نیاز اسٹیڈیم: وہ لاوارث میدان جس کو کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں

اپ ڈیٹ 08 فروری 2020

ای میل

شائقینِ کرکٹ کو تھا جس کا انتظار وہ شاہکار وقت آ ہی گیا۔ پاکستان سپر لیگ (پی سی ایل) ہونے کو ہے۔ اس بار کرکٹ کے متوالے کچھ زیادہ ہی خوش ہیں کیونکہ پانچویں ایڈیشن کے موقعے پر پہلی بار پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان کی سرزمین پر ہی کھیلے جائیں گے۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی رونقیں بھی بحال ہونے لگی ہیں۔ دسمبر 2019ء میں سری لنکن ٹیم 10 سالہ طویل وقفے کے بعد 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی۔ پھر بنگلادیشی ٹیم بھی یہاں سیریز کھیلنے پر راضی ہوئی۔

مگر حیدرآباد کرکٹ کے چاہنے والوں کی بین الاقوامی کرکٹ کے لوٹنے سے متعلق آرزو ابھی ادھوری ہے، کیونکہ کراچی کے بعد سندھ کے واحد بین الاقوامی اسٹیڈیم یعنی نیاز اسٹیڈیم میں ابھی کافی مرمتی کام کی ضرورت ہے۔

سابق کمشنر نیاز احمد نے اس میدان کو 1959ء میں بنوایا تھا۔ اگرچہ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ سال نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پی ایس ایل کے میچوں کا انعقاد نیاز اسٹیڈیم میں بھی ہوگا لیکن اس کے باوجود اس مرتبہ یہ میدان پی ایس ایل کے کسی ایک میچ کی بھی میزبانی نہیں کر رہا۔

نیاز اسٹڈیم، حیدرآباد کا پویلین—تصویر بشکریہ عمیر علی
نیاز اسٹڈیم، حیدرآباد کا پویلین—تصویر بشکریہ عمیر علی

'نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے ساتھ ساتھ نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد میں بھی پی ایس ایل 2020ء کے میچوں کا انعقاد ہوگا'، یہ اعلان کرنے سے پہلے وزیرِاعلی سندھ نے گزشتہ برس پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی سے ملاقات بھی کی تھی۔

وزیرِاعلیٰ نے 26 مارچ 2019ء کو ڈیویژنل کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ کو ہدایت بھی جاری کردی تھی کہ وہ نیاز اسٹیڈم کو بین الاقوامی اسٹیڈیم میں بدلنے کے لیے مطلوبہ مرمتی اور تعمیراتی کام شروع کروا دیں تاکہ یہاں پی ایس ایل 2020ء کے میچ کھیلے جاسکیں۔

سندھ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے لیکن اس کے باوجود یہاں نشینل اسٹیڈیم کراچی اور نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد کی صورت میں صرف 2 بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم ہیں جہاں پاکستان کی ٹیم نے تاریخی ریکارڈز قائم کیے ہوئے ہیں۔

پڑھیے: پاکستان سپر لیگ میں 2 سب سے بہترین ٹیمیں کونسی ہیں؟

اسی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے اسٹیڈیم کی نگران مقامی میونسپل کمیٹی سے جولائی 2007ء میں سمجھوتے کی یادداشت کے تحت میدان کا انتظامی کنٹرول حاصل کیا تھا۔ کرکٹ میدان 11 برس تک پی سی بی کے دائرہ اختیار میں رہا جس کے بعد میونسپل کمیٹی نے 2 اپریل 2018ء کو اپنی مرضی سے سمجھوتے کی یادداشت منسوخ کرکے اسٹیڈیم کو اپنے دائرہ اختیار میں لے لیا۔

سمجھوتے کی یادداشت کی منسوخی صرف کچھ حد تک ہی قابلِ فہم تھی۔ مقامی میونسپل کی قیادت کا شکوہ ہے کہ 11 برسوں کے دوران پی سی بی نے سمجھوتے کی یادداشتوں میں شامل وعدوں کو پورا نہیں کیا، یوں سمجھوتے کی منسوخی کی راہ ہموار ہوئی۔

دوسری طرف پی سی بی اپنی مجبوریاں گنواتی ہے کہ بورڈ اپنی کمزور مالی حالت کے باعث کسی بھی ایک مقام پر بھاری سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہے۔

2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ پاکستان کو ورلڈ کپ 2011ء کی میزبانی سے محروم کردیا گیا اور پاکستانی ٹیم کو اگلے 10 برسوں تک نیوٹرل مقامات پر کرکٹ کھیلنا پڑی۔ اس عرصے کے دوران پی سی بی نے ملک میں کرکٹ انفرااسٹرکچر پر زیادہ سرمایہ کاری ہی نہیں کی۔

