شکریہ لاک ڈاؤن: میں نے معروف سیریز ’منی ہیسٹ‘ کو کیسا پایا؟

14 اپريل 2020

ای میل

ویسے تو دنیا میں کہانی کہنے اور سُننے کی روایت صدیوں پُرانی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کہانی کے اس بیانیے میں تبدیلی آنے لگی۔ کہانی سننے کے لیے داستان گوئی کا فن ایجاد ہوا جبکہ کہانی پڑھنے کے لیے اس کو لکھنے کی شروعات ہوئی، یوں تخلیقِ ادب کی ابتدا ہوئی۔

اس پوری سرگرمی کے پیچھے ہزاروں سال کی تاریخ ہے، پھر ایک موڑ ایسا آیا جب کہانی کو دِکھانے کا عمل شروع ہوا تو اس کے ساتھ تھیٹر کے فن کی روایت متعارف ہوئی۔

انسانی اختراع نے اس میں مزید راہیں نکالیں، جن کی بنیاد پر ریڈیو، ٹیلی وژن اور سنیما نے کہانی کو سنانے اور دکھانے کا اپنا اپنا روپ دھارا۔ ان سب میں فلم کے میڈیم کو سب سے زیادہ شہرت ملی، انٹرنیٹ کی آمد کے بعد اب ویب سیریز نے مقبولیت میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو اپنے میڈیم میں فلم اور ڈرامے کا امتزاج بھی ہیں۔

90ء کی دہائی کے وسط میں ویب ٹیلی وژن کے تصورات اور انٹرنیٹ کے ذریعے ویڈیو کو ترسیل و نشر کرنے کی ابتدا ہوئی جبکہ 2000ء کے بعد اس نشریاتی انداز کی شہرت اور مقبولیت میں حقیقی طور پر اضافہ ہوا۔ 1997ء میں اسی نوعیت کے ایک ادارے 'نیٹ فلیکس‘ نے تفریح کی دنیا میں اس جدت بھرے نشریاتی انداز میں نئے امکانات کو جنم دیا۔

یوں کہانی کو دیکھنے کے عمل میں لامحدود اور منفرد تفریح کے نئے تصورات در آئے۔ آج پوری دنیا میں اس ویب سائٹ کے ذریعے فلمیں، ڈرامے اور ویب سیریز دیکھی جاتی ہیں جن میں سے بہت ساری نیٹ فلیکس کی اپنی ہی پروڈکشن میں بنائی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شہرہ آفاق نیٹ فلیکس ویب سیریز ’مَنی ہیسٹ‘ کا تبصرہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھی جانے والی مقبول ترین ویب سیریز میں سے ایک ہے۔

نیٹ فلیکس ویب سیریز ’مَنی ہیسٹ‘ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھی جانے والی مقبول ترین ویب سیریز ہے
نیٹ فلیکس ویب سیریز ’مَنی ہیسٹ‘ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھی جانے والی مقبول ترین ویب سیریز ہے

اس سیریز کے ذریعے کہانی کو جدید ثقافتی افکار کی آمیزش کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اس میں اسپین کی اپنی ثقافت اور یورپ کی ثقافتی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ ہسپانوی اور انگریزی زبانوں میں بنائی گئی یہ ویب سیریز کئی عالمی اہم اعزازات سمیٹنے کے علاوہ تفریحی دنیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

ناکامی اور کامیابی کی ویب سیریز

2017ء میں اسپین کے ایک مقامی چینل نے 15 اقساط پر مشتمل ڈراما ’انٹینا تھری‘ 2 حصوں میں نشر کیا۔ پہلے حصے نے ناظرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کی اور اس کو بے پناہ پسند کیا گیا لیکن دوسرے حصے میں آخری قسط تک آتے آتے یہ ڈراما سیریل اپنی کشش کھو بیٹھا۔

اسی برس معروف امریکی تفریحی ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ نے اس کے حقوق حاصل کرلیے۔ پہلے مرحلے میں ان اقساط کو نئی ترتیب دی، اقساط کا دورانیہ کم کیا، جس کی وجہ سے 15 اقساط 22 ہوگئیں۔ ان کو جب ریلیز کیا گیا تو پوری دنیا میں اس کی مقبولیت نے نئے ریکارڈ قائم کردیے۔

اس شہرت کو دیکھتے ہوئے نیٹ فلیکس نے اسے مزید توسیع دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی پروڈکشن کے تحت 2 مزید سیزن تخلیق کیے، جس کی غرض سے اسپین میں اپنا نیا پروڈکشن ہاؤس بھی تشکیل دیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں چوتھا سیزن ریلیز ہوچکا ہے اور پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔ 2020ء میں ہی اس کا 5واں سیزن نشر ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس وقت یہ ویب سیریز اوّل نمبر پر ہے اور یہ منفی ومثبت دونوں پہلوؤں سے زیرِ بحث ہے۔

