک کے حالات میں بہتری لاتے تب لوگ ان کی حکومت کا شاید ساتھ دیتے لیکن ان کی حکومت میں ملک روز بہ روز تنزلی کی طرف جارہا ہے، ہم اس طرح کی جمہوریت چاہتے تھے؟ ہم نے قربانیاں اس جمہوریت کے لیے نہیں دی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا ہے اس لیے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ چاہتے ہیں کہ ان انتخابات کے لیے فوج کو بلکل نہیں بلایا جانا چاہیے۔

مطالبات نہ مانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی، نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو لے کر گھروں سے نکلے ہیں جبکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہے کہ تو حکومت گھر جائے۔'

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

5:33 PM, نومبر 7

آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا موڑ اختیار کرے گا، اکرم خان درانی

آزادی مارچ کے ساتویں روز میں داخل ہونے پر اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی زیر صدارت اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئندہ چند روز میں اقدامات کیے جائیں گے جن کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا موڑ اختیار کرے گا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'مولانا فضل الرحمان نے چوہدری پرویز الہی سے کہا ہے کہ جو فیصلہ ہو گا رہبر کمیٹی کے ممبران کے زریعے ہی ہو گا'۔

4:37 PM, نومبر 7

پرویز الہیٰ کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، 'جلد قوم کو خوشخبری دیں گے'

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کی جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ سے ملاقات کے بعد روانہ ہوگئے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ 'جلد قوم کو خوشخبری دیں گے، پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'معاملے کے حل کے لئے جوڈیشل کمیشن سمیت بہت ساری تجاویز ہیں، جس پر مولانا راضی ہوں گے اسی پر بات کریں گے'۔

3:44 PM, نومبر 7

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس جاری

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی زیر صدارت شروع ہوگیا۔

اجلاس میں نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، ایاز صادق، امیر مقام، اویس نورانی، شفیق پسروری، ہاشم بابر، سینیٹر طاہر بزنجو اور سینیٹر عثمان کاکڑ شریک ہیں۔

3:06 PM, نومبر 7

پرویز الہیٰ کی مولانا فضل الرحمٰن سے مسلسل چوتھے روز ملاقات

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

چوہدری پرویز الہیٰ نے مولانا فضل الرحمٰن کے گھر کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سب دعا کریں کوئی فیصلہ حتمی ہوجائے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری طرف سے پوری کوشش جاری ہے کوئی کمی نہیں چھوڑنی، انشاءاللہ اچھا نتیجہ نکلے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا کوشش جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے آزادی مارچ کے آغاز کے بعد سے مولانا فضل الرحمٰن سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں معاونت کے لیے ملاقات کی ہے۔

1:00 PM, نومبر 7

اسلام آباد اور راولپنڈی میں کل تک سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے وسطی اور بالائی علاقوں میں کل تک سردی کی شدت بر قرار رہے گی اور وہاں پر درجہ حرات انتہائی کم رہے گا۔

وقفے وقفے سے بارش ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی درجہ حرات کم رہنے کا امکان ہے۔

اسلام آباد میں بارش کی وجہ سے پہلے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوچکا ہے اور بعض سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق جڑواں شہروں میں جمعے کی صبح تک درجہ حرات کم رہنے کی توقع ہے۔

12:58 PM, نومبر 7

بارش اور سردی بھی آزادی مارچ کے شرکا کے حوصلے پست نہ کر سکی

گزشتہ ایک ہفتے سے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت کے خلاف آزادی مارچ دینے والے افراد کا حوصلہ بارش بھی کم نہ کر سکی اور وہ گزشتہ شب دارالحکومت میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش میں بھی پرجوش دکھائی دیے۔

اسلام آباد میں بارش ہونے کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، تاہم آزادی مارچ کے شرکا اپنے ٹینٹ میں سلیقے سے بیٹھے ہوئے دکھائی دیے، درجنوں شرکا ایسے بھی تھے جن کے پاس ٹینٹ نہیں تھے اور انہیں بارش میں مشکلات پیش آئیں۔

