اداکاروں کے بعد حکومتی شخصیات بھی 'ارطغرل غازی' پر منقسم

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

ڈرامے کو پاکستان میں بہت سراہا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
ڈرامے کو پاکستان میں بہت سراہا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ

پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اپریل کے آخر سے نشر کیے جانے والے ترکی کے معروف ڈرامے 'دیرلیش ارطغرل' جسے اردو میں 'ارطغرل غازی' کے نام سے چلایا جا رہا ہے۔

اس پر جہاں پاکستان میں شوبز شخصیات کی مختلف آراء سامنے آئی تھیں، وہیں اب حکومتی شخصیات بھی ترکی کے ڈرامے پر منقسم دکھائی دیتی ہیں۔

چند دن قبل سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے 'ارطغرل غازی' کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ بیرون ممالک کے ڈرامے ہماری مقامی انڈسٹری کو تباہ کردیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی کسی بھی غیر ملکی ڈرامے پر فخر نہیں کر سکتا۔

تاہم ان کے برعکس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور سینیٹ کی انفارمیشن براڈکاسٹنگ اور ہیریٹیج کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین فیصل جاوید خان 'ارطغرل غازی' کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کے حامی ہیں۔

فیصل جاوید خان نے فواد چوہدری کی ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے پی ٹی وی کی حمایت کی اور کہا کہ 'ارطغرل غازی' جیسے ڈرامے ہماری ڈراما انڈسٹری کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی اقدار کے حوالے سے مواد کو نہ صرف نشر کرنا چاہیے بلکہ ایسا مواد تیار کرکے بیرون ممالک کو بھی فراہم کرنا چاہیے، ایسے منصوبے مشترکہ ہونے چاہیئیں۔

فیصل جاوید خان نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں مقامی ڈراما انڈسٹری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اچھے مواد کی تیاری پر کام کرنا چاہیے، ہماری انڈسٹری میں یہ صلاحیت موجود بھی ہے اور ہم اس کی مدد سے عالمی مارکیٹ میں داخل بھی ہوسکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر نے ایک اور ٹوئٹ میں کسی کو مینشن کیے بغیر لکھا کہ کاش ہم ایسا ہی رد عمل بھارتی ڈراموں، فلموں اور گانوں پر بھی دیں۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی مواد دکھانے پر سرکاری ٹی وی کیسے فخر کرسکتا ہے، فواد چوہدری

انہوں نے لکھا کہ ہمارے اپنی ہی لوگ گیم آف تھرونز جیسے ڈراموں کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہم ارطغرل غازی پر تنقید کر رہے ہیں جب کہ پی ٹی وی اچھی انگریزی فلمیں بھی نشر کرتا ہے۔

فیصل جاوید خان کی ٹوئٹس پر درجنوں افراد نے کمنٹس کیے جن میں سے کچھ افراد نے ان کی مخالفت جب کہ کچھ افراد نے ان کی حمایت میں ٹوئٹس کیں۔

فیصل جاوید خان کی ٹوئٹس پر معروف اداکار و لکھاری واسع چوہدری نے بھی کمنٹس کیے اور انہوں نے سینیٹر کو یاد دلایا کہ انہوں نے بھارتی ڈراموں اور مواد کو نشر کرنے پر بھی احتجاج کیا تھا۔

اداکار نے سینیٹر کو بتایا کہ جب ایک دہائی قبل ٹوئٹر نہیں تھا تب بھی ڈراما انڈسٹری کے کچھ افراد نے بھارتی مواد کو نشر کرنے پر احتجاج کیا۔

واسع چوہدری نے فیصل جاوید خان کی دوسری ٹوئٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے سینیٹر کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 'ارطغرل غازی' ایک معیاری ڈراما ہے، انہوں نے خود اس ڈرامے کی 200 قسطیں دیکھی ہیں مگر ان کا مسئلہ ڈرامے سے نہیں بلکہ اسے پی ٹی وی پر نشر کرنے سے ہے کیوں کہ اس میں کچھ قانونی مسائل بھی آجاتے ہیں۔

واسع چوہدری کی پی ٹی وی پر 'ارطغرل غازی' کو نشر کرنے کی بات سے فیصل جاوید خان نے اتفاق کیا اور کہا وہ درست کہہ رہے ہیں لیکن ابھی اچھے مواد کو نشر کرکے پی ٹی وی پر لوگوں کو لایا جا رہا ہے اور اگلے مرحلے میں پی ٹی وی پر مواد نشر کرنے کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر 24 اپریل سے یومیہ رات کو پرائم ٹائم میں نشر کیا جا رپا ہے، اس ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور اسے محض 25 دن میں یوٹیوب پر 30 کروڑ سے زائد بار دیکھا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'دیریلیش ارطغرل' ڈراما خاص کیوں ہے؟

اسی طرح ڈرامے کو پاکستانی شائقین اور خود شوبز شخصیات نے بھی سراہا تھا اور کئی شوبز شخصیات نے ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر دکھانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا تاہم شان، ریما، یاسر حسین اور منشا پاشا جیسی شخصیات نے اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت بھی کی تھی۔

اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے۔

ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

ڈراما پاکستان میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ڈراما بن چکا ہے—اسکرین شاٹ
ڈراما پاکستان میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والا ڈراما بن چکا ہے—اسکرین شاٹ