پھر پی سی بی کے فلیگ شپ منصوبے نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی امیدیں جگائیں۔ بین الااقوامی کرکٹ ستارے لاہور اور کراچی میں میچ کھیلنے پر آمادہ ہوئے، اور اب اس مرتبہ تو پی سی ایل کے تمام میچ ملکی زمین پر کھیلے جائیں گے جس پر کرکٹ شائقین بہت زیادہ خوش ہیں۔

2018ء میں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا پی ایس ایل فائنل ہی وہ موقع تھا جب وزیراعلیٰ سندھ نے پہلی مرتبہ پی ایس ایل میچوں کا کراچی اور حیدرآباد میں انعقاد کا اشارہ دیا تھا۔ پھر 2019ء کا سال آیا جس میں حکومتِ سندھ نے پی ایس ایل 2020ء کے میچوں کی میزبانی سے متعلق یہ حوصلہ افزا اعلان کیا، لیکن تاحال حیدرآباد کرکٹ کی محرومی ختم نہیں ہوئی ہے۔

ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن (آر سی اے) حیدرآباد کے سابق صدر میر حیدر علی تالپور کہتے ہیں کہ، ’اگر گراؤنڈ کا انتظام پی سی بی کے پاس ہوتا تو بورڈ یہاں پی ایس ایل میچوں کے انعقاد سے متعلق کچھ نہ کچھ کام ضرور کررہا ہوتا۔ کیا قاسم آباد میونسپل کمیٹی نے اس میدان پر کوئی قابلِ ذکر کام کروایا؟ بالکل بھی نہیں۔ جب یہ میدان پی سی بی کے زیرِ انتظام تھا تب کم از کم یہاں باقاعدگی سے فرسٹ کلاس میچوں کا تو انعقاد ہوا کرتا تھا۔ سلمان بٹ اور کامران اکمل جیسے کھلاڑیوں نے بھی بہت ہی زبردست اننگز کھیلی ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ تو ہر ایک جانتا ہے کہ جب پاکستان دیگر ملکوں میں میچوں کی میزبانی کر رہا تھا اس دوران تو پی سی بی شدید مالی مسائل کے باعث کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی مینٹیننس سے بھی قاصر تھا، اور پی ایس ایل کی آمد کے بعد سے ہی میدانوں کا خیال رکھا جانے لگا ہے۔

جب یہاں میچوں کے انعقاد کے امکانات بڑھ چکے تھے عین اسی وقت سمجھوتے کی منسوخی پر افسوس کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ، ‘اگر حکومتِ سندھ اپنی خواہش کے مطابق اس میدان کو بہتر حالت میں دیکھنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ سنجیدگی سے پی سی بی سے رابطہ کرے اور گراؤنڈ کا انتظام بورڈ انتظامیہ کے حوالے کردے‘۔

دوسری طرف گزشتہ برس وزیرِاعلیٰ سندھ کی جانب سے نیاز اسٹیڈیم کے مرمتی کام سے سلسلے میں جاری کردہ ہدایات پر زیادہ عمل ہوتا بھی دکھائی نہیں دیا ہے۔ ڈی سی حیدرآباد نے ستمبر 2019ء میں وزیرِاعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری تک یہ بات پہنچائی تھی کہ وزیرِاعلیٰ کی ہدایات کے باوجود کھیلوں کے محکمے نے نیاز اسٹیڈیم میں کسی قسم کا مرمتی کام نہیں کروایا ہے۔ کمشنر نے وزیرِاعلیٰ کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ، ’اس وقت گراؤنڈ قاسم آباد کی میونسپل کمیٹی کے زیرِانتظام ہے جو کسی بھی طور پر ایک بین الاقوامی گراؤنڈ کی مرمت اور اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی‘۔

پڑھیے: پی ایس ایل میں خالی میدانوں سے بچنے کے لیے ’یہ کام ضرور‘ کریں

چونکہ میونسپل کمیٹی نے پی سی بی کے ساتھ سمجھوتا منسوخ کردیا ہے اس لیے بورڈ بھی نیاز اسٹیڈیم پر کسی قسم کا کام کروانے میں جلد بازی سے گریز کر رہا ہے، حالانکہ ڈی سی تواتر سے اس معاملے کو پی سی بی کے سامنے اٹھاتے چلے آ رہے ہیں۔ پی سی بی کی بات کریں تو بورڈ ملکی زمین پر سیریز کے انعقاد اور پی سی ایل کے انتظامات میں اتنا مصروف ہے کہ اس کے پاس زیادہ وقت ہی نہیں ہے۔

