خون کی کمی دور کرنے میں مددگار آئرن کے حصول کے لیے مفید غذائیں

05 فروری 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

جسم میں آئرن جیسے جز کی کمی اینیمیا (خون کی کمی) کا شکار بنانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے اور روز مرہ کی زندگی میں اس کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے۔

آئرن کی کمی کے دوران جسم مناسب مقدار میں ہیموگلوبن بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیات کا وہ پروٹین ہے جو آکسیجن جسم کے دیگر حصوں میں پہنچاتا ہے اور اس کی عدم موجودگی سے مسلز اور ٹشوز اپنے افعال سرانجام نہیں دے پاتے۔

آئرن جسم کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے جو غذا کے ذریعے جسم کو حاصل ہوتا ہے اور روزانہ اس کی 18 ملی گرام مقدار درکار ہوتی ہے۔

اور اچھی بات یہ ہے کہ ایسی غذائیں موجود ہیں جو روزانہ درکار آئرن کی مقدار فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

پالک

پالک میں کیلوریز کی مقدار کم جبکہ صحت کے لیے فوائد بہت زیادہ ہوتے ہیں، سو گرام پالک میں 2.7 ملی گرام آئرن موجود ہوتی ہے جو روزانہ درکار مقدار کا 15 فیصد حصہ ہے۔ پالک میں موجود آئرن جسم مٰں اچھی طرح جذب نہیں ہوتی مگر اس سبزی میں وٹامن سی بھی موجود ہوتا ہے جو آئرن کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پالک میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کیروٹینز کینسر، جسمانی ورم اور آنکھوں کو امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

کلیجی اور گردے

کلیجی، مغز، دل اور گردے بہت زیادہ پرغذائیت ہوتے ہیں اور ان میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گائے کی سو گرام کلیجی میں 6.5 ملی گرام آئرن موجود ہوتی ہے جو روزانہ درکار مقدار کا 36 فیصد حصہ ہے۔ کلیجی اور دیگر حصے پروٹین اور بی وٹامنز، کاپر اور سیلینیم سے بھی بھرپور ہوتے ہیں، کلیجی میں وٹامن اے کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔

دالیں

دالیں متعدد غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں خصوصاً آئرن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیںِ۔ ایک پلیٹ دال میں آئرن کی مقدار 6.6 ملی گرام ہوتی ہے۔ کالے چنے اور لوبیا سے بھی آئرن کو حاصل کیا جاسکتا ہے، آدھے کپ کالے چنوں میں 1.8 ملی گرام آئرن ہوتا ہے، دالیں فولیٹ، میگنیشم اور پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق بیجوں اور دالوں سے ذیابیطس کے شکار افراد میں ورم کم ہوتا ہے جبکہ دالوں کو کھانا امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

سرخ گوشت

سرخ گوشت کی سوگرام مقدار میں 2.7 ملی گرام آئرن جسم کو مل سکتا ہے، گوشت پروٹین، زنک، سیلنیم اور متعدد بی وٹامنز سے بھی بھرپور ہوتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق سرخ گوشت، چکن اور مچھلی اکثر کھانے والے افراد میں آئرن کی کمی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ درحقیقت سرخ گوشت آسانی سے جذب ہونے والے آئرن سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کی کمی کے شکار افراد کے لیے اسے اہم بناتا ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

28 گرام چاکلیٹ سے جسم کو 3.4 ملی گران آئرن مل جاتا ہے، جبک کاپر اور میگنیشم بھی جسم کا حصہ بنتے ہیں۔ چاکلیٹ میں موجود پروبائیوٹیک فائبر معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھاتا ہے۔

مچھلی

مچھلی کی مختلف اقسام میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھی صحت کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ یہ فیٹی ایسڈز دماغی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں، مدافعتی نظام مضبوط کرتے ہیں۔

کشمش

کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

کھجور

کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