افغانستان: انسداد منشیات کے سربراہ کو اسمگلروں سے تعاون پر 17 سال قید

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

میا احمد اور اسمگلروں کے مابین مبینہ تعاون کی تحقیقات پراسیکیورٹرز نے کی — فوٹو: خاما
میا احمد اور اسمگلروں کے مابین مبینہ تعاون کی تحقیقات پراسیکیورٹرز نے کی — فوٹو: خاما

افغانستان میں انسداد منشیات کے سربراہ کو اسمگلروں کے ساتھ تعاون کے الزام میں 17 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

افغان نیوز ایجنسی خاما کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل آفس کے ترجمان جمشید رسولی نے بتایا کہ کابل پولیس کمانڈ کے انسداد منشیات کے چیف میا احمد کو 17 سال 3 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ میا احمد اور اسمگلروں کے مابین مبینہ تعاون کی تحقیقات پراسیکیورٹرز نے کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان، افغانستان اور ایران کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بیٹھک

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے کابل پولیس کمانڈ کے انسداد منشیات کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر لیمر کو بھی اسی طرح کے الزامات میں 7 سال اور 6 ماہ قید کی سزا سنائی ۔

انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ انسداد منشیات کے دو اہلکار، نورالدین اور محمد عیسیٰ کو ایک سال اور 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے کابل پولیس کمانڈ کے انسداد منشیات کے سربراہ میا احمد کو گرفتار کیا ہے اور وہ اسمگلروں اور منشیات فروشوں کے سرغنہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی،افغان فورسز کا طالبان کے منشیات کے اڈوں پر بمباری کا اضافہ

خیال رہے کہ 2018 کے اواخر میں افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فیصد ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

امریکا دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والے محصولات کی مد میں طالبان کو سالانہ 20 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

بعد ازاں امریکا نے منشیات کے اڈوں پر فضائی حملہ بھی کیا تھا۔

تاہم افغانستان کی افیون کے شعبے کے عہدیدار ڈیوڈ مینزفیلڈ کا کہنا تھا کہ منشیات کے ان اڈوں کو نشانہ بنانے سے طالبان کو قابل ذکر نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ہیروئن سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اس پر عائد ٹیکس اتنے زیادہ نہیں ہے جتنا امریکی فوج سوچ رہی ہے، جبکہ سادہ طرز پر بنے ہوئے یہ کارخانے دوبارہ تعمیر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے منشیات کے کارخانوں پر بمباری کو صرف ’انسداد منشیات کا ڈرامہ‘ قرر دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کی آمدنی کو نقصان پہنچنے کے بجائے شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا تمام ’اقوام‘ سے طالبان کے خلاف جنگ کا مطالبہ

دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ جنگجو منشیات کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہم نے ایسی حکومت بنائی تھی جس میں منشیات کا صفایا کردیا گیا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ امریکی اور غیر ملکی افواج پوست کی کاشت کے ذمہ دار ہیں اور امریکی کمانڈر خود اس میں ملوث ہیں۔