سال 2019 میں طلوع ہوتی کتابیں

17 دسمبر 2019

ای میل

صاحبو، اپنے اختتام کی سمت گامزن اس سال نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اس ملک میں کتاب کا عشق ابھی ختم نہیں ہوا، اس کی خوشبو کے متلاشی کم نہیں، ان میں سانس لیتی دانش کا آج بھی ایک زمانہ معترف ہے۔

ماضی کے برعکس اب شہر شہر ادبی میلے اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد ہی نہیں بلکہ فیصل آباد، گوادر اور پشاور سے بھی دل پذیر خبریں موصول ہورہی ہیں۔ کتب میلوں کا سفر بھی جاری، جس میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں اور ہزاروں کتابیں خریدی جاتی ہیں۔

اس برس بھی کئی اہم کتب منظرِ عام پر آئیں۔ سب تک رسائی نہ تو ممکن، نہ ہی تمام کو پڑھ پانے کی قوت۔ ہاں، مگر جو کتب مطالعے میں آئیں، ان میں چند ضرور ایسی ہیں جو دل میں میرے اتر گئیں۔

اس تحریر کا مقصد ادب کے قارئین کو سال 2019ء کی ان کتب سے متعارف کروانا ہے، جنہیں پڑھنا ان کے لیے ایک دل پذیر تجربہ ثابت ہوگا۔ ہمارا میدان کیونکہ فکشن ہے اس لیے بیشتر کتابوں کا تعلق فکشن ہی کے میدان سے ہے۔

سلگتے چنار

اس فہرست میں پہلا نام تو ناصر بیگ چغتائی کے ناول ’سلگتے چنار‘ کا ہے۔ یہ سیاسی ناول کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کا احاطہ کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرکے وہاں ظلم کی سیاہ رات کو دبیز کردیا، اس ناول کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ یہ ناول صرف اپنے موضوع ہی نہیں بلکہ اس باعث بھی قارئین کو متوجہ کرتا ہے کہ یہ ناصر بیگ چغتائی جیسے سینئر قلمکار کی تخلیق ہے۔

زینہ

سینئر فکشن نگار خالد فتح محمد کے ناول ’زینہ‘ کی فضا ایسی پُراسرار ہے کہ ایک بار اس میں داخل ہونے کے بعد فرار کا کوئی راستہ نہیں۔ اس زینے پر قدم رکھنے کے بعد آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کس سمت جارہے ہیں۔ یہ پرتال ہے یا آکاش۔ بس کہانی ہی جانتی ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس کتاب میں ایک تجربہ کار، پختہ لکھاری کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔ قاری متاثر نہ ہو، یہ ذرا مشکل ہے۔

کہانی مجھے ملی

ممتاز ڈراما نویس اور کالم نگار اصغر ندیم سیّد کے افسانوں کا مجموعہ’کہانی مجھے ملی‘ یوں اہم کہ اس کے ذریعے ہم ایک تجربے کار، مقبول اور وسیع مشاہدے کے حامل قلمکار کو فکشن کی دنیا میں داخل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اسی برس ان کا ناول ’ٹوٹی ہوئی طناب ادھر‘ بھی شائع ہوا۔ امید ہے کہ نئے برس اس ناول کے پہلو تفصیل سے زیرِ بحث آئیں گے۔

کائنات کی پرانی کہانی / کچھ بے ترتیب کہانیاں

ڈاکٹر ارشد رضوی کے فکشن کی تہ داری اور اداس فضا دل موہ لیتی ہے۔ ان کے افسانے عام پڑھت سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مبہم کردار، غیر واضح پلاٹ، ان کی پیش کردہ علامتوں اور تجریدی رنگ کو مہمیز کرتے ہیں۔ یہ فکشن ایک چنوتی ہے۔ ان کا افسانہ ’کائنات کی پرانی کہانی‘ بہت سوں کی کتابوں پر بھاری ہے۔ ان کا مجموعہ ’کچھ بے ترتیب کہانیاں‘ بھی ان ہی دنوں منظرِ عام پر آیا۔