کمشنر عباس بلوچ کہتے ہیں، ’پی سی بی کی جانب سے ہمیں کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیڈیم دیکھنے کے لیے اپنا نمائندہ اسٹیڈیم بھیجیں گے۔ میونسپل کونسل بین الاقوامی کرکٹ میچوں کا انعقاد نہیں کرواسکتی کیونکہ کونسل کے پاس اس کام کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے، اسی لیے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پی سی بی کو آگے آنا ہوگا اور اس سلسلے میں ہم پی سی بی کی مدد کریں گے‘۔

پی سی بی سے سندھ کے محکمہ اسپورٹس نے بھی رابطہ کیا، مگر جس طریقے سے رابطہ کیا گیا اس میں پروفیشنل ازم کی واضح کمی دکھائی دیتی ہے۔

21 مارچ 2019ء کو محکمے کے ڈپٹی سیکرٹری محمد ضیا عباس نے خط میں براہِ راست پی سی بی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ، 'وزیرِاعلی اس بات پر خوشی کا اظہار کریں گے اگر نیاز اسٹیڈیم بین الاقوامی کھیلوں کے لیے تیار ہوجائے'۔

نیاز اسٹیڈیم کی خستہ حالی—تصویر بشکریہ عمیر علی
نیاز اسٹیڈیم کی خستہ حالی—تصویر بشکریہ عمیر علی

خط کی زبان یہ تاثر دیتی ہے جیسے پی سی بی یہ کام کرنے کا پابند ہو۔ خط کو لکھنے والے بیوروکریٹ کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ پی سی بی کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے یا لاہور میں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ سمجھوتے کی منسوخی کے بعد نیاز اسٹیڈیم اب پی سی بی کے زیرِانتظام نہیں اور یہ کہ میدان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری مقامی میونسپل انتظامیہ کی ہے۔

پی سی بی افسر لیفٹیننٹ (ر) اشفاق احمد نے 3 اپریل 2019ء کو صرف اتنا جواب دیا کہ، ’میونسپل کمیٹی نے 2 اپریل 2018ء کو جبراً اسٹیڈیم کا انتظام واپس لے لیا تھا لہٰذا اب یہ پی سی بی کے زیرِ کنٹرول نہیں ہے۔ چونکہ اب گراؤنڈ حکومتِ سندھ کے انتظامی کنٹرول میں آتا ہے اس لیے اب وہی میدان کا ضروری مرمتی اور تزین و آرائشی کام کرواسکتی ہے۔‘

کرنل اشفاق احمد نے لاہور سے فون پر ای او ایس کو بتایا کہ انہوں نے اسٹیڈیم کے حوالے سے ڈیویژنل کمشنر کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور خط و کتابت کے بارے میں پی سی بی چیئرمین کو بریفننگ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ، ’بورڈ کی جانب سے کسی قسم کا کوئی فیصلہ لینے سے قبل چیئرمین پی سی بی نے مجھے ذاتی حیثیت میں گراؤنڈ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے، اور میں جلد حیدرآباد کا دورہ کروں گا‘۔ مگر انہوں نے تاحال اسٹڈیم کا دورہ نہیں کیا ہے۔

نیاز اسٹیڈیم وہی مقام ہے جہاں موجودہ وزیرِاعظم اور سابق پاکستانی کپتان عمران خان کئی بار مکمل بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ اس لیے شاید انہیں اس اسٹیڈیم سے کسی حد تک ذاتی لگاؤ بھی ہو۔

اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز کے وقت دورہ حیدرآباد میں جب ایک بار ان کا نیاز اسٹیڈیم کے قریب واقع ہوٹل میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا تب وہ خود پیدل چل کر میدان پہنچے۔ اس وقت اسٹیڈیم کو بااثر خاندان کی شادی کی تقریب کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

انہوں نے آوٹ فیلڈ کا معائنہ کیا اور اسٹیڈیم کے بگڑتے معیار پر افسوس کا اظہار کیا۔

اب بھی گراونڈ کو مکمل تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومتِ سندھ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے اس میدان کو پی سی بی کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے۔

اس شہر میں موجود شائقینِ کرکٹ بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان تاریخی نیاز اسٹیڈیم کو بچانے کے لیے خود آگے بڑھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پی سی بی میونسپل کمیٹی سے انتظامی کنٹرول اپنے ذمے لینے پر آمادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے پرانے وعدوں کے مطابق گراونڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