لائسنس معطلی کے خلاف پائلٹ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

پی آئی اے نے  درجنوں پائلٹس کو جعلی لائسنس کی پاداش میں معطل کردیا تھا— فائل فوٹو بشکریہ فیس بک
پی آئی اے نے درجنوں پائلٹس کو جعلی لائسنس کی پاداش میں معطل کردیا تھا— فائل فوٹو بشکریہ فیس بک

سندھ ہائی کورٹ نے سول ایوی ایشن کی جانب سے مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف پائلٹ وقار احمد کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

سندھ ہائی کورٹ میں سول ایوی ایشن کی جانب سے مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف پائلٹ وقار احمد نے درخواست دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

جسٹس خادم حسین نے درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی انکوائری جاری ہے، انکوائری کے معاملے پر عدالت بالکل مداخلت نہیں کرسکتی۔

عدالت نے کہا کہ انکوائری میں جو لائسنس ٹھیک ثابت ہوگا وہ بحال کردیا جائے گا اور جو جعلی ہوں گے ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری لسٹ میں 18ویں نمبر پر پائلٹ وقار احمد کا نام بھی شامل ہے، پائلٹ وقار احمد نے سول ایوی ایشن پر لائسنس ضرور حاصل کیا تاہم پی آئی اے میں ملازمت نہیں کرتے۔

جسٹس خادم حسین نے کہا کہ ہم جعلی لائسنس پر کسی کو جہاز اڑانے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ کیسے اجازت دے دیں کہ آپ جائیں اور جعلی لائسنس پر جہاز اڑائیں اور لوگوں کو مارتے پھریں؟

یہ بھی پڑھیں: پائلٹس کے مشکوک لائسنس: سول ایوی ایشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سب نے مذاق بنایا ہوا ہے، کسی کو احساس نہیں، درخواست واپس لیں ورنہ جرمانہ لگا کر مسترد کردیں گے۔

جعلی پائلٹس کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرور خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

مزید پڑھیں: جعلی لائسنس والے پی آئی اے کے 28 پائلٹس کو فارغ کردیا گیا، شبلی فراز

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