مہنگائی حکومتی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے بڑھی، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

ہماری پارٹی کا کوئی بھی رکن پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کو تسلیم نہیں کرتا، بلاول بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز
ہماری پارٹی کا کوئی بھی رکن پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کو تسلیم نہیں کرتا، بلاول بھٹو زرداری — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر حکومت سے 'پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل' کو پھاڑ کر پھینکنے اور عالمی ادارے سے نئے معاہدے کا مطالبہ کردیا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ 'وہ دوبارہ معاہدہ کرکے واپس آئیں جو پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے سود مند ہو'۔

مزید پڑھیں: لندن پلان کی خبریں سازش کا حصہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے تناظر میں پورا ملک مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم عوام کے نمائندہ نہیں ہیں اور جب وہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتے ہیں تو عوامی مفادات کا تحفظ مطمع نظر نہیں ہوتا'۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری پارٹی کا کوئی بھی رکن پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کو تسلیم نہیں کرتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو حکومتی نااہلی اور کرپشن کی وجہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو اہم مشورہ دے دیا'

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حوالے سے کہا کہ مذکورہ ادارے بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ حکومت ٹیکس سے متعلق اپنے ہی طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لیا ہے۔

تاجر اور عوام کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا مطالبہ

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 'موجودہ حکومت امیر طبقے کو ایمنسٹی فراہم کرتی ہے جبکہ ہماری خواہش ہے کہ چھوٹے تاجر اور غریب عوام کے لیے بھی ایمنسٹی اسکیم ہو'۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کے مزدور اور کسانوں کا معاشی تحفظ ہو۔

مزید پڑھیں: جے وی اوپل کیس: نیب نے بلاول بھٹو کو 13 فروری کو طلب کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا لیکن عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 150 فیصد اضافہ کیا جبکہ سپاہی اور فوج کی تنخواہ میں 175 فیصد اضافہ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں زرعی پالیسی کے نتیجے پاکستان دو برس میں گندم درآمد کر رہا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کے معاشی تحفظ کے لیے اِن ہاؤس تبدیلی سمیت نئے انتخابات کے دروازے کھلے ہیں۔