لاہور کے سفاری پارک میں 'شیر کا حملہ'، نوجوان ہلاک

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ متوفی بلال کو قتل کر کے شیروں کے پنجرے میں پھینکا گیا— فائل فوٹو: اے پی
اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ متوفی بلال کو قتل کر کے شیروں کے پنجرے میں پھینکا گیا— فائل فوٹو: اے پی

لاہور کے وائلڈ لائف سفاری پارک میں شیر کے مبینہ حملے میں 18 سالہ نوجوان محمد بلال ہلاک ہو گیا۔

لاہور کے وائلڈ لائف سفاری میں شیروں کے انکلوژر کے اندر سے قریبی علاقے کے رہائشی نوجوان بلال کے جسم کے اعضا ملے، نوجوان کی عمر 18 سال بتائی گئی اور وہ 2 روز سے لاپتہ تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی کے چڑیا گھر میں ببر شیر کا اپنے ہی نگہبان پر حملہ

آج صبح متوفی کے اہلخانہ نے سفاری پارک انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ پارک میں بلال کو تلاش کرنا چاہتے ہیں اور تلاش کے دوران بلال کا سامان شیر کے جنگلے سے ملا اور ان کی لاش کی باقیات اور کپڑے بھی ملے۔

زو سفاری کی انتظامیہ نے پولیس اور فرانزک کی مدد سے لاش کی باقیات اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔

سفاری پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری شفقت علی نے شبہ ظاہر کیا کہ نوجوان سفاری پارک کا جنگلا عبور کر کے اندر داخل ہوا اور شیروں کی خوراک بن گیا۔

چوہدری شفقت نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی لڑکے کو دیوار پھلانگ کر جنگلا عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'شیروں کے حملے میں ڈاکٹر اور ایک پاکستانی ہلاک'

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 5 سال قبل بلال کے ایک عزیز کی لاش بھی سفاری زو سے ملی تھی۔

دوسری جانب محمد بلال کے لواحقین نے زو سفاری کے گیٹ پر احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دی اور الزام عائد کیا کہ بلال کو قتل کر کے شیروں کے پنجرے میں پھینکا گیا۔

قریبی گاؤں اٹھوال کے رہائشی بلال کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ بلال پیر کی شام لاپتہ ہوا، وہ چارہ لینے گیا تھا اور دو دن سے لاپتہ تھا۔

لواحقین نے کہا کہ بچہ خود یہاں نہیں آ سکتا، کسی نے یہاں پھنکا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے بچے کی موت ہوئی۔

انہوں نے انتظامیہ کی غفلت پر سوالات اٹھائے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور زو سفاری کے عملے کو آخر علم کیسے نہیں ہوا کہ شیر نے زندہ انسان کو کھا لیا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سفاری پارک میں شیر کے مبینہ حملے میں نوجوان کے ہلاک ہونے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں: جب شیروں اور ایک زرافے کے درمیان 5 گھنٹے طویل جنگ ہوئی

وزیر اعلیٰ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔

عثمان بزدار نے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کمشنر لاہور ڈویژن اور سیکریٹری وائلڈ لائف سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ وزیر اعلیٰ آفس پیش کی جائے۔