سندھ میں آٹے کے بحران کی ذمے دار صوبائی حکومت ہے، فردوس عاشق اعوان

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020

ای میل

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت اپنے 5 سال پورے کرے گی — فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت اپنے 5 سال پورے کرے گی — فوٹو: اے پی پی

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صوبہ سندھ میں آٹے کے بحران کا ذمے دار صوبائی حکومت کو قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بحران ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگا ہے اور آٹے کے بحران اور قلت کی سب سے زیادہ شکایات سندھ سے موصول ہو رہی ہیں۔

اس معاملے پر اتوار کو سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سندھ حکومت نے کوتاہی کرتے ہوئے گندم نہیں خریدی جس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے سندھ کو 4 لاکھ ٹن گندم دینے کا حکم صادر کیا۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے 4 لاکھ ٹن کے بجائے ایک لاکھ ٹن گندم اٹھائی ہے جس کا مطلب ہے یہ اسٹاک کا نہیں بلکہ سپلائی کا مسئلہ ہے کیونکہ سندھ حکومت اپنی ملوں تک اسے پہنچانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے آٹے کی ملیں مکمل استعداد سے کام کرنے سے قاصر ہیں، نتیجتاً مارکیٹ میں آٹے کی کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

اس موقع پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے دکھ اور درد میں میڈیا میں نڈھال نظر آنے والی حکومت سے میں درخواست کروں گی کہ وہ گندم کی ترسیل شروع کر کے ملوں تک اسٹاک پہنچائے تاکہ سندھ میں آٹے کی قیمتیں نیچے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 814 فلور ملز ہیں جن کو 25ہزار 390ٹن گندم پنجاب حکوت یومیہ کی بنیاد پر فراہم کررہی ہے اور پنجاب حکومت نے ملوں سے باہر آنے والے آٹے کو عوام تک پہنچانے کے لیے فاسٹ ٹریک مکینزم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی کی تجاویز طلب کرلیں

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر گندم کی فروخت کے خصوصی طور پر 368مراکز بنائے گئے اور ذخیرہ اندوزوں کا پتہ چلانے کے لیے 181ٹریکنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جن چکیوں پر مہنگا آٹا بن رہا تھا ان کے خلاف حکومت پنجاب نے آپریشن کرتے ہوئے 6اضلاع میں اپنے افسران کو برطرف کردیا ہے کیونکہ یہ افسران آٹے کی چکیوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے قیمت کے اتار چڑھاؤ اور عوام کو مشکلات میں مبتلا کرنے میں مصروف تھے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پنجاب میں موجود 814فلور ملوں کو حکومت روزانہ کی بنیاد پر 290ٹن گندم سبسڈائزڈ نرخوں پر فراہم کررہی ہے اور وہاں 805 روپے کا آٹا فروخت ہو رہا ہے اور اس سے زائد قیمت پر آٹے کی فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑوں گا اور ان کے خلاف جنگ اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور عوام کی طاقت سے ہم ان کو شکست دیں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا بچت اسکیموں میں 40 کھرب روپے سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان نے یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے 6ارب کا پیکج دے کر آپ کا حق، آپ کو دیا جہاں یوٹیلٹی اسٹورز میں آپ کو دالیں، آٹا چاول، چینی اور گھی مارکیٹ سے سستے داموں پر دستیاب ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی یتیموں کا ٹولا یہ تاثر دے رہا ہے کہ حکومت اپنی معیاد پوری نہیں کر سکے گی کیونکہ اتحادی ان سے لاتعلق ہو رہے ہیں لیکن یہ دیوانے کے خواب دیکھنے والے سیاسی یتیم سن لیں کہ حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 5سال پورے کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ایک مخلوط حکومت کا حصہ ہیں اور اپنا نقطہ نظر پیش کرنے اور اپنے منشور کے مطابق عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہر جماعت کا بنیادی حق اور جمہوریت کا حسن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق نے قدرتی آفات میں بلوچستان کو اکیلا چھوڑ دیا، وزیر اعلیٰ کا شکوہ

وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ قومی ترقی اور عوامی خوشحالی کے ایجنڈے پر حکومت اور اتحادی ایک پیج پر ہیں، ایم کیو ایم سمیت باقی تمام اتحادیوں سے مثبت بات چیت جاری ہے اور اس حوالے سے ہم جلد آپ کو خوشخبری دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی روشنیوں کا شہر ہے اور اس شہر کی روشنیوں کو دوبالا کرنے کے لیے وزیر اعظم نے جو 162ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے، اس پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے اور کراچی سے جلد انڈسٹرلائزیشن کے ذریعے بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا اور کراچی میں آنے والے امن کے مثبت اثرات ہماری معیشت پر بھی نظر آئیں گے۔