امریکی صدر ٹک ٹاک کی فروخت کی ڈیڈلائن کو خود بھول گئے؟

13 ستمبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت چین سے تعلق رکھنے والی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اپنے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کے لیے 45 دن کی مہلت دی گئی تھی، دوسری صورت میں اس پر پابندی عائد کی جائے گی۔

تاہم 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا۔

16 اگست کو امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے حکم نامے میں قومی سلامتی کے تحفظات کو جواز بناتے ہوئے بائیٹ ڈانس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ امریکا میں اپنے کاروبار کو اگلے 90 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے۔

مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر کو خود یاد نہیں یا معلوم نہیں کہ ٹک ٹاک کو کب تک کی مہلت دی گئی ہے۔

رواں ہفتے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا 'یا تو ہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے ملک میں ٹک ٹاک کو بند کردیں گے یا وہ فروخت ہوجائے گی'۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت میں اضافہ کا امکان ہے تو ان کا جواب تھا 'میں مہلت میں اضافہ نہیں کررہا، نہیں یہ 15 ستمبر ہے، اس مہلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا'۔

مگر یہ جواب حیران کن تھا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اصل ڈیڈلائن میں اضافہ کرچکے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل تاریخ یا مہلت میں اضافے کی تاریخ 15 ستمبر نہیں بنتی۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ پہلا حکم نامہ 6 اگست کو جاری ہوا تھا اور اس میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بایئٹ ڈانس (ٹک ٹاک کی ملکیت رکھنے والی کمپنی) کو ہدایت کی گئی تھی کہ سوشل میڈیا ایپ کو 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کیا جائے۔

تو 6 اگست کو جاری ہونے والے حکم نامے میں کمپنی کو دی گئی مہلے 15 ستمبر کی بجائے 20 ستمبر کو ختم ہوتی نظر آتی ہے۔

مگر امریکی صدر نے حکم نامہ جاری کرنے والے 15 ستمبر کی تاریخ کا حوالہ دیا تھا 'میں نے 15 ستمبر کے ارگرد کی تاریخ طے کردی ہے، جب انہیں امریکا میں اپنا کاروبار سمیٹنا ہوگا'۔

تاہم 16 اگست کو جو حکم نامہ جاری ہوا اس میں کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت کو 45 دن سے بڑھا کر 90 دن یا نومبر کردیا گیا۔

یعنی ابھی اس ڈیڈلائن میں لگ بھگ 2 ماہ باقی ہے مگر ایسا بھی ممکن ہے کہ امریکی صدر 15 ستمبر کی صبح ٹاک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ کرلیا چاہے وہ ایسا نہ کرسکتے ہوں۔

ویسے ٹک ٹاک نے امریکی اقدامات کے خلاف مقدمہ دائر کررکھا ہے اور قانونی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیاا امریکی حکومت ایپ پر پابندی لگا بھی سکتی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب چین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