بھارت: خاتون کا ریپ کے بعد قتل، عوام کا احتجاج

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2019

ای میل

مظاہرین نے ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا—فوٹو:اےا یف پی
مظاہرین نے ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا—فوٹو:اےا یف پی

بھارت کے شہر حیدر آباد میں 27 سالہ ویٹرنری ملازمہ کے مبینہ ریپ کے بعد قتل کے خلاف مشتعل عوام کے احتجاج پر پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ 3 پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کردیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق حیدر آباد میں پولیس اسٹیشن کے باہر ہزاروں شہریوں نے احتجاج کیا اور ملزمان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ پولیس نے تین افسران کو بھی معطل کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان نے ہمدردی کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور پولیس افسران سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے ریپ کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ریپ کے بعد قتل کے واقعات کے باعث اس سے قبل بھی حالات کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارت: 22 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل، لاش جلادی گئی

حیدر آباد میں پیش آنے والے تازہ واقعے کے حوالے سے کہا گیا کہ قتل ہونے والی خاتون گزشتہ 4 روز سے لاپتہ تھیں اور آج ان کی لاش ملی۔

پولیس کا کہنا کہ خاتون کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کیا گیا ہے اور اس کیس کے حوالے سے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے دو افراد کی مائیں پولیس کو واضح کرچکی ہیں کہ اگر ان کے بیٹوں پر جرم ثابت ہوجائے تو انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

بھارتی خبر ایجنسی کو ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ‘اس کو جو سزا دینا چاہیے دی جائے کیونکہ میں ایک بیٹی بھی ہوں’۔

دوسری جانب پولیس اسٹیشن کے باہر موجود مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو سزائے موت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: خاتون کے 'گینگ ریپ' کی ویڈیو وائرل، ملزمان کے خلاف مقدمہ

متاثرہ خاتون حیدر آباد کے علاقے شمس آباد سے تعلق رکھتی تھیں جہاں مظاہرین نے محلے کا مرکزی دروازہ بند کردیا اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس میں درج تھا ‘نو میڈیا، نو پولیس، نوآؤٹ سائیڈر، صرف کارروائی اور انصاف’۔

کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے پیغام میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے اس واقعے سے شدید صدمہ پہنچا ہے اور اس واقعے پر اظہار غم کے لیے کوئی الفاظ نہیں’۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے فوری کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرنے پر تین پولیس افسران کو بھی معطل کردیا گیا۔