انسداد پولیو مہم میں 130 اضلاع کے 3 کروڑ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے، این ای او سی

اپ ڈیٹ 26 اگست 2020

ای میل

این ای او سی کے مطابق خراب موسم میں بھی عملے نے اپنے فرائض کی ادائیگی کی—فائل فوٹو
این ای او سی کے مطابق خراب موسم میں بھی عملے نے اپنے فرائض کی ادائیگی کی—فائل فوٹو

اسلام آباد: ملک بھر کے 130 اضلاع میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق قطروں کے علاوہ 13 اگست کو شروع کی جانے والی اس مہم کے دوران بچوں (جن کی عمریں 6 ماہ سے 59 ماہ کے درمیان ہیں) کو وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی دیے گئے۔

مزید پڑھیں: کورونا پاکستان میں پولیو مہم کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتا ہے، رپورٹ

انسداد پولیو مہم نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر (این ای او سی) کے مطابق ملک بھر میں 3 کروڑ 21 لاکھ 802 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 لاکھ 25 ہزار تربیت یافتہ عملے نے سخت موسم کے باوجود گھر گھر جاکر قطرے پلائے۔

علاوہ ازیں تمام عملے کو کووڈ 19 کے تناظر میں حفاظتی ٹیکوں کے دوران بچوں کو سنبھالنے اور دیگر عوامل کے بارے میں تربیت دی گئی ہے۔

این سی او سی کے مطابق اضافی تحفظ کے لیے تمام عملے کو چہرے کے لیے ماسک اور ہینڈ سینیٹیسر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم کووڈ 19، گرم موسم اور شدید بارشوں کے باوجود متاثر کن تنائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: براعظم افریقہ 'وائلڈ پولیو' سے پاک قرار

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے بہادر تربیت یافتہ فرنٹ لائن کارکنان پورے ملک میں بچوں تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کی اور اس مہم کے دوران بچوں کو بیماریوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ تحفظ، ان کے مدافعتی نظام کو تقویت دینے کے لیے وٹامن اے کے قطرے بھی دیے گئے'۔

این ای او سی نے درخواست کی کہ پولیو کے خاتمے کی جدوجہد کی حمایت کے لیے مشہور شخصیات، دانشور اور مذہبی رہنما آگے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں ابھی بھی چیلنجز کا سامنا ہے، نیم متوسط طبقے سے متعلق ڈیٹا پر مبنی تجزیے کے ذریعے پولیو سے زیادہ متاثر علاقے کی نشاندہی ہوتی ہے اور ان والدین کی بھی جو اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے'۔

واضح رہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم جولائی میں شروع ہونے والی چھوٹے پیمانے کی مہم اب بڑے پیمانے پر کامیابی کے ساتھ چلائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پولیو اور کورونا سے مقابلے کے دوران 1166 ہیلپ لائن غلط معلومات اور خطرات کو کیسے دور کررہی ہے؟

متعدد علاقوں میں شدید بارش اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے چند اضلاع میں انسداد پولیو مہم کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور اسی وجہ سے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے توسیعی مہم بھی انجام دی گئی۔

انتخابی سرگرمیوں کی کامیاب بحالی کے بعد پاکستان انسداد پولیو پروگرام ستمبر اور دسمبر کے درمیان دیگر بڑے پیمانے پر قومی اور ذیلی قومی مہم چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ کووڈ 19 کے پاکستان اور افغانستان میں بچوں کی صحت پر سنگین اثرات ہوں گے۔

یونیسیف کی رپورٹ 136 ممالک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار پر مبنی تھی جس میں وائرل انفیکشن کے معاشرتی و معاشی اثرات کے بارے میں یونیسیف کے سروے میں لوگوں کا رد عمل شامل ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں پولیو کا اب تک خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطرے، انجکشن یا دونوں؟ پولیو ویکسین کے حوالے سے عام سوالات کے جوابات

اس رپورٹ میں ٹیم کے ایک ممبر کا انٹرویو شامل ہے جس نے پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا دوبارہ آغاز کیا ہے تاکہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جا سکے جو فالج اور موت کا سبب بن سکتی ہے۔

اس ٹیم نے متعدد ایسے کیسز کی اطلاع دی جس میں والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کا کورس مکمل کرنے کے لیے بچوں کو ہسپتال لے جانے سے گھبرارہے ہیں۔

پاکستان میں پولیو مہم رواں ماہ کے آغاز میں دوبارہ شروع ہوئی تھی۔