کراچی پیکج عملدرآمد کمیٹی نوٹیفائیڈ، ٹرم آف ریفرنسز بھی جاری

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2020

ای میل

کمیٹی کی سربراہی وزیراعلٰی سندھ کریں گے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
کمیٹی کی سربراہی وزیراعلٰی سندھ کریں گے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کردہ 11 کھرب روپے کے کراچی پیکج پر عملدرآمد یقینی بنانے اور اس کی نگرانی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نوٹیفائیڈ کردی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق پروونشل کوآرڈنیشن اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی) کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کریں گے۔

حکومت سندھ کے پی اینڈ ڈی بورڈ، پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کمیٹی کے سیکریٹری ہیں جبکہ اس میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے نمائندے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پیکج عملدرآمد اور نگراں کمیٹی میں بیوروکریٹس اور فوجی افسر شامل

کمیٹی کے اراکین میں چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی، ایڈمنسٹریٹر کراچی، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ کے علاوہ ہیڈکوارٹرز 5 کور کراچی، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور وفاقی حکومت کا ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنسز کے مطابق وزیراعلیٰ کی سربراہی میں متعلقہ حکومتی اتھارٹیز کے ذریعے ڈیولپمنٹ منصوبوں پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی کرے گی۔

کمیٹی منصوبے پر عملدرآمد میں آنے والی رکاوٹوں کو حل کرے گی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے تعاون کے ایک مرکزی فورم کی حیثیت سے کام کرے گی۔

کمیٹی کا کام تعاون کرنا اور فنڈز کی دستیابی اور اس کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: 'کراچی پیکج پر سیاست کی تو پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی کو جوتے پڑیں گے'

اس کے علاوہ یہ فورم مقرر ٹائم لائنز پر عملدرآمد کو یقینی اور ضرورت پڑنے پر ایڈجسٹمنٹس کرنے کا استحقاق رکھتا ہے۔

علاوہ ازیں کمیٹی تمام منصوبوں کا ریکارڈ رکھے گی اور کوالٹی کنٹرول کے ساتھ نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری کارروائی کرے گی۔

کمیٹی کام کرنے والے اداروں کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور کام میں سرکاری و نجی شعبے کی شمولیت سے عملدرآمد میں سہولت بھی فراہم کرے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈر سے مل کر ترقیاتی پیکج پر عمل اور تبدیلیوں کا بھی استحقاق کمیٹی کو ہوگا۔

یاد رہے کہ 5 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نے ملک کے معاشی حب کراچی کی ترقی کے لیے 11 کھرب روپے کے پیکج اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے، اہم فیصلے لینے اور اس سلسلے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اور حکام پر مشتمل پی سی آئی سی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق کراچی پیکج کیلئے 3 سال میں صرف 103 ارب روپے ادا کرے گا، مرتضیٰ وہاب

وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکج پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بحث چھڑ گئی تھی جس میں دونوں جانب کی وزارتوں سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اس پیکج میں زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے الزام تراشی کے اس کھیل کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھنے اور منصوبے پر کام کرنے پر زور دیا تھا۔

بعدازاں صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے 'درخواست' کی تھی کہ کم از کم آئندہ 3 برسوں تک تعاون کی فضا کو برقرار رکھیں تا کہ کراچی کی ترقی کے لیے فنڈز خرچ کیے جاسکیں۔

وزیراعظم کے اعلان کردہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں 92 ارب روپے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے، 2 کھرب 67 ارب روپے کہ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اور نالوں کی صفائی اور کشادگی، ایک کھرب 41 ارب روپے کے سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کے منصوبے، 41 ارب روپے سڑکوں کے اور 5 کھرب 72 ارب روپے ماس ٹرانزٹ، ریل اور روڈ منصوبوں کے لیے مختص ہیں۔