پہاڑی عورتیں، بدلتے موسم اور نئے راستے!

04 دسمبر 2019

ای میل

کوتھم پائن سے تعلق رکھنے والی رقیہ بی بی زندگی میں ایک اور موقع کی تلاش میں ہیں—تصویر شبینہ فراز
کوتھم پائن سے تعلق رکھنے والی رقیہ بی بی زندگی میں ایک اور موقع کی تلاش میں ہیں—تصویر شبینہ فراز

’ہمارے باپ دادا مویشی پالتے تھے، صدیوں سے یہی ہمارا پیشہ تھا۔ دودھ، گھی اور جانور ہمارے لیے کیش کا ذریعہ تھے مگر اب سب بدل گیا ہے۔‘

سدپارہ گاؤں کی روزی بی نے بتایا کہ ’اب ہم زیادہ مویشی نہیں رکھ سکتے کیونکہ برف باری اور موسموں کی تبدیلی سے مویشیوں کے لیے زیادہ چارا نہیں ملتا۔ اب اتنے ہی جانور رکھتے ہیں جتنی گھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب ہم سبزیاں اور آلو اگاتے ہیں جن سے اچھے پیسے مل جاتے ہیں‘۔

بلند و بالا قراقرم کے پہاڑوں تلے خوبصورت رنگ بدلتی سدپارہ جھیل کے قریب سدپارہ گاؤں آباد ہے۔ یہ گاؤں بلتستان کے مرکزی شہر اسکردو سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گاؤں کی آبادی 3 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ عورتیں صدیوں سے روایتی طور پر گلہ بانی کا کام کررہی تھیں مگر اب بدلتے موسموں نے ان کی زندگی کو بھی تبدیلی سے دوچار کردیا ہے۔

روزی بی کی عمر 50 سے زائد ہوگی، اور اس کا شوہر عموماً نوکری کے لیے گاؤں سے باہر ہوتا ہے۔ اس لیے گھرداری، بچے اور مویشی سنبھالنے کی ذمے داری اسی کی ہے۔ روزی بی یہاں کی ہر عورت کی طرح روایتی گلہ بان تو ہے مگر اب مجبوراً اسے دوسرے کام بھی کرنا پڑرہے ہیں۔

مثلاً اب وہ آلو اور سبزی اگاتی ہے۔ جانوروں کے بجائے اس کے لیے اب آلو کی فصل اور سبزیاں کیش کروپ ہیں۔ یہاں زمین ہر خاندان کے پاس ہوتی ہے اس لیے ایک اوسط رقبے یعنی 2 سے 3 کینال زمین پر آلو لگانے سے ایک لاکھ اور سبزیوں سے 50 ہزار سالانہ مل جاتے ہیں۔

موسم سرما کی طوالت کے باعث یہاں سال میں ایک ہی فصل ہوتی ہے۔ سبزیوں اور آلو کی ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی ایک وجہ ٹؤرازم کا بڑھ جانا بھی ہے۔ کیونکہ اب زیادہ لوگ ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور یوں انہیں زیادہ آلو درکار ہوتے ہیں، اور زیادہ تر خواتین انہی ہوٹل پر یہ آلو سپلائی کرتی ہیں۔

یہ علاقہ پاکستان کے شمال میں گلگت بلتستان کے ریجن میں واقع ہے۔ یہ پہاڑی علاقے اپنے وسائل اور خوبصورتی کے حوالے سے دنیا بھر میں سیاحوں کے پسندیدہ مقام سمجھے جاتے ہیں جہاں قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے 3 عظیم سلسلہ ہائے کوہ ملتے ہیں۔ یہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 کے علاوہ 8 ہزار میٹر سے بلند 5 چوٹیاں، 5 ہزار ایک سو چھوٹے بڑے گلیشئرز، 119 جھیلیں، 4 نیشنل پارکس، 333 اقسام کی مختلف جنگلی حیات جس میں بقا کے خطرے سے دوچار برفانی تیندوا اور بھورا ریچھ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 6 ہزار 5 سو 92 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر مشتمل گھنے جنگلات اس علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

