برطانوی وزیراعظم نے پارٹی کے اندر اسلاموفوبیا پر معافی مانگ لی

28 نومبر 2019

ای میل

برطانوی وزیر اعظم کے متنازع بیان کے بعد مسلمان مخالف حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا —فائل فوٹو: رائٹرز
برطانوی وزیر اعظم کے متنازع بیان کے بعد مسلمان مخالف حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا —فائل فوٹو: رائٹرز

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے کنزرویٹو پارٹی کے اندر اسلاموفوبیا پر معافی مانگ لی۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ٹوری کے ایک امیدوار نے بورس جانسن پر مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت آمیز رجحانات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ

واضح رہے کہ چند روز قبل کنزرویٹو کے عام انتخابات کے امیدوار کو مسلم مخالف زبان استعمال کرنے پر معطل کردیا گیا تھا جو برطانونی وزیراعظم کے لیے باعث شرمندگی بنا۔

وزیر اعظم بورس جانسن کو گزشتہ برس ایک کالم میں برقع پہننے والی مسلمان خواتین کے لیے ’بینک ڈاکو‘ اور ’لیٹر باکس‘ کے الفاظ استعمال کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا تھا۔

علاوہ ازیں بورس جانسن نے پارٹی کے اندر اسلاموفوبیا کے خلاف آزادانہ تحقیقات سے بھی انکار کیا تھا۔

گزشتہ روز کارن وال کے دورے پر جب وزیراعظم بورس جانسن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کنزرویٹو پارٹی میں اسلاموفوبیا پر معافی مانگیں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا ’یقینا! ان تمام تکالیف اور جرم کے لیے جس کے باعث تکلیف پہنچی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ارمینہ خان کی برقع پوش خواتین کی حمایت

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے اور یہ معاملہ ایک ملک کی حیثیت سے اتنا اہم ہے کہ ہم اس قسم کی چیزوں کی اجازت نہیں دے سکتے اور اسی وجہ سے ہمیں آزادانہ تفتیش کرنی ہے۔

واضح رہے کہ بورس جانسن کی معذرت ایسے وقت پر سامنے آئی جب لیوٹن ساؤتھ کے کنزرویٹو امیدوار پرویز اختر نے وزیر اعظم سے ٹیلیگراف میں مسلم خواتین کے بارے غیر مناسب رویہ اختیار کرنے پر معانی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پرویز اختر نے کہا تھا کہ ’میں اب خاموش نہیں رہ سکتا کہ اس ظالمانہ امتیاز میں ملوث رہوں جو نہ صرف پارٹی کے اندر بلکہ جب بھی پالیسی کے ایجنڈے کی بات آتی ہے تو تب بھی موجود ہے‘۔

ٹیلی گراف میں بورس جانسن کے تبصروں پر انہیں سینئر ٹوریس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا۔

اُس وقت کے پارٹی چیئرمین برانڈن لیوس نے بھی برطانوی وزیراعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈنمارک میں نقاب پر پابندی کا اطلاق ہونے پر احتجاج

دوسری جانب ٹیل ماما مانیٹرنگ گروپ نے بتایا کہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے متنازع بیان کے بعد مسلم مخالف حملوں میں 375 فیصد اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی سینئر خاتون سیاستدان سعیدہ وارثی نے گزشتہ برس اسلامو فوبیا کے خلاف مہم چلائی تھی۔

بورس جانسن کے تازہ بیان کے بعد انہوں نے ٹوئٹ میں وزیراعظم کے اقدام کی تعریف کی۔

انہوں نے پرویز اختر کے موقف کی تعریف کی اور کہا کہ بورس جانسن کا معافی مانگنا ’اچھی ابتدا‘ ہے۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ورلڈ ایٹ ون پروگرام میں کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ آخر کار ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں جہاں سے مسئلے کی حقیقت کو تسلیم کرنا شروع کردیں‘۔