'شیروں کے حملے میں ڈاکٹر اور ایک پاکستانی ہلاک'

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2017

ای میل

عمان: اردن میں 3 خون خوار شیروں نے حملہ کرکے جانوروں کے مبینہ طور پر ایک ڈاکٹر اور اس کے پاکستانی اسسٹنٹ کو ہلاک کردیا۔

دی اردن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بلقاء گورنریٹ کے نیچر ریزرو میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اردن سے تعلق رکھنے والے جانوروں کے ڈاکٹر اور اور ان کے پاکستانی اسسٹنٹ جانوروں کی حفاظت کے لیے بنائی جانے والی پناہ گاہ میں معمول کے کام میں مصروف تھے کہ ان پر شیروں نے حملہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’قاتل‘ کی نشاندہی کیلئے 18 شیر ’زیرحراست‘

اخبار کے مطابق ریزرو میں کام کرنے والے ملازمین نے ان دونوں کو شیروں کے شکنجے سے بچانے کی کوشش کی اور تینوں شیروں کو ہلاک کردیا گیا۔

واقعے کے بعد دونوں افراد کو زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

لاشوں کو بعد ازاں کنگ حسین میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تاکہ پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی وجہ کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

واقعے کے بعد اردن کے حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

واضح رہے کہ چڑیا گھروں اور نیشنل پارکس میں جنگلی جانوروں کے حملے میں ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں۔

گزشتہ ماہ مصر میں ایک سرکس کے دوران جنوبی افریقی شیر کے حملے میں ایک ٹرینر ہلاک ہوگیا تھا حالانکہ اسے شیروں کو قابو کرنے کا 10 سالہ تجربہ حاصل تھا۔

گزشتہ برس جون میں بھارتی ریاست گجرات میں شیر کے حملوں میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد آدم خور شیروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا اور 18 شیروں کو پکڑ کر پنجروں میں قید بھی کردیا گیا تھا۔