اسکردو میں بہتا دریا—تصویر لکھاری
اسکردو میں بہتا دریا—تصویر لکھاری

لیکن اب یہاں کے موسم بدل چکے ہیں۔ سردیوں کا شدید موسم چونکہ 8 ماہ رہتا ہے جس کے سبب زمین فروسٹ ہوجاتی ہے، اور یوں ان 8 ماہ میں کچھ نہیں اگ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کو سال بھر چارے کی فراہمی اب بہت مشکل کام بن چکا ہے۔ اب لوگ صرف اتنے ہی جانور رکھتے ہیں جتنی گھر کی دودھ، گھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عموماً یہ تعداد ایک گائے اور 5 یا 6 بکریوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر غفران اللہ بیگ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب یہ خطہ موسموں کی شدت کی لپیٹ میں ہے۔ اس سال موسمِ سرما میں درجہ حرارت منفی 32 تک گر گیا تھا، جبکہ دیوسائی میں منفی 34 بھی ریکارڈ کیا گیا۔ اسکردو شہر میں 4 فٹ برف پڑی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔ پھر بے ترتیب تیز بارشیں، شدید برف باری اور طویل موسم سرما کے ساتھ ساتھ قراقرم رینج میں لینڈ سلائیڈنگ کے ساتھ ڈبری فلو (کیچڑ اور ملبے کا طوفان) کا نیا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ صرف 2019ء میں ڈبری فلو کے 3 واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

گاؤں کوتھم پائن جو ضلع شگر سے 6 کلو میٹر دُور ہے، جون 2019ء میں ایسی ہی ایک آفت سے دوچار ہوا۔ ’ہم سو رہے تھے کہ آدھی رات کو ایک عجیب سی گڑگڑاہٹ سے آنکھ کھلی۔ لوگوں نے باہر نکل کر دیکھا تو بارش اور بجلی کی چمک میں پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر اور مٹی گرتی نظر آئی اور کیچڑ کے سیلاب نے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘، کوتھم پائن کی متاثرہ رقیہ بی بی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ’پھر کچھ بھی نہیں بچا۔ گھر، گھر کی چیزیں، مویشی سب ختم ہوگئے۔ بڑی مشکل سے اسکول کی پکی اور اونچی عمارت میں پناہ لے کر اپنی جان بچائی‘۔

مٹی اور کیچڑ کے سیلاب کے بعد کی صورتحال—تصویر لکھاری
مٹی اور کیچڑ کے سیلاب کے بعد کی صورتحال—تصویر لکھاری

اس حادثے میں 2 جانیں ضائع ہوئیں اور 150 مویشی مرگئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ کچھ دن تو حکومت کی فراہم کردہ امداد کی مدد سے گزر گئے۔ مگر اب رقیہ بی بی کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں بچا، اور صورتحال یہ ہے کہ وہ رشتے داروں کی مدد پر جی رہی ہے۔

کوتھم پائن کی رقیہ ہو یا سدپارہ کی روزی بی، یا ان جیسی دوسری پہاڑی خواتین، ان سب کو گھر داری کے ساتھ ساتھ ان سخت موسموں سے بھی مقابلہ کرنا ہے کیونکہ اکثر مرد نوکری کے لیے گاؤں یا شہر سے باہر ہوتے ہیں لہٰذا ایسے میں کسی قدرتی آفات مثلاً لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب وغیرہ میں زیادہ نقصان بھی خواتین کا ہی ہوتا ہے۔ جان اگر بچ بھی جائے تو ان کے مویشی، مرغیاں، سبزیوں اور چارے کے کھیت اور پھلوں کے درخت تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس لیے یہ بات یہاں کہی جاسکتی ہے کہ یہ محنت کش خواتین بدلتے موسموں کے آگے فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور یہ اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے روایت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کے نئے راستے تراشنے پر مجبور ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) کئی دہائیوں سے اس علاقے میں کام کررہا ہے۔ اب اس ادارے نے کلائمیٹ چینج کے حوالے سے اپنا دائرہ کار بڑھادیا ہے جو خواتین کو موسموں کی شدت سے نمٹنے کی تربیت بھی دے رہا ہے۔ اسی ادارے سے وابستہ شبانہ رضا کا کہنا ہے کہ ’ہم خواتین کو موسم کے آگے مضبوط بنا رہے ہیں کیونکہ عورت جتنی معاشی طور پر مضبوط ہوگی اتنی ہی محفوظ ہوگی‘۔

