وزیر خارجہ کا سلامتی کونسل کو خط، مقبوضہ کشمیر کے سنگین حالات سے آگاہ کردیا

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2020

ای میل

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو لاک ڈاؤن کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو لاک ڈاؤن کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک اور خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے مظالم سے آگاہ کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بد ترین صورت حال کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو توجہ دلاؤ خط لکھا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سلامتی کونسل کے صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد جاری مظالم پر مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ یہ صورت حال جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس کے پیش نظر بھارت مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں ختم کرے، پاکستان کا مطالبہ

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ خط میں بھارت کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورت حال معمول کے مطابق ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کے انتہاپسند کیمپوں کے حوالے سے دیے گئے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول میں جنگ بندی معاہدے کی 12 دسمبر 2019 سے مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے زور دے کر کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور سنگین صورت حال سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کی جانب سے جھوٹی کارروائی کا امکان ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے خط میں وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو بھی اجاگر کیا ہے جس میں وہ پاکستان کے خلاف فورس کے استعمال کی دھمکی دے رہے ہیں۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی تقسیم کے اقدامات کو بھی نمایاں کیا اور اسی حوالے سے انہوں نے کشمیریوں کی جائیدادوں پر جبری قبضے اور 6 ہزار ایکڑ زمین غیر کشمیریوں کے حوالے کرنے کو عالمی قانون اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔

وزیرخارجہ نے گزشتہ ماہ نئی دہلی میں مسلمانوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کو بیان کیا اور کہا کہ یہ ہندو توا نظریے کی بالادستی کا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: فاروق عبداللہ کی نظر بندی 8 ماہ بعد ختم

انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا اور پورے خطے میں پائیدار امن مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کو انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل مسئلے پر اپنا کردار ادا کرے تاکہ جموں و کشمیر کے عوام حق خود ارادیت کی کوششوں میں کامیاب ہوسکیں جس کا وعدہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں کیا گیا ہے۔

خیال رہے وزیر خارجہ کے خط کے ساتھ ساتھ پاکستان جموں و کشمیر میں ذرائع مواصلات پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر وہاں کے عوام کو ہسپتالوں اور طبی مراکز تک آزادانہ رسائی کے مطالبات دہراتا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے کیسز اور ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد انسانی حقوق کی تنظمیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی پاکستان کی طرف کیے گئے مطالبات کو دوہرایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں کے وسط میں سارک ممالک کے اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے 19 مارچ کو ہفتہ وار بریفنگ میں مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پابندیوں کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مقبوضہ وادی میں کیسز کی تعداد معلوم ہوسکے اور انہیں ضروری اجناس اور ادویات فراہم کی جاسکیں۔

ترجمان نے جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری عوام پر غیر انسانی سلوک کی مذمت بھی کی۔