ملک میں پیٹرول کی قلت، مسابقتی کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا

ای میل

مسابقتی کمیشن کی تحقیقات میں پتہ لگایا جائے گا کہ کہیں یہ بحران کسی مسابقتی سرگرمی کا نتیجہ تو نہیں ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
مسابقتی کمیشن کی تحقیقات میں پتہ لگایا جائے گا کہ کہیں یہ بحران کسی مسابقتی سرگرمی کا نتیجہ تو نہیں ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق عوامی تحفظات اور شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ تحقیقات میں پتہ لگایا جائے گا کہ کہیں یہ بحران کسی مسابقتی سرگرمی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11روپے 88 پیسے تک کی کمی کی سفارش

سی سی پی کو مسابقت ایکٹ 2010 کے تحت اختیار حاصل ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ کاروبار مسابقتی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں، جن میں غالب حیثیت کا غلط استعمال شامل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں رسد کی کمی یا مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معقول اضافہ ہوسکتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک بھر میں ایندھن کی قلت ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے طلب میں کمی کے باعث اس کی قیمتوں میں کمی کی ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے سپلائی محدود کرکے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اپنی غالب حیثیت کے غلط استعمال کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ’لگتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کر کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی فیصلے سے مطلوبہ منافع کمانے کے لیے بے چین کاروبار کرنے والے ناراض ہو گئے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے پیٹرول کی فراہمی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

سی سی پی کی انکوائری سے ملک میں ایندھن کی قلت اور اس کی وجہ بننے والے اقدامات میں کسی بھی مسابقتی عمل کے ملوث ہونے کے امکان کا تعین ہوگا۔

انکوائری میں مزید اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات سے تیل سے بننے والی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں آئی۔

پشاور ہائی کورٹ کا پیٹرول کی قلت کا نوٹس

دوسری جانب ملک میں پشاور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس قیصر رشید نے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی عدم دستیابی کا نوٹس لے لیا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور عدالت کے حکم پر ہشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو عدالت نے انہیں پیٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

جسٹس قیصر رشید نے حکم دیا جن پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے اور پھر بھی لوگوں کو نہیں مل رہا تو ان کو فی الفور سیل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم ڈویژن کا ای سی سی سے تیل کی قیمتوں میں 15 روز تک کمی نہ کرنے کا مطالبہ

اس موقع پر جسٹس قیصر رشید نے ڈپٹی کمشنر سے آٹے بحران پر استفسار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھی اس ملک کا حصہ ہے اور وہاں گندم کی پیداوار اچھی ہوئی ہے لہٰذا اس مسئلے کو حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی گندم کٹائی سیزن گزرا ہے اور ایسے میں ریٹ کم ہونا چاہیے تھا لیکن مزید مہنگا کردیا، آٹا بحران پر وزیر اعلیٰ اور متعلقہ وزیر سے بات کر کے اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔

کراچی میں پیٹرول کی قلت

واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں عوام کو پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے پیٹرول کی بروقت ترسیل کے باوجود عوام کو پیٹرول کے حصول مین مشکلات درپیش ہیں۔

پیٹرول کی کمی کے باعث کراچی سمیت ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر عوام قطاروں میں کھڑے نظر آئے اور ایک بڑی تعداد کو پیٹرول کے بغیر ہی مایوس واپس لوٹنا پڑا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے پمپس کے خلاف کارروائی کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کرلیا۔

اوگرا نے ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکر ٹریز کو خطوط بھی لکھ دیے ہیں۔