پاکستان کا تذکرہ

اس ویب سیریز کے تیسرے اور چوتھے سیزن میں پاکستان کا تذکرہ بھی آچکا ہے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی یورپی اور امریکی فلم یا ڈرامے میں پاکستان کا ذکر آئے اور وہ ذکرِ خیر ہو؟

اس ویب سیریز میں 2 بار پاکستان کا نام سامنے آیا ہے۔

  • پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب اس کہانی کا مرکزی کردار یعنی لوٹ مار کرنے والے گروہ کا سرغنہ اور ماسٹر مائنڈ 'پروفیسر' کمپیوٹر سے متعلق ہائی جیکنگ کے لیے ایک پاکستانی ہائی جیکر کا تذکرہ کرتا ہے جبکہ
  • دوسری مرتبہ تو صرف ذکر ہی نہیں بلک ایک پاکستانی کردار کو بھی متعارف کروا دیا گیا۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ڈکیتی کی غرض سے جب گروہ ایک ہسپانوی بینک پر قابض ہوتا ہے اور وہاں ان کی ایک مرکزی رُکن گولی لگنے سے شدید زخمی ہوجاتی ہے تو یہ ڈکیت ہائی جیکر پولیس سے مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں ناکامی ہوتی ہے پھر یہ پاکستان کے شہر اسلام آباد سے ایک ڈاکٹر احمد کا آن لائن تعاون حاصل کرتے ہیں اور ان کی مدد سے ایک پیچیدہ سرجری کامیاب ہوجاتی ہے۔
سیریز میں نظر آنا والا پاکستانی ڈاکٹر کا کردار
سیریز میں نظر آنا والا پاکستانی ڈاکٹر کا کردار

اب بظاہر تو اس کی وجہ سے پاکستانی بڑے خوش ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس خوشی کا غل غپاڑہ مچا ہوا ہے لیکن ذرا باریکی اور سنجیدگی سے دیکھا جائے تو پاکستانیوں کو اس میں مجرموں کا سہولت کار دکھایا گیا ہے جس پر رنجیدہ یا شرمسار ہونے کے بجائے پاکستانیوں کی اکثریت خوش ہے اور شنید یہ ہے کہ اس ویب سیریز کے پانچویں اور آخری سیزن میں ایک اور پاکستانی کردار دکھایا جائے گا جس کا تعلق بھی پاکستان سے ہوگا۔ اس حوالے سے مغربی میڈیا نے بھی اشارے دیے ہیں۔

کہانی، اسکرپٹ رائٹنگ

ویب سیریز کے ہدایت کار ’ایلکس پینا‘ ہی اس کے اسکرپٹ رائٹر ہیں، جس میں ان کی معاونت ’جویر گومز‘ نے کی ہے۔ سیریز میں 2 کہانیاں ہیں، جن میں پہلی کہانی 2 سیزن پر مبنی ہے۔ اس میں ایک صداکار کے ذریعے کہانی کے کردار بیان کیے گئے ہیں، یعنی صداکاری کے ذریعے کہانی کو مزید آسان کرکے دکھانے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔

ان کہانیوں میں ایک ایسا گروہ دکھایا گیا ہے جو اسپین میں ڈکیتی کی تاریخی واردات کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس گروہ کے کارندوں کے نام دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں، جیسے ٹوکیو، برلن، نیروبی، ریو، ماسکو وغیرہ۔

اس گروہ کو اپنی پہلی واردات اسپین کے مرکزی معاشی ادارے ’رائل منٹ آف اسپین‘ جبکہ دوسری ڈکیتی ’بینک آف اسپین' میں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پہلی واردات میں یہ گروہ کامیاب رہا، جبکہ دوسری واردات کا حتمی فیصلہ اس ویب سیریز کے اگلے سیزن 5 میں ہوسکے گا۔

اس کہانی میں تقریباً 20 اہم کردار ہیں جن کی آمد و رفت ویب سیریز میں جاری رہتی ہے۔ ڈکیتیاں کیسے کی جائیں گی، یہ 'پروفیسر' پکارے جانے والا مرکزی کردار طے کرتا ہے، اس کے لیے وہ مختلف عادت و اطوار کے کارندے جمع کرتا ہے جن میں مرد اور عورتیں شامل ہیں۔