دھواں

افسانہ نگار شاکر انور کے پہلے ناول ’دھواں‘ پر بھی مزید گفتگو کی گنجائش ہے۔ مختصر مگر پُراثر افسانوں سے شناخت بنانے والے اس قلمکار کا یہ ناول ان کے فکشن سے جڑے مباحث کو مزید جہتیں عطا کرے گا۔

دیپ کی لو پر شبنم

بلوچستان ہی سے محمد وسیم شاہد اپنے ناول ’دیپ کی لو پر شبنم‘ کے ساتھ اپنی آمد کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’کافر چڑیاں‘ بھی اسی برس ہم تک پہنچا۔

پانی مر رہا ہے

رواں برس ہی آمنہ مفتی کا ناول ’پانی مر رہا ہے‘ پڑھنے کا خوشگوار تجربہ ہوا۔ ناول نگار کی دلیری قابلِ تعریف، جس نے کہانی میں ناممکنات کو اتنی پختگی اور خوب صورتی سے شامل کیا کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھے۔ اس کے عجیب الخلقت کردار کہانی سے باندھ کر آپ کو کلائمکس تک لے جاتے ہیں۔ کلائمکس، جسے شاید آپ فوری نہ بھلا سکیں۔

اک چپ، سو دکھ

اداسی کی چادر اوڑھے آدم شیر کی کتاب ’اک چپ، سو دکھ‘ بھی ہم نے رواں برس پڑھی۔ فکشن کی زبان لکھنے کی قابلیت آپ کو چونکا دیتی ہے۔ جبر کے اس زمانے میں بچوں کی معصومیت کو منظر کرنے والے اس فکشن نگار سے، جو اپنے صحافتی تجربے سے بھی استفادہ کرتا ہے۔

آئنہ نما

ہمیں بڑی امیدیں ہیں اور ایسی ہی امیدیں ظفر عمران سے بھی ہیں، جن کا مجموعہ ’آئنہ نما‘ پیپر بیک ایڈیشن میں اس برس شائع ہوا۔ اسکرپٹ رائٹنگ کے میدان کے یہ شہوار اب افسانے کے میدان میں اتر چکے ہیں۔ شوخی اور بے ساختگی کے ساتھ یہ ہمیں مستقبل میں بھی حیران کرسکتے ہیں۔

بولان کے آنسو / سونے پر اُگی بھوک

آغا گل بلوچستان کے اردو فکشن نگار میں اہم ترین نام۔ ان کے 2 افسانوی مجموعے میرے سامنے ہیں۔ ’بولان کے آنسو‘ اور ’سونے پر اُگی بھوک‘۔ آغا گل کا فکشن بلوچستان کی طرزِ فکر، طرزِ زندگی تک رسائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ افسوس، ایک اہم افسانہ نگار فاصلوں کی نذر ہوا، اور کسی ادبی کانفرنس اور میلوں تک نہ پہنچ سکا۔

سانس لینے میں درد ہوتا ہے

راقم کے من پسند فکشن نگار محمد حمید شاہد کا افسانوی مجموعہ ’سانس لینے میں درد ہوتا ہے‘ بھی اسی برس کی دین ہے۔ ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ جیسے تخلیقی ناول کے مصنف کی یہ کتاب قارئین کے لیے لازمی مطالعہ ہے۔

کراچی جو اک شہر تھا

سفرنامہ نویس عبید اللہ کیہر کی کتاب ’کراچی جو اک شہر تھا‘ بھی اس برس منظر پر آئی، پڑھی گئی اور زیرِ بحث آئی۔ ہماری خواہش ہے کہ وہ اس موضوع پر مزید لکھیں کہ کراچی اپنے ساحل کی طرح ایک بے کراں موضوع ہے۔

میرواہ کی راتیں / خواہ مخواہ کی زندگی

رفاقت حیات کے ناول ’میرواہ کی راتیں‘ اور افسانوی مجموعے ’خواہ مخواہ کی زندگی‘ کے تازہ ایڈیشن بھی دسمبر میں سامنے آئے۔

