یوکرینی طیارے کے بلیک باکس کی مرمت کے بعد ہی اسے سنا جاسکتا ہے، ایران

اپ ڈیٹ 19 فروری 2020

ای میل

وزیر دفاع نے کہا کہ خطے کی سلامتی صرف اور صرف علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیر دفاع نے کہا کہ خطے کی سلامتی صرف اور صرف علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ غیر ارادی طور پر انسانی غلطی کی وجہ سے نشانہ بننے والے یوکرین کے مسافر طیارے کے بلیک باکس کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ تباہ ہونے والے مسافر طیارے کے بلیک باکس کو بہت نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

انہوں نے مزید کہا کہ 'بلیک باکس کی مرمت کے بعد ہی اسے سنا جا سکتا ہے'۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوب میں خلیج فارس کے علاقے میں فوجیں بھیجنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ تہران، علاقائی سلامتی کے بارے میں ایک واضح پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے کی سلامتی صرف اور صرف علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے جبکہ کسی بھی غیر ملکی افواج کی موجودگی سے خطے میں سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔

یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف

واضح رہے کہ ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا تھا کہ 8 جنوری کو تباہ ہونے والا یوکرینی طیارہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کر رہا تھا اور اسے انسانی غلطی کی وجہ سے غیر ارادی طور پر نشانہ بنایا گیا۔

9 جنوری کو ایران نے حادثے میں تباہ ہونے والے یوکرین کے مسافر طیارے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ دوران سفر مسافر طیارے میں آگ بھڑک جانے کے بعد مدد کے لیے ایک ریڈیو کال بھی نہیں کی گئی جبکہ طیارے نے ایئرپورٹ کے لیے واپس جانے کی کوشش کی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

خیال رہے کہ تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے پرواز بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیر اعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں تصدیق کی تھی کہ ’مسلح افواج کی اندرونی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکلا کہ افسوسناک طور پر انسانی غلطی وجہ سے داغے گئے میزائلز کے نتیجے میں یوکرین کا طیارہ تباہ ہوا اور 176 معصوم افراد ہلاک ہوئے‘۔