پروفیسر ان کو باقاعدہ ایک جماعت کی صورت میں ایسے تربیت دیتا ہے جیسے وہ ڈکیتی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی جامعہ میں داخلہ لے کر آئے ہوں۔ اس دوران ان کے آپس کے جنسی تعلقات اور رومانوی معاملات بھی کہانی کی رنگینی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

میری نظر میں کہانی کے سب سے کمزور حصے بھی یہی ہیں۔ ایک طرف تو دکھایا گیا ہے کہ جرائم پر مبنی مشن میں ذاتیات کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مجرموں کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے، ان کو جذباتی ہونے سے منع بھی کیا گیا ہے اور صرف عقلی دلائل مدِنظر رکھے گئے ہیں لیکن دیکھا یہ گیا کہ ایک ایک کرکے سب کردار جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں، جس میں پولیس، مجرم اور مغوی تینوں طرح کے کردار شامل ہیں۔

اس کہانی میں تقریباً 20 اہم کردار ہیں جن کی آمدو رفت ویب سیریز میں جاری رہتی ہے
اس کہانی میں تقریباً 20 اہم کردار ہیں جن کی آمدو رفت ویب سیریز میں جاری رہتی ہے

کہانی جب آگے بڑھتی ہے اور جب وہ پہلی ڈکیتی شروع کرتے ہیں تو ان کرداروں کا ماضی بھی کہانی میں شامل ہوتا رہتا ہے۔ ہر کردار اپنے غم اور خوشیاں دیگر کرداروں کو سناتا اور بتاتا ہے۔

جیسے جیسے کہانی مزید آگے بڑھتی ہے ویسے ویسے کرداروں کا آپسی تصادم بھی زور پکڑنے لگتا ہے۔ ایک طرف جرائم پیشہ ذہنیت کے افراد اور ان کے قبضے میں درجنوں مغوی افراد تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ان کی حکمتِ عملی دیکھنے کو ملتی ہے۔

دونوں طاقتوں کے مابین مکالمہ اور معاملات کی تفہیم سے کہانی کی دلچسپی برقرار رہتی ہے، تاہم پہلے 2 سیزن تک تو کہانی کی یہ گرفت مضبوط ہے لیکن تیسرے اور چوتھے سیزن میں کہانی میں کچھ خاص کشش باقی نہیں رہتی، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہاں کہانی اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اور کچھ نیا نظر نہیں آتا۔ اس سب کے باوجود ابھی تک تو یہ ویب سیریز مقبولیت کے گراف پر نیچے آتی نظر نہیں آرہی ہے مگر آنے والے دن حتمی طور پر یہ طے کریں گے کہ اس کے نئے سیزن کے نتائج کیا ہوں گے؟

لاک ڈاؤن میں ابھی تو جبری فراغت کے مارے لوگ بالخصوص پاکستان میں پورے پورے سیزن دیکھنے میں مصروف ہیں۔ یعنی عوام کے فارغ ہونے کا اندازہ اس طریقے سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 41 سے 59 منٹ کے دورانیے کی 31 اقساط پر مبنی اس ویب سیریز کی ساری قسطیں دیکھ لی ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں اپنے خیالات کا تفصیلی اظہار بھی کررہے ہیں۔

عکس بندی اور ہدایت کاری

3 اپریل 2020ء کو اس ویب سیریز کا چوتھا سیزن ریلیز کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی نصف گھنٹے کی ایک دستاویزی فلم بھی جاری کی گئی جس میں یہ بتایا گیا اس کی عکس بندی کا کام کس طرح انجام دیا گیا؟ اس دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ اسپین اور اٹلی میں خاص طور پر ہجوم کے سامنے اداکاروں کو اپنے کردار نبھانے پڑے اور سنیماٹوگرافی میں خاصی دِقت پیش آئی۔

کئی جگہ پر سینماٹو گرافر اپنا سر پکڑے دکھائی دیے، جس کی وجہ وہ ذہنی دباؤ تھا کہ جیسا کام وہ عکس بند کرنا چاہتے ہیں وہ ہو بھی پائے گا یا نہیں؟ ہسپانوی زبان کی اس ویب سیریز کا محور مجرمانہ سرگرمیاں، ہائی جیکنگ اور تِھرل تھا، جس کو اسپین کے علاوہ، اٹلی، پاناما اور تھائی لینڈ میں عکس بند کیا گیا ہے۔

