یہ ’تار‘ ہوتی نہیں، ہوتے ہیں، یہ مؤنث نہیں مذکر ہیں

اپ ڈیٹ 06 جون 2020

اردو میں ہم ایسے کئی الفاظ بے مُحابا استعمال کرتے ہیں جن کا مفہوم اور محل واضح ہوتا ہے لیکن کم لوگ جن میں ہم بھی شامل ہیں ان الفاظ کے معانی پر غور کرتے ہیں۔

اب اسی لفظ ’بے مُحابا‘ کو ہی دیکھ لیجیے، استعمال صحیح کیا ہے لیکن اگر ’بے‘ ہے تو ’محابا‘ بھی کچھ ہوگا۔ ’بے‘ تو فارسی کا حرفِ نفی ہے، یعنی بغیر مُحابا کے اور مُحابا کی شکل کہہ رہی ہے کہ یہ عربی ہے۔

عربی میں اس کے کئی معانی ہیں مثلاً لحاظ، مروت، پاسداری، صلح، اطاعت، فروگزاشت، ڈر، خوف، احتیاط۔ اردو میں بے مُحابا عموماً بے خوف و خطر یا بلا لحاظ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ بھی بے مُحابا استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ سب عربی کے الفاظ ہیں جن میں ’بے‘ کا سابقہ لگاکر نفی بنالی گئی۔ ’بے تحاشا‘ کے بارے میں شاید ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ مُحابا کی تحاشا بھی عربی ہے: بے زاری ظاہر کرنا، اجتناب، پرہیز، ڈر وغیرہ۔ بے تحاشا کا مطلب ہے: مضطربانہ، بے اطمینانی سے، اندھادھند وغیرہ۔

عرب ممالک میں پیٹرول وغیرہ کو محطّہ کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے ٹیلی ویژن اسٹیشن کا ترجمہ کیا تھا ’محطہ آلہ دید بعید‘۔ یہ ترجمہ ہی اتنا ثقیل و طویل ہے کہ نشریات ختم ہوجائیں گی۔ ہندی میں ’دُور درشن‘ بہت اچھا ترجمہ ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر چیز کا ترجمہ تلاش کیا جائے۔ جو لفظ زبان میں رائج ہوجائے اور زبان پر چڑھ جائے اس سے چھیڑ خانی نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ جن انگریزی الفاظ کا عام فہم متبادل موجود ہے اسے ضرور استعمال کیا جائے۔

اخبارات میں ’ممبران‘ بڑی کثرت سے نظر آتا ہے۔ یہ نہ انگریزی ہے نہ اردو، آدھا تیتر، آدھا بیٹر ہے۔ اب یا تو ممبرز لکھا جائے ورنہ ارکان لکھنے اور کہنے میں کیا تردد ہے!

اسٹینڈنگ کمیٹی کو مجلسِ قائمہ لکھنے اور کہنے میں بھی کچھ حرج نہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی کو مجلس منتظمہ کہا جائے، لیکن اس کا وہ رعب نہیں پڑے گا جو انگریزی میں پڑتا ہے۔ ہم اب تک من حیث القوم انگریزی سے مرعوب ہیں لیکن انگریزوں سے نہیں، اب امریکہ سے مرعوب ہوتے ہیں۔

یاد آیا، ایک ورکنگ کمیٹی بھی ہوتی ہے جو سیاسی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔ کام اس کا کیا ہوتا ہے، یہ تو شاید کسی کو معلوم نہ ہو، لیکن اسے بھی مجلسِ عاملہ کہا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کسی پارٹی کا ہو یا کسی تعلیمی شعبے کا، اسے صدر نشین کہا جائے تو وہ بھی بُرا مانے گا کہ شاید اس کا عہدہ یا منصب گھٹایا جارہا ہے۔

ویسے چیئرمین کا صحیح ترجمہ تو ’کرسی نشین‘ بنتا ہے، لیکن کرسی پر کوئی بھی قابض ہوسکتا ہے۔ ہم خود اِس وقت کرسی نشین ہیں۔ یہ بھی عربی اور فارسی کا مرکب ہے۔ کرسی عربی کا لفظ ہے۔ اردو میں عام طور پر عرش، آسمان کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب ہے: چھت، تخت، بادشاہ کا تخت، وہ جگہ جو آسمانوں کے اوپر ہے اور جہاں خدا کا تخت ہے۔ خدا کے عرش کو عرشِ اعظم کہا جاتا ہے اور عرشِ اکبر انسان کے دل کو کہتے ہیں۔

کسی کسی کا دماغ بھی عرش پر پہنچ جاتا ہے۔ عربی میں عرش کی تصغیر عریش ہے یعنی چھوٹی کرسی، دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ دار جگہ، پھونس سے بنا ہوا چھپر جو باغوں اور فصلوں کی نگرانی کے لیے عارضی طور پر بنا لیتے ہیں۔ جنگِ خندق کے دوران ایک پہاڑی پر رسول اکرم ﷺ کے لیے سایہ دار جگہ بنائی گئی تھی، اسے بھی عریش کہا جاتا ہے۔ بعد میں اس کی جگہ مسجد فتح بنادی گئی۔ لڑکیوں کا نام عریشہ رکھا جانے لگا اور بحری جہازوں میں عام مسافروں کے لیے عرشہ ہوتا ہے، وہ بھی عرش ہی سے ہے۔

