پولیس نے ایس ایس پی مفخر عدیل کیس میں ملزم کی گرفتاری کی تردید کردی

اپ ڈیٹ 25 فروری 2020

ای میل

مخفر عدیل لاہور میں پنجاب کے کانسٹیبلری بٹالین کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے — تصویر: فیس بک
مخفر عدیل لاہور میں پنجاب کے کانسٹیبلری بٹالین کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے — تصویر: فیس بک

پولیس نے لاہور ہائی کورٹ میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) مفخر عدیل اور ایڈووکیٹ شہباز تاتلا کیس میں نامزد ملزم اسد بھٹی کی گرفتاری کی تردید کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کیپیٹل پولیس افسر کی جانب سے عدالت عالیہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں واضح طور پر اسد بھٹی کے زیر حراست ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں اب تک گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔

جسٹس وحید خان نے پولیس کی مبینہ حراست میں موجود ملزم اسد بھٹی کے بھائی ایڈووکیٹ زید سرور بھٹی کی جانب سے اپنے بھائی کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل آفتاب اقبال چوہدری نے کہا کہ اسد بھٹی نے 15 فروری کو بذات خود اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس نے بغیر کسی کیس کے انہیں قید کرلیا تھا اور اپنی مرضی کا بیان دلوانے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'لاپتہ' پولیس افسر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

وکیل کا کہنا تھا کہ زیر حراست شخص ذیابطیس اور امراضِ قلب کے مریض ہیں اور پولیس کے پاس ان کی جان خطرے میں ہے۔

وکیل نے دعویٰ کیا کہ اسد بھٹی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے کیوں کہ انہیں ابھی تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کے بھائی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کروایا جائے۔

بعدازاں پولیس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس وحید خان نے مذکورہ درخواست مزید سماعت کے لیے جسٹس چوہدری شہرام سرور کی عدالت کو بھجوادی جنہوں نے اس سے قبل اس کی سماعت کی تھی۔

واضح رہے کہ ایس ایس پی مفخر عدیل اور ایڈووکیٹ شہباز تاتلا جو پنجاب کے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بھی تھے، 7 فروری سے لاپتہ ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں پولیس تشدد سے ہلاکت کا تیسرا واقعہ، مقدمے میں 6 اہلکار نامزد

اس سلسلے میں 10 فروری کو سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہباز احمد تاتلا کی گمشدگی کے حوالے سے نصیر آباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

بعدازاں 12 فروری کو ایس ایس پی مخفر عدیل کی اہلیہ نے نواب ٹاؤن تھانے میں درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے شوہر جوہر ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ سے لاپتہ ہیں اور ان کا فون بھی بند ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد بھٹی دونوں کے مشترکہ دوست تھے جنہوں نے پولیس کو بتایا کہ مفخر عدیل نے شہباز تاتلا کو قتل کرکے تیزاب سے بھرے ڈرم میں ان کی لاش ضائع کی۔

پولیس نے اسد بھٹی کی شناخت ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی تھی جس میں وہ ایس ایس پی مفخر عدیل کے ساتھ بیٹھے تھے۔

قبل ازیں ایک پولیس افسر نے بتایا تھا کہ مبینہ طور پر لاپتہ ایس ایس پی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ پولیس کو سنگین/حساس معاملے پر مخفر عدیل کے مبینہ طور پر شہباز تاتلا کو قتل کرنے کے مقام کے حوالے سے کچھ معلومات حاصل ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 'پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت' کا ایک اور واقعہ

دریں اثنا چند غیر تصدیق شدہ رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ ایس ایس پی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دیتے ہوئے بیرون ملک جاچکے ہیں۔

تاہم اس کیس کو دیکھنے والے پولیس کے اعلیٰ افسران کا ماننا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق ایس ایس پی مخفر عدیل شمالی علاقوں میں ہیں اور ان کی کھوج لگانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

مخفر عدیل لاہور میں پنجاب کے کانسٹیبلری بٹالین کمانڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے اور ماضی میں وہ لاہور میں ایس پی سول لائنز ڈویژن، ایس پی سیکیورٹی (لاہور ہائی کورٹ) اور ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