اسرائیل مغربی کنارے کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرے، فرانس

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

فرانس، اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے، ایمانوئل میکرون — فائل فوٹو / اے ایف پی
فرانس، اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے، ایمانوئل میکرون — فائل فوٹو / اے ایف پی

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی زمین کو مغربی کنارے میں ضم کرنے سے گریز کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایمانوئل میکرون اور بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ 'ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہوگا اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کے امکان کو خطرے میں ڈال دے گا۔'

واضح رہے کہ یورپی رہنماؤں کی جانب سے بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کے منصوبے کو ترک کردیں۔

اس متنازع اقدام کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے میں بھی توثیق کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مصر، فرانس، جرمنی، اردن کا اسرائیل سے انضمام کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ

اسرائیلی وزیر اعظم نے فلسطینیوں اور بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باوجود یکم جولائی سے مقبوضہ مغربی کنارے سے انضمام کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

رواں ہفتے مصر، فرانس، جرمنی اور اردن نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں کے حصے کو منسلک کرنے سے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

جرمن وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مذکورہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کے اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں جس کے تحت وہ فلسطین کے بعض مغربی علاقوں کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔

تاہم ایمانوئل میکرون نے نیتن یاہو کو بتایا کہ فرانس، اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کی دوستی کو خوش آئند قرار دیا۔

مزید پڑھیں: مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے بعد زمین کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

فلسطینی علاقوں کے انضمام کا تنازع

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگادی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی کنارے کا انضمام ’اعلان جنگ‘ ہوگا، حماس

اس منصوبے میں امریکا نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادی اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔

منصوبے کے جواب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیجا تھا۔

محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ اب فلسطین، اوسلو کے معاہدے پر عمل درآمد سے آزاد ہے۔