جوہری معاہدے کی بنیاد پر تہران کے خلاف کارروائی کے سنگین نتائج ہوں گے،جواد ظریف

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے ایرانی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے ایرانی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو خبردار کیا ہے کہ اگر 2015 کے جوہری معاہدے کی روگردانی کو جواز بنا کر تہران کے خلاف کوئی کارروائی شروع ہوئی تو اس کے 'سنگین نتائج' ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ 'یقیناً، اگر یورپی ممالک نے تہران کے خلاف کوئی طرز عمل اپنایا تو انہیں نتائج قبول کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: 'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

انہوں نے کہا کہ پورپی ممالک نے معاہدے کی تھوڑی پاسداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ معاہدے کو قائم رکھنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ جوہری معاہدے کی پاسداری کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے تہران کے خلاف 'قرارداد پر مشتمل تنازع میکانزم' شروع کردیا گیا۔

اس سے قبل فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی 'مکمل پاسداری' کرے۔

تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ 'یہ ضروری ہے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پوری تعمیل کرے۔'

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'جولائی 2019 کے بعد سے ایران کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی پر گہری تشویش ہے، ایسے تمام اقدامات ختم ہونے چاہئیں'۔

یہ بھی پڑھیں: ویانا اجلاس جوہری معاہدہ بچانے کا آخری موقع ہے، ایران

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور واشنگٹن نے تہران کا دعویٰ مسترد کردیا تھا کہ حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

جس کے بعد ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ 'ایران یورینیم کی افزودگی، ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں تحقیق و ترقی میں کسی بھی قسم کی حدبندی نہیں رکھے گا'۔

واضح رہے کہ 8 مئی 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے چین، روس، برطانیہ، جرمنی سمیت عالمی طاقتوں کے ہمراہ سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران کا 27 جون سے یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کرنے کا اعلان

5 مارچ 2019 کو اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ادارے نے کہا تھا کہ ایران 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کی تعمیل کررہا ہے اور مزید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے پر کاربند ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے مابین ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔

ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران بلیسٹک میزائل بنانے کے تمام پروگرام بند کردے گا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