پشاور: شادی کیلئے وطن واپس آنے والا سکھ نوجوان قتل

اپ ڈیٹ 05 جنوری 2020

ای میل

پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی جائے گی—فوٹو: اےایف پی
پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی جائے گی—فوٹو: اےایف پی

پشاور پولیس نے فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سکھ نوجوان کی لاش چمکنی کے علاقے سے برآمد کرکے تفتیش شروع کردی۔

پشاور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساجد خان نے ڈان کو بتایا کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: غیرت کے نام پر جوڑے کا قتل

انہوں نے کہا کہ چیکسر شانگلہ کے رہائشی پرویندر سنگھ کو ہفتے کی شب چمکنی پولیس اسٹیشن کی حدود میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق پرویندر سنگھ اپنی شادی کی تیاریوں کے سلسلے بیرون ملک سے پشاور پہنچا تھا۔

پولیس کے مطابق 'ہفتے کی شب مقتول کے بھائی کو پرویندر سنگھ کے نمبر سے ہی فون آیا اور ایک نامعلوم شخص نے پرویندر سنگھ کے قتل اور ان کی لاش سے متعلق آگاہ کیا'۔

پولیس کے مطابق مقتول کی لاش ایک برساتی نالے سے برآمد کی گئی جبکہ مقتول کے سر میں گولی کا گہرا زخم تھا۔

مزید پڑھیں: غیرت کے نام پر قتل کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں

ایس ایس پی نے مزید کہا کہ پرویندر سنگھ گزشتہ 6 برس سے ملائیشیا میں ملازمت کررہے تھے اور اگلے ماہ (فروری) میں ان کی شادی تھی اور اسی سلسلے میں تیاری کے لیے حال ہی میں پاکستان پہنچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ قتل کی وجوہات کا تعین ابھی نہیں ہوسکا لیکن مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی جائے گی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقتول کے بھائی ہرمیت سنگھ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کو اجاگر کریں تاکہ ان کے بھائی کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں'۔