ڈپٹی کمشنر قصور اور کسان اتحاد کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد کسان اتحاد کے عہدیداران نے احتجاج مؤخر کر دیا۔

کمشنر لاہور کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر قصور رانا موسیٰ طاہر نے کسان اتحاد سے طویل مذاکرات کیے جس میں کسانوں کو ریلیف دینے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اور کسان اتحاد کے رہنماؤں نے اوور بلنگ اور دیگر مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

ڈپٹی کمشنر قصور نے کہا کہ زراعت کی ترقی اور کسانوں کی فلاح مریم نواز کی اولین ترجیح ہے اور کسانوں کے ریلیف کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔

دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں گندم کی خریداری کی پالیسی میں بہتری لانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

کسان اتحاد کے عہدیداران نے ڈپٹی کمشنر قصور کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کامیابی مذاکرات کے بعد دھرنا موخر کردیا۔

چند روز قبل ہی صدر پاکستان کسان اتحادخالد کھوکھر نے وزیر اعظم شہبازشریف کو خط لکھ کر ملک میں گندم بحران اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

صدر پاکستان اتحاد نے خط میں لکھا تھا کہ غیر ضروری طور پر گندم درآمد سے ملکی خزانے کو ایک ارب ڈالرکا نقصان ہوا، وزرات تحفظ خوراک نے 35 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم درآمد کی، جس سےکسانوں کو 3 سو 80 ارب اور حکومت 104 ارب روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے معاملے کا نوٹس لینے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں