پاکستان سپر لیگ میں 2 سب سے بہترین ٹیمیں کونسی ہیں؟ (پہلی قسط)

اپ ڈیٹ 03 فروری 2020

ای میل

فروری کے آخر میں جب بہار کی آمد آمد ہوتی ہے پاکستان کرکٹ کی بہار بھی لوٹ آتی ہے۔ جی آپ درست سمجھے یہاں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی بات ہو رہی ہے۔

کرکٹ پاکستان میں دلوں کو جوڑتی ہے اور پاکستان سپر لیگ دلوں کے جوڑنے کا موسم بہار ہے۔ اس بار تو اس بہار کے رنگ اور بھی کِھلے کِھلے محسوس ہورہے ہیں کہ پوری لیگ جو پاکستان میں کھیلی جارہی ہے۔

لیگ کرکٹ اب ایک سائنس کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ ٹیم کے انتخاب سے لے کر ہر میچ کی حکمتِ عملی تک بہت دماغ لڑایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اب جتنے اہم کھلاڑی ہیں اتنی ہی اہمیت مینجمنٹ کی بھی ہوگئی ہے۔ ہم ذرا ٹیموں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس بار کس ٹیم نے کتنی محنت کی ہے، کیا کمبی نیشن بنایا ہے اور اس سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم بظاہر سب سے مضبوط نظر آنے والی 2 ٹیموں پر بات کریں گے۔

پشاور زلمی

پشاور زلمی والے ہر بار بہترین ٹیم لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ٹیم کو ایک خاندان کی طرح چلاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ جملہ عجیب لگے گا لیکن یہی حقیقت ہے، اور یہ پورا ماحول بنانے میں ٹیم کے مالک جاوید آفریدی کی اپنی شخصیت کا بہت کمال ہے۔ وہ بہت دوستانہ طریقے سے ٹیم کو لے کر چلتے ہیں اور اجنبیت کی دیوار ڈھا دیتے ہیں۔

2017ء میں جب پاکستان سپر لیگ کا فائنل پاکستان میں کرانے کی بات کی گئی تو باقی سب ٹیموں کے کھلاڑی تذبذب کا شکار نظر آئے، مگر پشاور زلمی نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ ہمارے سب غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آئیں گے اور وہ آئے بھی۔ یہ دوستی اور اعتماد کی معراج تھی اور اسی وجہ سے پشاور زلمی چمپئین بھی بن گیا تھا کیونکہ ان کا کمبی نیشن متاثر نہیں ہوا تھا جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو عین وقت پر نئے کھلاڑی لانے پڑے جس کا انہیں نقصان ہوا۔

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں بھی ان کھلاڑیوں اور پشاور زلمی کے کوچ اینڈی فلاور کا اہم کردار ہے کیونکہ بعد میں ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو لانے میں بھی انہوں نے خاص کردار ادا کیا تھا۔ سر ویوین رچرڈز کو بھی اس حوالے سے سلام ہے۔

چلیے اب کچھ بات ٹیم کی کرلیتے ہیں۔ ڈیرن سیمی کی صورت زلمیوں کو ایک بہترین کپتان ملا ہے گوکہ اس بار افواہ ہے کہ شاید سیمی کپتانی نہ کریں، مگر ابھی تک باقاعدہ کوئی اعلان نہیں ہوا۔

پشاور زلمی کی باؤلنگ

پشاور زلمی کی سب سے بڑی خوبی ان کی بہترین باؤلنگ ہے۔ ان کی یہی باؤلنگ زلمیوں کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہاب ریاض شروع دن سے ان کے ساتھ ہیں اور محدود اوورز کے انتہائی مؤثر باؤلر ہیں۔ وہاب ریاض کے ساتھ ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کی نسبت ڈومیسٹک یا لیگ کرکٹ میں زیادہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

حسن علی تو خیر تلاش ہی پشاور زلمی کی ہیں۔ گوکہ پشاور کی جانب سے منظرِعام پر آنے سے پہلے ہی وہ فرسٹ کلاس میں اپنا لوہا منواچکے تھے لیکن حقیقی شناخت انہیں یہیں سے ملی اور بعد میں پاکستان بلکہ دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلر مانے گئے۔

اس بار پشاور والوں نے ایمرجنگ میں 2 بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔ عامر خان جنہیں مستقبل کا بہترین فاسٹ باؤلر کہا جاسکتا ہے اور ان کے ساتھ عامر علی ہیں جو انتہائی قابل لیفٹ آرم اسپنر ہیں۔ دونوں اس وقت انڈر 19 ورلڈکپ کھیل رہے ہیں اور پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچا چکے ہیں۔

راحت علی ایک کہنہ مشق تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ ان کا تجربہ بھی کام آئے گا۔ ساتھ میں انگلش لیام ڈوسن اور افریقی ڈیوائن پریٹوریس ہیں۔ ان دونوں کی خوبی یہ ہے کہ بہترین باؤلرز ہیں اور بوقتِ ضرورت بڑے شاٹس کھیلتے ہوئے 25 سے 30 رنز بھی بناسکتے ہیں۔ وہاب ریاض بھی یہی کرتے ہیں حتیٰ کہ حسن علی کے پاس بھی یہ خوبی ہے۔

پشاور کو اس لیے بھی زیادہ فائدہ حاصل ہے کہ اس کے اہم ترین باؤلرز پاکستانی ہیں۔ مقامی اور اچھے ٹیلنٹ کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے پاس آپشن زیادہ ہوجاتے ہیں کیونکہ صرف 4 غیر ملکی کھلاڑی ہی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ٹی20 میں اگر کسی ٹیم کو آخری نمبر تک بیٹنگ کی سہولت میسر ہو تو ایسی ٹیم کو ہرانا بہت مشکل ہے، اور یہ بھرپور سہولت پشاور کو میسر ہے۔ باؤلنگ میں مزید ورائٹی کے لیے کیرون پولارڈ، ڈیرن سیمی اور شعیب ملک جیسے چیتے موجود ہیں جن کا تجربہ انمول ہے۔ لیگ اسپنر محسن بھی اپنی صلاحیتوں سے ماہرین کو حیران کرچکے ہیں۔ حال ہی میں ڈھاکہ میں کھیلے جانے والے ایمرجنگ ایشیا کپ میں بھی محسن نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پشاور زلمی کی بیٹنگ

بیٹنگ میں بھی پشاور مضبوط ہے۔ کامران اکمل پاکستان سپر لیگ کے سب سے بہترین بلے باز ہیں۔ ان جیسا مستقل مزاج اوپنر شاید ہی کسی دوسری ٹیم کو میسر ہو۔ کامران اکمل کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے صرف رنز ہی نہیں بنائے بلکہ تیزی کے ساتھ بنائے ہیں جس کی وجہ سے شروع میں ہی مخالف ٹیم پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اب اس بار انہیں ٹام بینٹن کا ساتھ میسر ہوگا۔ سرے کی طرف سے کھیلنے والے ٹام بینٹن کمال ہیں اور وہ نئے مسٹر 360 لگتے ہیں۔ انگلش کاؤنٹی میں تہلکہ مچا کر انہوں نے انگلش ٹیم میں جگہ بنائی تھی اور پھر آسٹریلین بگ بیش میں بھی انہوں نے اپنی عمدہ بلے بازی کے نقوش چھوڑے ہیں۔

اس کے بعد نمبر آتا ہے عمر امین کا جو اسٹائلش ہیں اور بڑا ہی خوبصورت انداز ہے، یہ الگ بات ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود وہ عالمی سطح پر کبھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ عادل امین بھی مستقل ڈومیسٹک پرفارمر ہیں۔ شعیب ملک دورِ حاضر میں سب سے پرانے کھلاڑی ہیں تاہم دم خم جوانوں والا ہے اور لیگ کرکٹ میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔

کیرون پولارڈ کچھ عرصے سے خاصے بجھے بجھے لگ رہے تھے لیکن جب سے انہیں ویسٹ انڈیز کی کپتانی ملی ہے وہ دوبارہ فارم میں آچکے ہیں۔ بوقتِ ضرورت امام الحق کو بھی میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سیزن میں انہوں نے بھی پشاور کے لیے چند اچھی اننگز کھیلی تھیں۔