گلگت بلتستان کے لیے کھیتی باڑی کا منصوبہ—تصویر لکھاری
گلگت بلتستان کے لیے کھیتی باڑی کا منصوبہ—تصویر لکھاری

انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس حساس پہاڑی ایکو سسٹم میں درختوں کی بے دریغ کٹائی سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ ہم سیلاب سے بچنے کے لیے خواتین کو درخت لگانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ خواتین اپنی نرسری بنا رہی ہیں۔ درخت لگا بھی رہی ہیں اور بیچ بو بھی رہی ہیں۔ ہم پودے بھی فراہم کرتے ہیں پھر ان سے خریدتے بھی ہیں۔ اب تک بلامبالغہ لاکھوں درخت لگ چکے ہیں‘۔

ایسی ہی ایک خاتون حبیبہ اقبال ہیں جو اسکردو سے کچھ دُور آستانہ کے علاقے میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر محمد اقبال پھولار کاشتکار ہیں اور ان کے 5 بچے ہیں جو سب مختلف کالجز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ حبیبہ محکمہءِ صحت میں LHW ہے اور ان کی تنخواہ 20 ہزار ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کی پڑھائی کا بھی خرچہ ہے اس لیے گزارا نہیں ہوتا۔ حبیبہ نے اضافی آمدنی کے لیے اے کے آر ایس پی سے تربیت لینے کے بعد اپنی نرسری بنائی ہے اور یہ ان کا پارٹ ٹائم کام ہے۔ ان کا اس کام میں شوہر بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔ حبیبہ نے 3 کینال کے رقبے پر کمرشل بنیادوں پر سفیدے کے درخت کی پنیری لگائی تھی۔ اب ان کے پاس 25 ہزار درخت موجود ہیں۔ سفیدہ زیادہ بکتا ہے کیونکہ اس کی لکڑی کی کمرشل ویلیو زیادہ ہے۔ حبیبہ کا کہنا ہے کہ مزید آمدنی کے لیے سبزی بھی لگاتی ہوں، یوں سال کے 2، 3 لاکھ مل جاتے ہیں۔

حبیبہ نے ہماری معلومات میں اضافے کے لیے یہ بھی بتایا کہ چونکہ اب موسم بدل رہا ہے، اس لیے درختوں کو مختلف کیڑے لگنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پھر تیز بارشیں فصلوں کو خراب کردیتی ہیں اور بجلی کا گرنا بھی اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہوگیا ہے۔

شبانہ رضا نے مزید بتایا کہ ہم خواتین کو دیگر کاروبار سے متعلق بھی تربیت دے رہے ہیں۔ علاقے میں ٹؤرازم کا رجحان بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم ایکو ٹؤرازم پر کام کررہے ہیں۔ علاقے میں دودھ، دہی، گھی، سبزیوں وغیرہ کی کھپت بڑھ گئی ہے۔ پہلے یہاں کی خواتین ان چیزوں کے کاروبار پر کانوں کو ہاتھ لگاتی تھیں کہ ’توبہ، توبہ، یہ دودھ دہی کون بیچے گا؟ بے برکتی ہوجاتی ہے، اللہ ناراض ہوگا‘۔

لیکن ہم نے خواتین کو سمجھایا اور ڈیری پروڈکٹ کی تربیت دی۔ مثلا دیسی انڈے، دہی پنیر کی پیکیجنگ، آف سیزن سبزیوں کی فراہمی وغیرہ کے کام میں بہت گنجائش ہے۔ اب یہ خواتین اتنی پروفیشنل ہوگئی ہیں کہ اگر مارکیٹ میں سبزیوں کے اچھے دام نہیں ملتے تو براہِ راست ہوٹل والوں سے بات کرلیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم خواتین کو اچھی نسل کی پہاڑی بکری اور بھیڑ پالنے کی ترغیب دیتے ہیں کیونکہ ہم شیپ اور گوٹ ویلیو چین پر بھی کام کررہے ہیں تاکہ علاقے کی روایتی شالوں اور چھرے (قالین) کا احیا ہو۔ سیاح ایسی چیزوں کے بہت اچھے دام دیتے ہیں۔

