پاکستان نے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے پروگرام اینڈ کوآرڈینیشن کا الیکشن جیت لیا

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انتخاب میں کل تعداد میں سے 96 فیصد کی زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے۔ فائل فوٹو:عرب نیوز
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انتخاب میں کل تعداد میں سے 96 فیصد کی زبردست حمایت حاصل ہوئی ہے۔ فائل فوٹو:عرب نیوز

اقوام متحدہ کی 54 رکنی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) سے 52 ووٹ حاصل کرکے پاکستان کمیٹی برائے پروگرام اینڈ کوآرڈینیشن (سی پی سی) کے لیے منتخب ہوگیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انتخاب میں مجموعی تعداد میں سے 96 فیصد کی زبردست حمایت حاصل ہوئی۔

پاکستان کا سی پی سی میں دوبارہ انتخاب اقوام متحدہ میں پاکستان کی معنی خیز مصروفیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاشی تعاون اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے شعبوں میں اس کی شراکت کی ایک مستند توثیق ہے۔

مزید پڑھیں: یو اے ای، اسرائیل کے درمیان معاہدے کے دور رس اثرات ہوں گے، دفتر خارجہ

کمیٹی ای سی او ایس او سی اور اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی برائے منصوبہ بندی، پروگرامنگ اور کوآرڈینیشن کا اہم ذیلی ادارہ ہے۔

سی پی سی پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پروگراموں کا جائزہ لے اور قانون سازی کے مینڈیٹ پر پروگراموں کی سرگرمیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو تجاویز پیش کرے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں پاکستان کی موجودگی اقوام متحدہ کے پروگراموں اور بجٹ کے منصوبہ بندی کو مؤثر بنانے میں ہماری مدد کرے گی۔

پاکستان 1973 سے اب تک اس 34 رکنی کمیٹی کا ممبر رہا ہے اور اس کے حالیہ انتخاب کے بعد اب یہ 2021 سے 2023 تک مزید تین سال کی مدت کے لیے اس پر کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ نے طالبان پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تردید کردی

پاکستان اس وقت اقوام متحدہ میں ای سی او ایس او سی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہا ہے جو اقوام متحدہ کا ایک اہم ادارہ اور معاشی و سماجی ترقی کا مرکزی پلیٹ فارم ہے جہاں بین الاقوامی سطح پر متفقہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے اتفاق رائے اور مربوط کوششوں پر کام کیا جاتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان حفیظ چودھری کا کہنا تھا کہ 'ہمیں امید ہے کہ سی پی سی میں ہماری دوبارہ شمولیت کے ساتھ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی اور معاشرتی ترقی کے مشترکہ اہداف کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھے گا جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ہے'۔