ملتان سے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے 35 سالہ محیذ الرحمٰن نے ڈان کو بتایا کہ بارش کے باوجود لوگ متحد ہوکر بیٹھے رہے، تاہم بعد ازاں اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ جن کے پاس ٹینٹ نہیں وہ میٹرو بس کے زیر زمین راستے میں جاکر پناہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیج سے اعلان ہونے کے بعد دھرنے کے درجنوں شرکا میٹرو کے زیر زمین روٹ پر جا رہے ہیں اور وہ اپنے ساتھ کھانے پکانے کا سامان اور چولہے بھی لے جا رہے ہیں۔

وقفے وقفے سے ہونے والی بارش اور سردی کی شدت میں اضافے نے بھی آزادی مارچ کے شرکا کے جذبے کو پست نہیں کیا اور وہ بلند حوصلے کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیے۔

12:46 PM, نومبر 7

رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس آج 7 نومبر کو سہ پہر کے وقت اسلام آباد میں ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے عہدیداروں کے مطابق رہبر کمیٹی کا اہم ترین اجلاس جے یو آئی کے مرکزی رہنما اکرم درانی کی رہائش گاہ پر تقریبا 3 بجے ہوگا، جس میں اہم رہنما شریک ہوں گے۔

اجلاس میں آزادی مارچ کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

12:43 PM, نومبر 7

جے یو آئی کا آزادی مارچ کے دوران سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام میں خراب موسم، بارش اور سردی بڑھ جانے کے باوجود حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے 12 ربیع الاول کو آزادی مارچ کے دوران ہی عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔

پارٹی کے مجلس شوریٰ اور کمیٹی کی جانب سے چوہدری پرویز الاہی سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ بروز اتوار 12 ربیع الاول کو آزادی مارچ کے دوران ہی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

سیرت النبی ﷺ کانفرنس نے جے یو آئی کے اہم رہنماؤں سمیت دیگر علما خطاب کریں گے۔

11:26 PM, نومبر 6

دھرنا سیاسی سرگرمی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنا ایک سیاسی سرگرمی ہے جس میں فوج کا بحیثیت ادارہ کوئی کردار نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویومیں میجر جنرل آصف غفور نے آزادی مارچ میں اپوزیشن کی جانب سے کیے گئے مطالبات کے حوالے سے کہا کہ 'حکومت اگر الیکشن میں نہیں بلائے گی تو فوج نہیں جائے گی کیونکہ فوج وہی کام کرتی ہے جو حکومت اس سے کہتی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کرے'۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں رہتے ہوئے طلب کرنے پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں، الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں، اسے صرف سیکیورٹی کے لیے بلایا جاتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 'فوج 20 سال سے ملکی سیکیورٹی اور دفاع کے کاموں میں مصروف ہے جو ہمیں یہ اجازت نہیں دیتے کہ خود کو اس طرح کی چیزوں میں ملوث کریں یا الزام تراشیوں کا جواب دیں'۔

مزید تفصیل یہاں پڑھیں

9:35 PM, نومبر 6

آزادی مارچ اب یرغمالی مارچ بن چکا ہے، فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں آزادی مارچ اب یرغمالی مارچ بن چکا ہے جہاں شرکا کھلے آسمان تلے ہیں جبکہ قیادت گھروں میں آرام فرما رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا جس پر حکومت کوئی لائحہ عمل طے کر سکے تاہم پر امید ہوں کہ مولانا فضل الرحمٰن مذاکراتی اور رہبر کمیٹی کواہمیت دیں گے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے بیانیہ قوم کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، ہم ایسے بیانیے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، شہریوں اور امن کو کسی کی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔

معاون خصوصی اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے واضح بیان دیا کہ فلسطینیوں کو آزادی ملنے تک وہاں امن نہیں ہو سکتا لیکن مولانا اور ہمنواؤں کو صرف اقتدار کا درد ہے، عوام کا درد نہیں۔