پشاور زلمی نے سپلیمینٹری کھلاڑی بھی کمال چنے ہیں۔ قومی انڈر 19 ٹیم کے نائب کپتان حیدر علی جو مستقبل میں بھی بیٹنگ کے شعبے میں قومی ٹیم کا اہم ستون ہوں گے۔ ان کے علاوہ انگلش لوِنگ اسٹون بہترین ہٹنگ کرتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ کراچی کنگز کے لیے بھی یادگار باریاں کھیل چکے ہیں۔ موجودہ بگ بیش سیزن میں پرتھ اسکارچرز کے لیے ان کی کاکردگی عمدہ رہی ہے۔

کراچی کنگز

کراچی والے ویسے تو ہمیشہ اچھی ٹیم کا انتخاب ہی کرتے ہیں، محنت بھی بہت کرتے ہیں، ٹیم کے مالک سلمان اقبال خود ہر معاملے میں دلچسپی لیتے ہیں، فین بیس بھی بہت بڑا ہے، اس لیے دعاؤں کی بھی کمی نہیں، لیکن ان سب کے باوجود جب معاملہ آتا ہے عملی طور پر کچھ کرنے کا تب یہ ٹیم ناجانے کیوں ہتھیار پھینک دیتی ہے۔

ہر چیز اچھی ہونے کے باوجود ناجانے میدان میں یہ ٹیم کیوں ہتھیار پھینک دیتی ہے
ہر چیز اچھی ہونے کے باوجود ناجانے میدان میں یہ ٹیم کیوں ہتھیار پھینک دیتی ہے

اب تک کا سفر کسی بھی اعتبار سے خوشگوار نہیں رہا۔ لیکن اس بار پہلی مرتبہ کراچی کے حالات بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔ وسیم اکرم پہلے ہی ان کے ساتھ تھے، اب ڈین جونز کے آنے سے حکمتِ عملی میں جو کچھ خامیاں تھیں وہ بھی دُور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اب لگ رہا ہے کہ کراچی واقعی دھاڑے گا۔

کراچی کنگز کی بیٹنگ

کراچی کے پاس دنیا کا سب سے بہترین ٹی20 بیٹسمین بابر اعظم ہے۔ بابر آج کل وہ کرکٹ کھیل رہے ہیں جس کی تمنا لیے دنیا کے اکثر بلے باز میدانوں سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بابر نے اپنا اسٹرائیک ریٹ والا معاملہ بھی بہت نکھار لیا ہے۔ اس بار میدان پاکستانی ہیں تو بابر کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔ ساتھ میں ایلیکس ہیلز جیسا خطرناک ساتھی ہو تو کیا ہی کہنے۔

لیکن ٹھہریے ٹھہریے، یہاں شرجیل خان کا تذکرہ تو رہ ہی گیا۔ شرجیل خان لمبے وقفے کے بعد واپس آئے ہیں۔ اگر وہ اپنی پرانی فارم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کراچی والوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ چشمِ تصور میں وہ منظر دیکھیں جب بابر اور شرجیل اپنی بہترین فارم کے ساتھ بیٹنگ کررہے ہوں، اس کے بعد ایلیکس ہیلز، پھر ٹی20 کا ایک اور شاندار نام کیمرون ڈیلپورٹ آئے۔ پھر طویل عرصے بعد اپنا آپ منوانے والے افتخار احمد کی باری آئے۔ وہی افتخار جنہیں ماضی میں مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے قاصر رہے۔ لیکن جب ٹھیک موقع ملا تو وہ ایک سنجیدہ بلکہ شاندار ٹی20 بلے باز کے طور پر ابھرے ہیں، اس لیے پوری امید ہے کہ کراچی کو ان سے فائدہ ملے گا اور بہت زیادہ ملے گا۔

محدود اوورز میں سب سے بہترین پاکستانی فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر عامر یامین بھی کراچی کو دستیاب ہے۔ عامر یامین کے ساتھ نیشنل سلیکٹرز مسلسل غیر منصفانہ سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کے پاس بہترین موقع ہے کہ اپنے آپ کو ثابت کردیں۔ بڑی امید ہے کہ ڈین جونز جیسا جہاں دیدہ شخص ان کی صلاحیتوں سے درست کام لے سکے گا۔ ڈینیل لارینس کو دیکھنا ہوگا کیا وہ لوِنگ اسٹون کی طرح پاکستان سپر لیگ میں اپنے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔

عماد وسیم اس بار بھی کپتان ہیں۔ عماد وسیم کی بیٹنگ صلاحتیں کراچی کے کتنا کام آسکتی ہیں، اس کا کراچی کی پیش رفت پر کافی اثر پڑنے والا ہے۔ رضوان کو قومی ٹیم میں جگہ مل چکی ہے لیکن ان کی بیٹنگ محدود اوورز میں اب تک انتہائی معمولی درجے کی رہی ہے۔ اب لوگ سرفراز کو یاد کر رہے ہیں۔ رضوان کے لیے یہ سپر لیگ بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ کراچی کو اب تک کسی وکٹ کیپر کی طرف سے سکون نصیب نہیں ہوسکا۔ دیکھتے ہیں رضوان انہیں یہ سہولت فراہم کرسکتے ہیں یا نہیں۔

کراچی کنگز کی باؤلنگ

باؤلنگ کراچی کی بہترین ہے۔ ان کے پاس اس وقت پاکستان کا سب سے بہترین اور موثر باؤلر محمد عامر ہے۔ عامر کو بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں سلیکٹ نہیں کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ملک پہلی ترجیح نہیں تو آپ بھی غیر اہم رہیں گے۔ بظاہر یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا نتیجہ ہے۔ عامر نے اس موقع پر ایک ٹویٹ بھی کیا تھا جو بعد میں ڈیلیٹ کردیا۔ شکوے اور غم سے بھرے عامر کو اب میدان میں پیغام دینا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے غم کو طاقت میں بدل سکتے ہیں یا نہیں۔

کرس جارڈن پشاور زلمی کی طرف سے واحد ٹائٹل فتح حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے اور انہوں نے اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔ جارڈن کے پاس بہترین یارکر ہے اور وہ اس صلاحیت سے کئی بار اپنی ٹیم کو فائدہ پہنچا چکے ہیں۔ اس بار وہ کراچی کنگز کا حصہ ہیں۔ علی خان پہلے امریکی کھلاڑی ہیں جو پاکستان سپر لیگ کھیلیں گے۔ مضبوط کاٹھی والے علی خان تقریباً 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک چھوٹی ٹیم سے ہونے کے باوجود وہ بہترین باؤلنگ کے ہنر سے واقف ہیں۔ اپنی ساخت میں انہیں ایک پاکستانی فاسٹ باؤلر ہی سمجھا جانا چائیے، کیونکہ ان میں ایک اچھے اور تیز باؤلر والی ساری خوبیاں موجود ہیں۔

خیبر پختونخوا نے گزرے کچھ سالوں میں پاکستان کو بہترین فاسٹ باؤلرز دیے ہیں۔ ایک نیا چمکتا ہوا ستارا ارشد اقبال بھی ہیں۔ وہ ایمرجنگ کیٹیگری میں کراچی کی طرف سے میدان میں اتریں گے۔ وہ اس بار پختونخوا کی نان فرسٹ کلاس سیکنڈ الیون کا بھی حصہ تھے۔ عمید آصف ہر سطح پر اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں، اور اس بار کراچی کو ان کی خدمات حاصل ہوں گی۔

عماد وسیم ٹی20 میں اپنی باؤلنگ کی وجہ سے کتنے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں اس سے سب ہی واقف ہیں، اور پھر ان کے ساتھ ہوں گے عمر خان۔ اس نوجوان کھلاڑی نے اپنے ٹیلنٹ سے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ آج نہیں تو کل یہ قومی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ عمر خان نے پی ایس ایل کے گزشتہ سیزن میں بڑے بڑے ناموں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی، اور امید یہی ہے کہ وہ اس بار بھی ایسا ہی کچھ کریں گے۔

افتخار احمد بھی کچھ اوورز نکال سکتے ہیں۔ سپلیمنٹری میں بھی اویس ضیا اور لیام پلنکٹ کراچی کنگز کو میسر ہیں۔ بظاہر یہ ٹیم ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس بار کراچی کی ٹیم کپ نا اٹھا سکے لیکن گزشتہ کچھ سیزنز میں ایک بات شدت سے محسوس کی گئی ہے اور وہ یہ کہ مالکان ٹیم کی حکمتِ عملی میں ضرورت سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔ کراچی کنگز والوں کو مشورہ ہے کہ تزویراتی معاملات اگر کوچز پر چھوڑ دیے جائیں تو ان کے لیے حالات بہترین ہوسکتے ہیں۔