'کراچی پیکج پر سیاست کی تو پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی کو جوتے پڑیں گے'

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2020

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کراچی پیکج پر سیاست کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی محض ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے رہے تو اہلیان کراچی سے جوتے پڑیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے قدرے برہمی کا اظہار کیا کہ 'چار دن کوئی میڈیا والا یہ نہیں پوچھ رہا کہ کام کیا کرو گے'۔

مزید پڑھیں: وفاق کراچی پیکج کیلئے 3 سال میں صرف 103 ارب روپے ادا کرے گا، مرتضیٰ وہاب

اسد عمر نے کہا کہ 'میڈیا کو سوال کرنا چاہیے کہ کام کیا کریں گے اور یہ کب شروع کریں گے جبکہ تفریق والی فضول بحث کے پیچھے پڑے ہیں'۔

انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'جب میڈیا کو کام نہیں کرنا تو ٹرک کی بتی کی پیچھے لگا دیتے ہیں'۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میں مان گیا کہ 750 ارب پیپلز پارٹی کا ہے، کل سے کام شروع کرو، کراچی انتظار کررہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ سیاست اور نہیں چلے گی۔

انہوں نے کراچی پیکج پر ایک دوسرے (وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت) کے خلاف پریس کانفرنس کو 'ڈرامے بازی' قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی محض ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے رہے تو اہلیان کراچی سے جوتے پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کیلئے 1113 ارب روپے کا پیکج: 62 فیصد وفاق اور 38 فیصد حصہ صوبے کا ہوگا، اسد عمر

اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا کام تو کراچی پیکج کے اعلان کے اگلے روز ہی شروع ہوگیا تھا، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سمری ملے گی کہ کے فور منصوبہ وفاق کے سپرد کریں جیسا کہ انہوں نے کہا تھا۔

کے فور منصوبے پرانے ہیں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'کراچی چلتے ہیں، مجھے کراچی سرکلر ریلوے، کے فور، سیوریج تھری، گرین لائن زمین پر دیکھا دو اگر پرانے بھی ہیں تو، یہ پرانے ہیں باتوں کے اندر'۔

اسد عمر نے کہا کہ 'مذکورہ منصوبہ سے متعلق صرف باتیں ہوتی رہی ہیں اور اب ہم پیپلز پارٹی کو کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں'۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 'مجھے کہا گیا کہ یہ سارے منصوبے ناکام ہیں جس کے جواب میں، میں نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوئے تو ناکام کیسے ہوسکتے ہیں'۔

اس سے قبل اسد عمر نے کراچی کے امدادی پیکج پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شہر قائد کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کے پیکج کے لیے 62 فیصد فنڈنگ وفاقی حکومت اور 38 فیصد سندھ حکومت فراہم کرے گی۔

مزیدپڑھیں: 'کراچی کے لیے 11 سو ارب کا تاریخی پیکج لے کر آئے ہیں'

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے وزیر اعظم کی جانب سے 1113 ارب روپے کے پیکج کے اعلان کے فوری بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ اس پیکج میں 800 ارب روپے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت صرف 300 ارب روپے فراہم کرے گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ سندھ کو 90 فیصد کراچی کما کر دیتا ہے کہ تو یہ شہر اس بات کا مستحق ہے کہ سندھ حکومت اس پر 800 ارب روپے لگائے لیکن یہ ان کا فیصلہ ہے لیکن ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم سندھ کی حکومت سے زیادہ کر رہے ہیں، صرف سچ بولیے، جو بات ہے اتنا بتائیے۔