بچوں کے’ریپ‘میں ملوث فلمسازکی خواتین کے’ریپ‘میں ملوث پروڈیوسرپرتنقید

13 دسمبر 2019

ای میل

ماضی میں بھی ہاوری وائنسٹن میرے خلاف سازشیں کرتے رہے، رومن پولانسکی—فوٹو: اے ایف پی
ماضی میں بھی ہاوری وائنسٹن میرے خلاف سازشیں کرتے رہے، رومن پولانسکی—فوٹو: اے ایف پی

**نابالغ بچی کے ’ریپ‘ میں کم سے کم 2 ماہ تک قید کی سزا کاٹنے والے ہولی وڈ فلم ساز 86 سالہ رومن پولانسکی نے کم سے کم 100 خواتین کے ’ریپ‘ میں ملوث پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پرالزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ہی ان کی شہرت خراب کی۔**

رومن پولانسکی پر 1977 میں ایک 13 سالہ کمسن لڑکی کا ‘ریپ’ کرنے کے الزام سمیت ان پر دیگر متعدد بچوں کو جنسی ہراسانی کا شکار بنانے جیسے الزامات ہیں۔

رومن پولانسکی کو 1977 میں نابالغ بچی کا ریپ کرنے کے جرم میں 42 دن جیل قید کی سزا بھی ہوچکی ہے جب کہ ان پر مذکورہ کیس سمیت دیگر کیسز بھی عدالتوں میں دائر کیے گئے ہیں تاہم ان پر تاحال کسی بھی الزام میں جرم ثابت نہیں کیا گیا۔

دو سال قبل دنیا میں شروع ہونے والی ’می ٹو مہم‘ کے بعد رومن پولانسکی پر بھی شدید تنقید کی گئی اور انہیں بھی بچوں اور کم عمر لڑکیوں کو جنسی ہراسانی اور انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے کے الزامات میں قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

نئے سرے سے رومن پولانسکی پر الزامات لگائے جانےکے بعد گزشتہ برس آسکر اکیڈمی نے ان کی رکنیت بھی معطل کردی تھی اور میڈیا میں انہیں بطور ’چائلڈ ریپسٹ‘ لکھا جانے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: رومن پولانسکی پر الزام لگانے پر ان کی اہلیہ برہم

خود کو میڈیا میں ’بچوں کے ریپ‘ میں ملوث فلم ساز کے طور پر لکھے جانے کے بعد رومن پولانسکی نے اب خاموشی توڑتے ہوئے اس عمل کا ذمہ دار 67 سالہ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے انہیں ’چائلڈ ریپسٹ‘ کہا۔

رومن پولانسکی نے 1989 میں خود سے 33 سال کم عمر خاتون ایمانوئل سیگنر سے شادی کی—فوٹو: فیب فیشن فکس
رومن پولانسکی نے 1989 میں خود سے 33 سال کم عمر خاتون ایمانوئل سیگنر سے شادی کی—فوٹو: فیب فیشن فکس

فرانسیسی میگزین ’پیرس میچ‘ سے بات کرتے ہوئے رومن پولانسکی نے کہا کہ ’خواتین کے ریپ‘ میں ملوث ہاروی وائنسٹن ہی ان کی شہرت خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

رومن پولانسکی کا کہنا تھا کہ ہاروی وائنسٹن کے میڈیا نمائندے نے ہی 2 سال قبل انہیں پہلی بار ’چائلڈ ریپسٹ‘ کہا جس کے بعد ان کی شناخت ’بچوں کے ریپ کرنے والے‘ شخص کے طور پر ہوگئی اور میڈیا میں انہیں ’چائلڈ ریپسٹ‘ لکھا جانے لگا۔

آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ہاروی وائنسٹن نے ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کیا ہے بلکہ اس سے قبل بھی وہ ان کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں اور ہر بار ہاروی وائنسٹن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ہاروی وائنسٹن اس وقت ضمانت پر رہا ہیں—فوٹو: زمبیو
ہاروی وائنسٹن اس وقت ضمانت پر رہا ہیں—فوٹو: زمبیو

رومن پولانسکی نے دعویٰ کیا کہ ان کی شہرت خراب کرنے اور انہیں ’چائلڈ ریپسٹ‘ کے طور پر شناخت کروانے میں ہاروی وائنسٹن کا کردار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رومن پولانسکی نے جس فلم ساز ہاروی وائنسٹن پر شہرت خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے وہ بھی ان دنوں درجنوں خواتین کے ’ریپ‘ اور جنسی ہراسانی کے الزامات کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہاروی وائنسٹن اور ان پر’ریپ‘ الزامات لگانے والی خواتین میں معاہدہ طے پاگیا

ہاروی وائنسٹن ہی وہ شخص ہیں جن پر اکتوبر 2017 میں خواتین کی جانب سے ’ریپ‘ اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جانے کے بعد دنیا بھر میں ’می ٹو مہم‘ شروع ہوئی۔

ہاروی وائنسٹن پر بھی کم عمر لڑکیوں سمیت کم سے کم 100 اداکاراؤں و خواتین کے ساتھ ’ریپ‘ اور انہیں ’جنسی ہراسانی‘ کا نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔

ان کے خلاف بھی امریکا کی متعدد عدالتوں میں کیسز زیر التوا ہیں اور آئندہ ماہ جنوری میں نیویارک کی عدالت میں ان کے خلاف ایک اہم ’ریپ‘ کیس کی سماعت ہوگی جس کے تحت اگر ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 10 سے 15 سال قید ہو سکتی ہے۔

ہاروی وائنسٹن کے حوالے سے گزشتہ روز 12 دسمبر کو ہی خبر سامنے آئی تھی کہ وہ ’ریپ‘ اور جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے والی 30 خواتین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور امکان ہے کہ جلد ہی ان کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔

ہاروی وائنسٹن پر 100 خواتین و اداکاراؤں نے الزام لگائے تھے —فائل فوٹوگلیمر یوکے
ہاروی وائنسٹن پر 100 خواتین و اداکاراؤں نے الزام لگائے تھے —فائل فوٹوگلیمر یوکے