چلی کا فوجی طیارہ انٹارکٹیکا جاتے ہوئے لاپتہ

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

شام 6 بج کر 13 منٹ پر طیارے سے رابطہ منقطع ہوا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
شام 6 بج کر 13 منٹ پر طیارے سے رابطہ منقطع ہوا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

جنوبی امریکا کے ملک چلی کا فوجی طیارہ انٹارکٹیکا میں واقع ایئربیس جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا جس میں 38 افراد سوار تھے۔

امریکی خبررساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چلی کی ایئرفورس کا طیارے سے رابطہ گزشتہ شب ہی منقطع ہوگیا تھا جبکہ حکام نے کئی گھنٹے بعد عندیہ دیا کہ وہ طیارے سے متعلق پُرامید نہیں ہیں۔

اس سے قبل چلی کی فوج نے کہا تھا کہ انہوں نے الرٹ جاری کیا ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں طیارے کا سراغ لگارہی ہیں۔

سی-130ہرکیولس میں عملے کے 17 افراد اور 21 مسافر سوار ہیں، جن میں سے 3 عام شہری ہیں جبکہ طیارے کے عملے کو چلی کے ہوائی اڈے پر ایندھن اور دیگر آلات فراہم کرنے کے لیے پہنچنا تھا۔

مزید پڑھیں: چلی میں 10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

چلی کے صدر سباسٹین پنیرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ وزرائے دفاع اور داخلہ کے ہمراہ ایئرفورس ہیڈکوارٹرز میں موجود ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت کی نگرانی کررہے ہیں۔

طیارہ لاپتہ ہونے سے متعلق بیان میں ایئرفورس نے کہا کہ 7 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد طیارے کا کچھ پتہ نہیں جبکہ اس میں رات 12 بج کر 40 منٹ پر ایندھن ختم ہوگیا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایئرفورس اس علاقے میں سرچ آپریشن کررہی ہے جہاں طیارے سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہوا تاکہ بچ جانے والے افراد کو ریسکیو کیا جائے‘۔

ابتدائی اعلان میں کہا گیا کہ طیارے نے 4 بج کر 53 منٹ پر پنٹا ارینس سے اڑان بھری تھی جو دارالحکومت سان تیاگو سے 3 ہزار سے زائد کلومیٹرز کے فاصلے پر تھا اور شام 6 بج کر 13 منٹ پر طیارے سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔

طیارہ ڈریک کی گزرگاہ پر لاپتہ ہوا جو شدید موسمی صورتحال کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، جہاں منجمد کرنے والے درجہ حرارت اور خوفناک طوفان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جب چلی کے شہر کی خاتون میئر صحافیوں کے سوالات سے بھاگ نکلیں

تاہم گزشتہ روز چلی کی ایئرفورس نے کہا تھا کہ جب طیارے نے اڑان بھری تو موسم اچھا تھا ورنہ مشن کو روانہ نہیں کیا جاتا۔

فورتھ ایئر بریگیڈ کے جنرل ایڈورڈو مسکیورا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ طیارے کی تلاش جاری ہے اور ایک بحری جہاز نے بھی اس علاقے میں سرچ آپریشن میں حصہ لیا جہاں طیارے کا رابطہ منقطع ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب طیارے سے رابطہ منقطع ہوا وہ انٹارکٹیکا بیس سے نصف فاصلے پر تھا، تاہم کوئی ایمرجنسی سگنلز فعال نہیں کیے گئے تھے۔

جنرل ایڈورڈ نے کہا کہ طیارے کے پائلٹ جس کے پاس وسیع تجربہ تھا ان کا گزشتہ شب ہی واپس آنا طے تھا۔