اے کے آر ایس پی سے ہی تربیت یافتہ آمنہ غنی بھی خواتین کے لیے ایک مثال ہیں۔ آمنہ نے اسکردو کے ایک محلے میں ’آمنہ گیسٹ ہاؤس کھول لیا ہے۔ انہوں نے اپنے گھر کی نچلی منزل گیسٹ ہاؤس کے طور پر مختص کردی ہے جہاں زیادہ تر اکیلی خواتین آکر ٹھہرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ سیاح خواتین بھی آتی ہیں اور جاب والی ایسی خواتین بھی جن کا تبادلہ اس علاقے میں ہوجاتا ہے۔ یہاں آنے والی خواتین کو یہ جان کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے کہ گیسٹ ہاؤس کو ایک خاتون چلا رہی ہیں۔ یہ خواتین کئی کئی ماہ ان کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرتی ہیں۔ آمنہ نے ہاؤس کیپنگ وغیرہ کی ٹریننگ اے کے آر ایس پی سے لی ہے۔ وہ صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرتی ہیں۔ آمنہ کا کہنا ہے کہ وہ سال کے 3، 4 لاکھ کما لیتی ہیں اور وہ 4 سال سے یہ کام کررہی ہیں۔

شبانہ نے مزید بتایا کہ ’ہم نے چند سال پہلے خواتین کے مختلف بزنس گروپ بنائے اور 120 خواتین کو مختلف کاموں کی ٹریننگ دی۔ پھر جب اسکردو شہر میں ایک نئی مارکیٹ بن رہی تھی تو ہم نے مالکان سے بات کی اور انہیں راضی کیا کہ وہ اس مارکیٹ کو خواتین دکانداروں کے لیے مخصوص کریں۔ اس مارکیٹ میں ہم نے ٹھیکے دار اور مالکان سے مل کر بہت سی ترامیم اور اضافے کروائے۔ مثلاً خواتین کے ساتھ بچے ہوتے ہیں اس لیے سیڑھیاں محفوظ کروائیں۔ تمام دکانیں بلڈنگ میں کورڈ کروائیں۔ مگر جب بزنس گروپ کی خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے کہا تو 120 میں سے صرف 5 خواتین ہی سامنے آئیں۔ ان پر سماجی اور مذہبی دباؤ بھی تھا۔ اس کے حل کے لیے ہم نے علما اور سیاسی شخصیات کو بھی اعتماد میں لیا اور انہیں قائل کیا۔ بہرحال چند خواتین راضی ہوگئیں کہ وہ اپنی دکان کھولیں گی۔ خواتین نے اپنی بچت سے یہ کاروبار شروع کیے۔ کچھ میچنگ گرانٹس ہم بھی دیتے ہیں۔ آج یہ حوا مارکیٹ آباد ہوچکی ہے جہاں دکاندار بھی خواتین ہیں اور خریدار بھی۔ شاید یہ علاقے کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے‘۔

شبانہ کا کہنا ہے کہ ’ہم بہت جلد بلتستان وومن چیمبرز آف کامرس بھی بنوا رہے ہیں تاکہ خواتین کے مسائل کے لیے منظم انداز میں کام ہوسکے‘۔

اسکردو شہر کے مرکز میں کہکشاں مارکیٹ میں کشش بیوٹی پارلر اینڈ ٹریننگ سینٹر کی مالکہ گلشن بیگم ان اوّلین خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے حوا مارکیٹ میں دکان کھولی تھی۔ اب جب کاروبار چل پڑا ہے تو وہ نسبتاً ایک بڑی دکان میں آگئی ہیں جو کہکشاں مارکیٹ میں ہے۔

