سشانت سنگھ کیس کے معاملے پر بھارتی ریاستیں آمنے سامنے

اپ ڈیٹ 09 اگست 2020

ای میل

سشانت سنگھ نے 14 جون کو خودکشی کی تھی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
سشانت سنگھ نے 14 جون کو خودکشی کی تھی—فائل فوٹو: انسٹاگرام

رواں برس جون میں خودکشی کرنے والے بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ کی خودکشی کی تفتیش کا معاملہ سلجھنے کے بجائے الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔

سشانت سنگھ کے والد اور ان کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی کی طرح اب دو بھارتی ریاستوں کی پولیس بھی اداکار کے کیس کی تفتیش کے معاملے میں آمنے سامنے آگئیں۔

چند دن قبل بھارت کی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہی دی تھی کہ اب سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی تفتیش مرکزی خفیہ ایجنسی سینٹرل بیورو انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کرے گی۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے اگست کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران اعلیٰ عدلیہ کو بتایا تھا کہ ریاست بہار کی حکومت نے کیس کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کی درخواست کی تھی، جسے قبول کرلیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں اداکارہ ریا چکربورتی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی تھی، جس میں بھارت کی مرکزی حکومت نے عدالت کو جواب دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سشانت سنگھ کی خودکشی کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا اعلان

سپریم کورٹ میں ریا چکربورتی نے درخواست دائر کی تھی کہ ان کے خلاف سشانت سنگھ راجپوت کے والد نے ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں مقدمہ دائر کروایا ہے جو غیر قانونی ہے، اس لیے مذکورہ مقدمے کو بھی ریاست مہارا شٹر منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

ریا چکربورتی کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ اب سشانت سنگھ کی خودکشی کا کیس نہ تو ریاست بہار اور نہ ہی ریاست مہارا شٹر کی پولیس کرے دیکھے گی بلکہ اب مذکورہ کیس کو سی بی آئی دیکھے گی۔

اداکار نے 14 جون کو خودکشی کی تھی—فوٹو: انسٹاگرام
اداکار نے 14 جون کو خودکشی کی تھی—فوٹو: انسٹاگرام

مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت کو آگاہی دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے ریاست بہار اور ریاست مہارا شٹر کی پولیس سے بیان حلفی طلب کرنے سمیت سشانت سنگھ کے والد سے بھی بیانات طلب کیے تھے۔

سشانت سنگھ کے والد نے اپنے بیان حلفی میں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ریا چکربورتی کے خلاف مناسب ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ اب اداکار کی خودکشی کا کیس سی بی آئی دیکھے گی، اس لیے اداکارہ کی مقدمے کو ممبئی منتقل کرنے کی درخواست غیر اہم ہے۔

سشانت سنگھ کے والد کی جانب سے بیان حلفی جمع کرائے جانے کے بعد 7 اگست کو ریاست بہار کی پولیس نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے ریا چکربورتی کی درخواست کو غیر اہم قرار دیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ریاست بہار کے پولیس سربراہ کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا تھا کہ فوجداری مقدمات میں تھانے کی حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا، اس لیے ان کے پاس دوسری ریاست میں ہونے والے جرم کی تفتیش کا اختیار ہے۔

بہار پولیس نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ سشانت سنگھ کے والد کے پاس ریا چکربورتی کے خلاف اہم ثبوت موجود ہیں۔

سشانت کے والد نے جولائی میں ریا چکربورتی کے خلاف مقدمہ دائر کروایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
سشانت کے والد نے جولائی میں ریا چکربورتی کے خلاف مقدمہ دائر کروایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

بہار پولیس نےاپنے بیان میں عدالت کے سامنے دعویٰ کیا کہ ممبئی پولیس ان کی تفتیش میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، انہوں نے ایک افسر کو تفتیش کے لیے ممبئی بھیجا تھا، جسے کورونا کے نام پر قرنطینہ کرکے تفتیش سے روک دیا گیا۔

لیکن 8 اگست کو ریاست مہارا شٹر کی پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں ریاست بہار کی پولیس پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق بہار پولیس کے بعد مہارا شٹر پولیس نے بھی 8 اگست کو اپنا بیان حلفی جمع کرادیا، جس میں ممبئی پولیس نے سی بی آئی سے تفتیش کرانے کی مخالفت کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ممبئی پولیس نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ جرم ان کی حدود میں ہوا مگر اس کا مقدمہ بہار کے شہر پٹنہ میں درج کیا گیا جو غیر قانونی ہے۔

مہارا شٹر پولیس کے مطابق اگر اسی طرح کام چلایا گیا تو پھر ہر کوئی اپنی مرضی کی ریاست میں مقدمات دائر کرواکر تفتیش کروائے گا۔

ریا چکربورتی اور سشانت سنگھ کے درمیان چند سال سے تعلقات تھے—فائل فوٹو: انسٹاگرام
ریا چکربورتی اور سشانت سنگھ کے درمیان چند سال سے تعلقات تھے—فائل فوٹو: انسٹاگرام

ممبئی پولیس کی جانب سے دائر کیے گئے حلف نامے میں کہا گیا کہ خودکشی کا واقعہ 14 جون کو ممبئی میں ہوا اور فوری طور پر پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش شروع کی۔

مزید پڑھیں: سشانت سنگھ کی خودکشی کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے

ممبئی پولیس کے مطابق انہوں نے واقعے کا مقدمہ دائر کرکے تفتیش شروع کی اور عدالت میں اب تک ہونے والی تفتیش کی رپورٹ بھی جمع کروادی گئی ہے اور تاحال تفتیش جاری ہے۔

5 اگست کو بھارت کی مرکزی حکومت نے بتایا تھا کہ کیس کی تفتیش سی بی آئی کرے گی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
5 اگست کو بھارت کی مرکزی حکومت نے بتایا تھا کہ کیس کی تفتیش سی بی آئی کرے گی—فائل فوٹو: انسٹاگرام

ممبئی پولیس نے اپنے بیان میں سی بی آئی کی جانب سے کیس کی تفتیش کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ابھی تک عدالت نے واضح طور پر کیس سی بی آئی کو نہیں سونپا۔

ممبئی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کی جانب سے واضح احکامات نہ ملنے تک سی بی آئی کو انتظار کرنا چاہیے تھا مگر اس نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ درج کرکے تفتیش بھی شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ریا چکربورتی کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، والد سشانت سنگھ

اب خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے جواب دیے جانے پر سپریم کورٹ واضح احکامات جاری کرے گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ بھارت کی مرکزی حکومت کی درخواست پر سی بی آئی کو سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی تفتیش کرنے کا حکم دے دی گی۔

سی بی آئی کی جانب سے تفتیش شروع کیے جانے کے بعد ممبئی اور پٹنہ پولیس کی تفتیش ختم ہوجائے گی اور کیس کسی ریاست کے بجائے مرکز کو چلا جائے گا۔

سشانت سنگھ کے والدین اور زیادہ تر افراد کا خیال ہے کہ اداکار نے گرل فرینڈ ریا کی وجہ سے خودکشی کی ہوگی—فوٹو: انسٹاگرام
سشانت سنگھ کے والدین اور زیادہ تر افراد کا خیال ہے کہ اداکار نے گرل فرینڈ ریا کی وجہ سے خودکشی کی ہوگی—فوٹو: انسٹاگرام