اس سیریز کی تیاری پر مبنی دستاویزی و معلوماتی فلم بھی بنائی گئی ہے

اس ویب سیریز کے خالق ’ایلکس پینا‘ نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس کہانی کو حقیقت سے قریب تر بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے چند ایک اہم مقامات پر عکس بندی کا ارادہ کیا تھا اور وہاں شوٹنگ کے لیے حکام کو عرضی بھی دی گئی تھی لیکن اجازت نہ ملی اور یوں منتخب عمارتوں کے اندرونی مناظر کے لیے سیٹ لگائے گئے اور بیرونی مناظر کے لیے متبادل عمارات کا انتظام کیا گیا۔

کہانی فلمانے کے لیے بھی اس قدر رازداری کا مظاہرہ کیا جاتا تھا کہ ہر اداکار کو قسط کے لحاظ سے اسکرپٹ ملتا تھا، جس پر سب اداکار ایک دوسرے کو تجسس کے مارے بتاتے تھے کہ کہانی اب کیا رخ اختیار کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اداکاروں کو سیٹ پر پہنچ کر اندازہ ہوتا تھا کہ ان کا کردار کس طرف کو آگے بڑھے گا۔

بہت سارے مناظر دیکھ کریہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کو زبردستی آگے بڑھایا گیا ہے اور اسی عنصر کی وجہ سے اس ویب سیریز کی مقبولیت میں کمی بھی آئی تھی۔

اب چوتھے سیزن تک آتے آتے پھر یہ احساس ہورہا ہے کہ کہانی کو زبردستی گھسیٹا جارہا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے ہدایت کار اور سنیماٹو گرافر نے کہانی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ 5 پیش کاروں پر مشتمل ٹیم نے اس سیریز کے معاشی معاملات کو سنبھالا اور نیٹ فلیکس کے آنے سے یہ منصوبہ مزید کامیابی سمیٹنے لگا۔

ابتدا میں نیٹ فلیکس نے بھی اس کو اہمیت نہیں دی، نہ ہی اس کی تشہیر پر زیادہ دھیان دیا، پھر جب یہ مقبولیت سمیٹنے لگا تو اس کی نہ صرف تشہیر ہوئی اور اس کی تیاری پر مبنی دستاویزی و معلوماتی فلم بھی بنائی گئی تاکہ ناظرین کو اس منصوبے کی تیاری کے پیچھے کی گئی کوششوں سے آگاہ کیا جاسکے۔

اداکاری اور موسیقی

اداکاری کے لحاظ سے بھی سارے اداکاروں نے اپنی اپنی جگہ معیاری کام کیا ہے لیکن مرکزی کرداروں میں ٹوکیو، برلن، نیروبی اور پروفیسر نے دیکھنے والوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔

اس ویب سیریز میں سب سے فضول اور بچکانہ کردار ’انسپیکٹر راکیل موری لو‘ کا محسوس ہوا جس کی وجہ سے کہانی میں متعدد جگہ جھول پیدا ہوئے بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ جب کوئی کردار اس ذہنیت اور دوہرے عمل کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ محرومیاں بھی نتھی ہوتی ہیں تو پھر جس طرح کی غلطیاں ہوتی ہیں وہی اس کردار نے کی ہیں اور اس اداکارہ کی اداکاری میں بھی واضح طورپر ہولی وڈ کے اثرات نمایاں ہیں۔

پروفیسر اور انسپکٹر کی ٹین ایج انداز کی عاشقانہ اداکاری نے بہت ساری جگہوں پر یکسانیت کو بڑھاوا دیا جس سے دیکھنے والے کی بوریت میں اضافہ ہوا اورایسا لگا کہ ڈکیتی کسی بینک میں نہیں بلکہ بیکری میں کی جارہی ہے جہاں ماحول اس قدر پُرسکون اور فرحت بخش ہے کہ فرصت سے عاشقی ہورہی ہے وہ بھی پورے آپریشن کو ہیڈ کرنے والی پولیس انسپکٹر اور گروہ کے سرغنہ کے مابین، یہ پہلو بہت مصنوعی اور اضافی محسوس ہوا۔

موسیقی میں 2 موسیقاروں کی شراکت ہے، 2 ہی گیت ہیں اور دونوں کو بہت اچھے طریقے سے گایا گیا ہے۔ موسیقی کے معاملے میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سیریز کا گیت بعنوان 'بیلا چاؤ' اٹلی کا معروف دیہی پس منظر رکھنے والا انقلابی گیت ہے، جس کو کسان اپنے استحصال کے نتیجے میں گایا کرتے تھے۔

