وزیراعظم کی نیشنل ڈیمانڈ سپلائی سیل کے قیام کی ہدایت

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں — اسکرین شاٹ: ڈان نیوز
معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں — اسکرین شاٹ: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنے اور صوبوں میں اشیائے خورونوش کے لیے مربوط نظام بنانے کے لیے ڈیمانڈ سپلائی سیل کے قیام کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک لاکھ ٹن گندم اور مانگی ہے، وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت رواں سال مارچ میں جو گندم کی خریداری کا آغاز کرنے جا رہی ہے اور انہوں نے 1.4 ملین کا ہدف مقرر کیا ہے کیونکہ انہوں نے موجودہ سال گندم کی خریداری نہیں کی تھی جس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا۔

مزید پڑھیں: آٹے کے بعد کس چیز کا بحران آنے والا ہے؟

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں کوئی بھی ایسی لیبارٹری موجود نہیں جہاں دودھ، گھی، دالوں، چکن یا اشیائے خورونوش میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ کا جائزہ لینے کا کوئی طریقہ کار موجود ہو لہٰذا وزیر اعظم عمران خان نے فی الفور بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی ہدایات دی ہیں۔

طلب اور رسد کے درمیان فرق کے سبب منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے جس طرح عوام کو یرغمال بنایا اس مافیا اور نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے منسٹری آف فوڈ سیکیورٹی اور پلاننگ کو پرائس مانیٹرنگ اور نیشنل ڈیمانڈ سپلائی سیل کے قیام کی ہدایات دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد محکمہ زراعت صوبوں کے پاس نہیں رہا جس کے سبب صوبوں اور وفاق کے درمیان صحیح طریقے سے رابطہ نہیں رہتا اور اس کی وجہ سے ڈیمانڈ اور سپلائی کے حوالے سے اپ ڈیٹڈ نہیں رہی جس کا نقصان یہ ہے کہ اگر کسی ایک صوبے میں کسی چیز کی قلت پیدا ہوتی ہے تو باقی صوبے بھی اس کے منفی اثرات کی زد میں آتے ہیں جس کے نتیجے میں بحران جنم لیتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے آئندہ کے لیے نیشنل ڈیمانڈ سپلائی سیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تاثر دیا جارہا ہے حکومت سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے میں کسی چیز کی قلت ہوئی تو دوسرے صوبے اس کی مدد کر کے اس کو پورا کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت ملاوٹ کرنے والے کے خلاف مؤثر قانون سازی ہو اور اس سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے لہٰذا وزیر اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ملاوٹ کے اس قومی مسئلے سے ایمرجنسی بنیادوں پر نمٹنے کے لیے ایک پلان آف ایکشن بنا کر لائیں اور ملاوٹ کے خلاف جہاد کر کے اسے اولین قومی ترجیح دینے کا ایجنڈا لے کر آئیں اور عوام میں بھی آگاہی پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کیا جائے گا اور چاروں صوبے اور وفاق ایک مؤثر ایک حکمت عملی کے ذریعے نیشنل ایمرجنسی سے متصل نیشنل ایکشن متعارف کرائیں گے اور اگلے ہفتے وزیر اعظم اس سلسلے میں ملاقات کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عوام اور ان کے جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس سمیت دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر مروجہ اصولوں سے مطابقت کے حامل آن لائن سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم 2020 کے نام سے سوشل میڈیا قوانین میں چند ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن تحفظ یقینی بنانے کے لیے جو ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں ان میں دوسرے ممالک میں رائج عالمی معیار سے رہنمائی لی گئی ہے تاکہ ہمیں درپیش موجودہ چیلنجز سے ان کا موازنہ کر کے تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی ترامیم کے بعد 24 گھنٹے میں سوشل میڈیا کمپنیز متنازع مواد ہٹانے کی پابند ہوں گی اور ایمرجنسی کی صورت میں انہیں 6 گھنٹے میں اس پر عمل کرنا ہو گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنیز کو 3 ماہ میں پاکستان میں خود کو رجسٹر کرانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستانیوں سے کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں لیکن آفس کے قیام اور رجسٹریشن سے رقم کی ادائیگی کا باقاعدہ طریقہ کار طے ہو سکے گا۔

مزید پڑھیں: 'ہم نے سوچا نیب والے ایک سال کے بچے پر کیس نہیں بنائیں گے'

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آئندہ 12ماہ میں ان سوشل میڈیا کمپنیز کو ایک یا ایک سے زائد سینٹرز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ باضابطہ طور پر رجسٹریشن کرا کر اپنا ڈیٹا بینک پاکستان سے شیئر کرنا ہو گا۔

ڈان میڈیا گروپ اور ڈان نیوز کے لیے اشتہارات کی بندش کے حوالے سے سوال پر معاون خصوصی نے کہا کہ کسی کو ٹارگٹ کر کے کوئی اشتہارات بند نہیں کیے گئے، ابھی کوئی ایسی مہم شروع نہیں ہوئی اور اشتہارات دینے کی چوائس کلائنٹ کی ہوتی ہے کہ وہ انگریزی اخبار میں اشتہار دینا چاہتا یا اردو میں لیکن ہم کوشش کر کے اس میں بہتری لائیں۔