• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:52pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:46pm
  • ISB: Maghrib 7:20pm Isha 9:00pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:52pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:46pm
  • ISB: Maghrib 7:20pm Isha 9:00pm

افریقی ملک تنزانیہ میں طوفانی بارشیں، 155 افراد ہلاک

شائع April 25, 2024
ال نینو قدرتی موسمیاتی سیزن ہے جو مشرقی افریقا میں تباہ کن اثرات کا باعث بن سکتا ہے—فوٹو:الجزیرہ
ال نینو قدرتی موسمیاتی سیزن ہے جو مشرقی افریقا میں تباہ کن اثرات کا باعث بن سکتا ہے—فوٹو:الجزیرہ

مشرقی افریقی ملک تنزانیہ میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 155 افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق تنزانیہ کے وزیر اعظم قاسم مجالیوا نے مخصوص موسمیاتی تغیرات کے باعث ہونے والی طوفانی بارشوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق بتایا۔

تنزانیہ اور مشرقی افریقا کے دیگر ممالک ایسے خطے میں واقع ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی خطرات سے دوچار ہے، خطے جاری موسم برسات کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں جب کہ کینیا میں بھی درجنوں اموات کی اطلاعات ہیں۔

قاسم مجالیوا نے کہا کہ بارشوں سے 51 ہزار سے زیادہ گھر اور 2 لاکھ سے زیاد افراد متاثر ہوئے ، بارشوں کے باعث 155 اموات ہوئیں جب کہ 236 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

قاسم مجالیوا نے تنزانیہ کے دارالحکومت ڈوڈوما میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے ساتھ ہونے والی شدید ’ال نینو‘ بارشوں نے کافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ بارشوں کے باعث اموات کے علاوہ، فصلوں، گھروں، شہریوں کی املاک اور انفراسٹرکچر سڑکوں، پلوں اور ریلوے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی سیزن ہے جو عام طور پر دنیا بھر میں بڑھتی گرمی، دنیا کے کچھ حصوں میں خشک سالی، دیگر خطوں میں شدید بارشوں سے منسلک کیا جاتا ہے اور یہ مشرقی افریقا میں تباہ کن اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

نیروبی میں خوفناک سیلاب

دوسری جانب دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک برونڈی میں کئی مہینوں سے جاری بارشوں سے لگ بھگ 96 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ مارچ کے مہینے میں موسم برسات شروع ہونے کے بعد سے کینیا میں تقریباً 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، مرنے والوں میں وہ 13 افراد بھی شامل ہیں جو رواں ہفتے دارالحکومت نیروبی میں آنے والے سیلاب میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کے باعث پورے شہر میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے، سڑکیں، پل بلاک ہیں اور کچی آبادی والے اضلاع میں گھر زیر آب ہیں جب کہ کینیا کے صدر نے صوررتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ملک بھر میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث شہروں الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 11 جولائی 2024
کارٹون : 10 جولائی 2024