دوسری جنگِ عظیم میں نازیوں کے ظلم وستم کے خلاف بھی یہ گیت مقبول ہوا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ کئی اہم موقعوں پر اس گیت کی مقبولیت بڑھی اور اب اس ویب سیریز کے ذریعے اطالوی زبان کا یہ گیت پوری دنیا میں شہرت پاچکا ہے۔ یہ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والوں کا مشہور گیت ہے، لاعلمی کا عالم دیکھیے کہ پاکستان میں دائیں بازو کی فکر کے لوگ بھی اس کی دھن پر جھولتے پائے گئے کیونکہ اکثریت اس کے فکری پس منظر سے ناواقف ہے۔

عالمی ثقافتی تحریک ’سریرئلزم‘ کے اثرات

اس فلم میں سلوگن کے طور پر جو ماسک استعمال کیا گیا ہے، اس پر بنے چہرے کی بناوٹ اور خدوخال اسپین کی جدید مصوری کے ایک بڑے مصور ’سلوادوردالی‘ کے چہرے سے مماثلت رکھتے ہیں، جس میں ان کی مونچھیں نوکیلی اور آنکھیں ایک مخصوص طرز کا احساس لیے ہوئے ہیں۔

اس ویب سیریز میں معمولی ردو بدل سے ان کے چہرے کی ساخت اور بناوٹ کو ماسک کی شکل دی گئی ہے۔ یہ اپنی طرح کا ایک منفرد سلوگن ہے، جس میں کسی انسان کے چہرے کے تاثرات کو تجریدی اور تخلیقی طور پر استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اس ویب سیریز کا فکری محور ’سریرئلزم‘ ہے جس کے تحت ثقافتی اور تجریدی انداز میں کہانی اور افکار کو بیان کیا جاتا ہے ۔

ماسک کے چہرے کی بناوٹ اور خدوخال اسپین کی جدید مصوری کے ایک بڑے مصور ’سلوادوردالی‘ کے چہرے سے مماثلت رکھتے ہیں
ماسک کے چہرے کی بناوٹ اور خدوخال اسپین کی جدید مصوری کے ایک بڑے مصور ’سلوادوردالی‘ کے چہرے سے مماثلت رکھتے ہیں

یہ ثقافتی تحریک 1917ء میں فرانس اور بیلجیم سے شروع ہوئی تھی جو وقت کے ساتھ پوری دنیا پر اثر انگیز ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ اطالوی مصور کے چہرے کا انتخاب کیا گیا کیونکہ وہ بھی اسی تحریک سے وابستہ ایک بڑے مصور تھے۔

اسی طرح ’ٹوکیو‘ نامی کردار کے لیے جو حلیہ ڈیزائن کیا گیا ہے وہ اداکارہ ’نتالی پورٹمین‘ کی ایک فلم ’دی پروفیشنل‘ سے متاثر ہے، جس کو یہاں متذکرہ کردار میں ڈھالا گیا ہے۔ اسی فکر سے متعلق کئی پینٹنگ اور دیگر فن پارے بھی اس ویب سیریز میں جابجا دکھائی دیں گے۔ یہ سب کچھ اس ثقافتی تحریک اور ہسپانوی ثقافت کے جدید نظریات کا مظہر ہے۔

آخری بات

اس ویب سیریز کی کہانی میں کوئی نئی جدت نہیں۔ بینکوں کو لوٹنے کا وہی پرانا طریقہ واردات ہے البتہ اس کو پیش کرنے کا انداز اچھوتا ہے۔ پھر اس میں جذبات اور جنسیات کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی شہرت میں اضافہ ہوا۔

اداکاری اور دیگر پہلوؤں سے یہ ایک عام سی ویب سیریز ہے، البتہ اس میں دکھائی جانے والی لوکیشن، سیٹ، میک اپ، لائٹس، کرداری لباس وغیرہ متاثر کن ہیں۔ ہسپانوی ناظرین تو اس کو پہلے مرحلے میں مسترد کرچکے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں کسی چیز کو بیچنے کے نفسیاتی حربوں کو نیٹ فلیکس نے بخوبی استعمال کیا ہے۔

آپ کے پاس اگر بہت سارا فالتو وقت ہے تو آپ یہ سیریز دیکھ سکتے ہیں وگرنہ دنیا میں اس سے بہت بہتر اور معیاری کہانیاں پڑی ہیں جن پر اس سے بھی بہتر انداز میں کام کیا گیا ہے۔ تفریح صرف تفریح کی حد تک رہے تو بہتر ہوتی ہے لیکن آپ اگر اس کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جیسا کہ اس ویب سیریز کے سیزنوں کی شکل میں ناظرین کو اس کی لت لگانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ ذہنی اور فکری طور پر تشویشناک پہلو ہے جس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