حکومت کا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر’اجتماعی سزائیں‘ دینے پر غور

اپ ڈیٹ جون 01 2020

ای میل

اسد عمر نے کہا کہ  دکانداروں کو سختی سے ’ماسک نہیں تو کام نہیں‘ کی پالیسی پر عمل کروانا چاہیے—تصویر: اے ایف پی
اسد عمر نے کہا کہ دکانداروں کو سختی سے ’ماسک نہیں تو کام نہیں‘ کی پالیسی پر عمل کروانا چاہیے—تصویر: اے ایف پی

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد چین سے بڑھنے والی ہے اور اس سلسلے میں قومی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس آج وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہوگا جس میں آئندہ کی حکمت عملی پر فیصلہ کیا جائے گا تاہم وفاقی حکومت واضح کرچکی ہے کہ لاک ڈاؤن کا آپشن زیر غور نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ ٹی وی اینکرز کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’لاک ڈاؤن کا آپشن ہمیشہ سے موجود ہے لیکن فی الحال زیر غور نہیں‘۔

اپوزیشن اور حکومت سندھ کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

حکومت کب لاک ڈاؤن لگانے پر غور کرسکتی ہے کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ لاک ڈاؤن صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں لگے کہ مک کا نظام صحت پر حد سے زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے لیکن اس وقت ایسی صورتحال نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان میں کیسز 71 ہزار سے بڑھ گئے، اموات 1500 سے متجاوز

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے عید کے دوران اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کے اثرات جون کے وسط تک سامنے آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت جلد اور سخت لاک ڈاؤن لگا کر ’غلطی‘ کی۔

وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ حکومت پرزور طریقے سے ٹی ٹی کیو (ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور کوارنٹائن) کی پالیسی پر عمل کررہی ہے اور ٹریکنگ اور ٹیسٹ کے سافٹ ویئر کے ساتھ ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے نظام کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔

قبل ازیں این سی او سی کا اجلاس اسد عمر کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ دکانداروں کو سختی سے ’ماسک نہیں تو کام نہیں‘ کی پالیسی پر عمل کروانا چاہیے۔

وبا میں شدت آنا ابھی باقی ہے

دوسری جانب ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں جون کے اوخر سے جولائی کے وسط تک وبا کا پھیلاؤ شدید ہونے کی توقع ہے۔

مستقبل کے اندازے بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جون کے وسط تک کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے ایک لاکھ 25 ہزار تک جاسکتی ہے جبکہ اموات کی شرح 2 ہزار 750 سے 3 ہزار 250 تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اجتماعی سزائیں دینے پر غور

علاوہ ازیں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 'اجتماعی سزا‘ کے نظام پر غور کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے پاس 2 ہی راستے ہیں ایک کہ لاک ڈاؤن کرنے جو ہم نہیں چاہتے دوسرا ایس اور پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اگر ایس او پیز کی خلاف ورزی پائی گئی تو پوری مارکیٹ یا شاپنگ مال کو ایک خاص مدت تک کے لیے بند کیا جاسکتا ہے۔

بریفنگ کے دوران شرکا کو بتایا گیا کہ وبا کے باعث کورونا وائرس سے متاثرہ اور مرنے والوں کی تعداد اب بھی حکومتی اندازوں سے کم ہے۔

سرکاری تخمینے کے مطابق حکومت کو 30 مئی تک کورونا کے کیسز 97 ہزار 611 تک پہنچنے کی توقع تھی تاہم کیسز کی تعداد 66 ہزار 457 رہی جو توقع سے 32 فیصد کم تھی اسی طرح اموات کی تعداد 2 ہزار 266 ہوجانے کا امکان تھا جو تخمینے سے 34 فیصد کمی کے ساتھ 30 مئی تک ایک ہزار 395 رہی۔