محطہ تو ظاہر ہے کہ احاطہ سے ہے اور یہ لفظ اردو میں عام ہے۔ محیط بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن پیٹرول پمپ وغیرہ کے لیے محطہ استعمال نہیں ہوتا۔ اسی سے ایک لفظ محاط ہے یعنی گھیرا گیا، احاطہ کیا گیا۔ اس کا ایک مطلب ’مشہور‘ بھی ہے۔

چلیے اب عربی کے بجائے اردو کی طرف آجاتے ہیں، عربی دانی کسی اور کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ آج کل اخبارات میں ’تار‘ کو کثرت سے مونث لکھا جارہا ہے خواہ وہ بجلی کا تار ہو، کسی جلوس کو روکنے کے لیے بچھائے گئے تار ہوں یا تارِ برقی ہو (ٹیلی گرام)، جس کا رواج شاید اب نہیں رہا۔

لیکن تار کسی بھی قسم کا ہو، یہ فارسی کا لفظ ہے اور مذکر ہے۔ مطلب اس کا ہے: ’تاگا، دھاگا، کسی دھات کا لمبا ڈورا، سلسلہ، قوام، پیپ، تارِ برقی وغیرہ۔‘ اب خواہ کانٹے دار تار بچھائیں یا یہ تارِ نگاہ ہو، یہ مذکر ہی رہے گا۔ فارسی میں تار کا ایک مطلب اندھیرا اور تاریک بھی ہے۔ تیرہ و تار تو سنا ہی ہوگا، نہیں تو اب پڑھ لیں۔ تیرہ تاریک اور اندھیرے کو کہتے ہیں۔ ایک شاعر کہتا ہے

شبِ غم، تیرہ بختی، فسردہ خاطری اپنی

گری کیا دیکھ کر بجلی مرے اس ساز و ساماں پر

تارِ نگاہ کے بارے میں لکھنؤ کے شاعر امام بخش ناسخ نے کہا تھا

جلا رنگ اے دیدۂ خونبار اب تارِ نگاہ

ہے محرم اس پری پیکر کو ناڑا چاہیے

یعنی محرم میں کمربند بھی سرخ درکار ہے۔ ضمناً یاد آیا کہ اردو میں کمربند کو اِزار بند بھی کہتے ہیں اور اِزار عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: پاجامہ یا پجامہ۔

تار کا استعمال سڑک پر بچھانے یا تار بندی (بجلی کے تار نصب کرنے کا عمل) ہی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے اور کئی استعمال ہیں، مثلاً ’تارباراں‘۔ اسی تار کا دو مرتبہ استعمال معنی بدل دیتا ہے۔ یعنی ’تار تار‘۔ اب اس کا مطلب دوہرے تار بچھانا نہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا، چیتھڑے کردینا، بوسیدہ، بہت زیادہ پھٹا ہوا کپڑا، تار تار کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کردینا جیسے کہیں آئین و جمہوریت کو تار تار کردیا جاتا ہے۔ تار تار بکنا اور تار تار بولنا بھی محاورے میں ہے۔

ایک ’بے تار برقی‘ بھی ہوتا ہے جو وائرلیس کا بہت اچھا ترجمہ ہے مگر رائج نہیں ہوا۔ بہرحال، تار مذکر ہی ہے اسے مونث لکھنا اور کہنا صحیح نہیں۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر فرائیڈے اسپیشل میں شائع ہوا اور با اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔


ضرور پڑھیں

تبصرے (4) بند ہیں

Abrar Jun 04, 2020 07:16pm
The correct language is the one which majority of the people use in a region and languages evolve with people and they are here to felicitate us in daily lives. So dont understand why old generation get sentimental on such issue.
محمد وقاص Jun 04, 2020 08:56pm
حال ہی میں ایک اصول پڑھا تھا انگریزی کے جو الفاظ اردو زبان میں استعمال ہو تے ہیں ان کی جمع اردو زبان کے قوانین کے مطابق ہی بنائی جائے گی ، جیسا کے “ممبر “کی جمع “ممبران “ یا “ممبروں” نا کہ “ممبرز “۔
Shaukat Jun 04, 2020 09:51pm
Old is gold my dear boy Abrar, this article is full of wisdom and an eye-opener for those who murder the beautiful Urdu language, try to understand and find some treasures in the depth of this literary jewel, by the way, are you the one who uses the word "shuroaat" instead of "Ibtida"
یمین الاسلام زبیری Jun 05, 2020 07:36pm
@Abrar. حضرت، آپ کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہے، زبان ان حلقوں میں بنتی ہے جن میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو غلط العوام ہیں اور کچھ غلط العام ہیں۔ غلط العوام کبھی فصیح نہیں ہوسکتا۔ میں اکثر اپنی آرا میں لکھتا رہتا ہوں کہ مقامی زبانوں پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ ہاشمی صاحب کا کالم اردو سے متعلق ہے تو وہ اردو ہی کی بات کریں گے۔ اردو مسلمانوں کے ہندوستان آنے کے بعد نہیں شروع ہوئی یہ اس سے بہت پہلے کی کہانی ہے، جمیل جالبی۔ @محمد وقاص، میں آپ سے متفق ہوں۔ ویسے باہر سے آئے ہوئے الفاظ جمع اور واحد ہوتے ہیں، جیسے، ’بہت سے ممبر آئے،’ اور ’ایک ممبر آیا۔‘ اس کا (میں اردو صرف و نحو میں اچھا نہیں ہوں) غیر فاعلی (oblique) ممبروں ہوگا۔