شبانہ بیوہ ہیں اور 10 سال پہلے انہوں نے ایک بیوٹی پارلر سے ٹریننگ لے کر اپنی دکان شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صرف 20 ہزار سے میں نے کام شروع کیا تھا۔ لوگوں نے بہت باتیں بنائیں کہ کس طرح خواتین مارکیٹ میں بیٹھیں گی، مگر ہم نے سب کو قائل کیا۔ اب ہمارے بعد آنے والوں کے لیے آسانیاں ہیں کیونکہ ہم نے ثابت کر دکھایا کہ پردے میں رہ کر بھی کاروبار ہوسکتا ہے۔ ہم پردے کا پورا اہتمام کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں کوئی مرد نہیں آتا۔ خریدار بھی خواتین ہیں۔ ابتدا میں خریدار نہیں آتے تھے۔ ہم سارا سار دن خالی بیٹھے رہتے تھے لیکن آہستہ آہستہ خریدار خواتین کو احساس ہوگیا کہ خاتون دکاندار سے خریداری کرنا آسان ہے۔ بہت سی ایسی اشیا ہیں جو مرد دکاندار سے نہیں خریدی جاسکتیں۔ میرا بیوٹی پارلر بھی ہے اور کاسمیٹکس کے علاوہ دلہنوں کے لیے کپڑے بھی بیچتی ہوں۔ شادی بیاہ کا فل پیکج ہے۔ اللہ کا شکر ہے مہینے کے 70، 80 ہزار کمالیتی ہوں، جبکہ سیزن جیسے عید وغیرہ پر تو اور بھی زیادہ کمائی ہوجاتی ہے‘۔

کشش بیوٹی پارلر—تصویر لکھاری
کشش بیوٹی پارلر—تصویر لکھاری

ایک دُور دراز، مشکل اور دشوار راستوں کے حامل پہاڑی شہر اسکردو میں یہ سب دیکھ کر حیرت اور خوشی ہوتی ہے کہ حوا مارکیٹ کے بعد کہکشاں مارکیٹ اور دیگر مزید 12 کاروباری مراکز آباد ہوچکے ہیں جہاں خواتین اپنا کاروبار کررہی ہیں۔ رات 12 بجے تک یہ دکانیں کھلی رہتی ہیں۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ اتنا تسلی بخش نظر نہیں آتا۔ بہت سی ایسی آوازیں ہیں جو ابھی تک ان سنی ہیں۔

کوتھم پائن کی رقیہ بی بی کا کہنا ہے کہ ’ہم یہاں کیچڑ سے غرق گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حکومت ہمیں گھروں کی تعمیر کے لیے متبادل جگہ دے، روزگار کے لیے بھی ہمیں کوئی تربیت، کوئی قرضہ وغیرہ دے‘۔

سد پارہ گاؤں کی روزی بی کہتی ہیں کہ ’ہم دوبارہ ’پٹو‘ (روایتی کمبل یا چادر) کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں اچھی نسل کی بکریاں اور بھیڑیں رکھنا پڑیں گی۔ یہ پٹو سیاح بہت اچھی قیمت پر لے لیتے ہیں۔ حکومت ہمیں بلا سود قرضے دے تو ہم یہ کام شروع کرسکتے ہیں‘۔

لیکن حکومت کے کچھ ڈپارٹمنٹ خواتین کی معاشی آزادی کے حوالے سے ابھی بھی تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔ غفران بیگ کا کہنا ہے کہ ’یہاں روایتی طور پر خواتین گھروں سے زیادہ نہیں نکلتیں اس لیے انہیں اس طرح کے کاموں میں شامل کرنا ذرا مشکل ہے۔ البتہ ہم کسی آفت کے موقع پر خواتین اور بچوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ہم دیگر سہولیات کے ساتھ خواتین کے لیے ہائی جین کٹ اور ماہرِ نفسیات کا بھی انتظام کرتے ہیں۔

حکومت کے کچھ اور اعلیٰ افسران نے آف دی ریکارڈ بتایا کہ ’اس علاقے میں خواتین باہر نہیں نکلتیں، یہ تو سب این جی او والوں کی کہانیاں ہیں کہ خواتین کو گھر سے نکل کر کام کرنا چاہیے۔ مرد کس لیے ہوتے ہیں؟

پہاڑوں میں، پہاڑوں ہی کی طرح مضبوط اور مشکل زندگی گزارنے والی بہت سی خواتین اگرچہ مستقبل کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہیں لیکن یہ کام ابھی کافی نہیں ہے۔ حکومت اور اے کے آر ایس پی جیسے دیگر اداروں کو اپنے کام کا دائرہ بڑھانا ہوگا۔ رقیہ بی بی اور روزی بی جیسی بہت سی عورتیں ان کی منتظر ہیں۔ ان کی آواز کو سننا ہوگا۔


اس تحریر کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