پھٹتے آموں کا کیس

ترجمے کے میدان میں بھی اہم کام ہوا۔ پہلے ذکر جناب محمد حنیف کے ناول A Case of Exploding Mangoes کا، جسے سید کاشف رضا نے ’پھٹتے آموں کا کیس‘ کے عنوان سے بڑے نپے تلے انداز میں اردو قالب میں ڈھالا۔ یوں کہ حنیف کا استہزائیہ اسلوب برقرار رہا۔ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔ کتاب کے نام پر کچھ اعتراض ہوا۔ ہمیں بھی ’دھماکا خیز آم‘ زیادہ موزوں لگا تھا، مگر نام سے اہم متن ہے۔

فسانہ عالم

نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیوں کو ’فسانہ عالم‘ کے عنوان سے نجم الدین احمد نے اردو روپ دیا۔ یہ کتاب سن 2000 کے بعد نوبیل انعام حاصل کرنے والے تخلیق کاروں کی کہانیوں کو ہم تک پہنچاتی ہے، اور یوں یہ اپنے عصرے جڑ کر مزید اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ نجم الدین احمد اس سے پہلے بھی نوبیل انعام یافتہ فکشن نگاروں کی بیش قیمت تخلیقات ہم تک پہنچاتے رہے ہیں۔

دوزخ نامہ

بنگلا زبان کے ادیب ربی سنکر بال کے مشہور ناول ’دوزخ نامہ‘ کو معروف شاعر اور مصنف، انعام ندیم نے اردو روپ دیا۔ یہ منٹو اور غالب کے درمیان، بعد ازمرگ ہونے والا مکالمہ ہے۔ کتاب ابھی شیلف میں موجود۔ امید ہے، مترجم نے متن سے بھرپور انصاف کیا ہوگا۔ تبصرے حوصلہ افزا ہیں۔

پرورش

سیلف ہیلپ کی کیٹیگری میں محمد زبیر کی کتاب ’پرورش‘ کا چرچا رہا، جس کے چند ہی ماہ میں 3 ایڈیشن شائع ہوئے۔ ان کی اوّلین کتاب ’شکریہ‘ کا نیا ایڈیشن بھی اسی برس آیا۔ لائف کوچنگ کے میدان میں محمد زبیر کے ہاں بہت امکانات ہیں۔

ہر برس اہم ترین کتب کی اشاعت کا اہتمام ہوتا ہے۔ فردِ واحد کے لیے ان تمام کا مطالعہ تو ممکن نہیں، مگر جن کی خبر اس تک پہنچے، ان کا تذکرہ کرنا ضروری ہے تاکہ عشاق ان تک رسائی پائیں۔

اسی برس مزید کیا شائع ہوا؟

اس فہرست میں مسعود اشعر کی کہانیوں کا مجموعہ ’سوال کہانی‘ اہم ہے۔ ان جیسی شخصیت کا دم غنیمت ہے۔ پھر خالد فتح محمد کا افسانوی مجموعہ: ’میں‘، امین صدرالدین بھایانی کی کتاب: ’خوابوں کے بند دروازے‘، کشور ناہید کے کالمز کا مجموعہ: ’ہزار داستان‘، یونس جاوید کے خاکے ’ذکر اس پری وش کا‘ اور ’ایک چہرہ یہ بھی ہے‘، اسی طرح صابر ظفر کا شعری مجموعہ ’آواز کی لہر پر چلا میں‘، ڈاکٹر ابرار احمد کا مجموعہ ’موہوم کی مہک‘، منیر احمد سلیچ کی کاوش ’نوادرات فیض‘، راقم کا ناول ’تکون کی چوتھی جہت‘ اور ہمارے پرچے ’اجرا‘ کا یوسفی نمبر بھی اس برس شائع ہوئے۔

اچھا، اسی برس جام فدا حسین بھینٹ نے ’کراچی کا آشوب اور اردو افسانہ‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے، جو اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم ہے۔

تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی خاصا کام ہوا، رسائل بھی چھپتے رہے مگر انہیں کسی اور تحریر کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال کے لیے اتنا ہی!