افغانستان: سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں 14 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2020

ای میل

دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا — فائل فوٹو / رائٹرز
دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا — فائل فوٹو / رائٹرز

وسطی افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں خواتین و بچوں سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائین نے کہا کہ صوبہ دایکندی میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک ہی گاڑی موجود 7 خواتین، 5 بچے اور 2 مرد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے دھماکے کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 3 بچے زخمی بھی ہوئے۔

دایکندی کے گورنر کے ترجمان نصر اللہ غوری نے بتایا کہ متاثرہ افراد مزار جارہے تھے جب ان کی مِنی بس بم سے ٹکرائی۔

دھماکے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا، تاہم سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے اکثر طالبان کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملوں میں 28 پولیس اہلکار ہلاک

اقوام متحدہ کی جولائی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سال 2020 کے پہلے چھ ماہ میں افغانستان میں ہونے والے حملوں میں 800 سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان دوحا میں امن مذاکرات کے جاری ہونے کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات سامنے آرہے ہیں۔

ان مذاکرات میں 19 سالہ جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی راہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سیز فائر کے مطالبے کے باوجود طالبان نے پرتشدد کارروائیاں روکنے سے انکار کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغانستان: طالبان سے جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کے 57 اہلکار ہلاک

12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات کے آغاز کے بعد طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیمیں ملاقاتیں کر رہی ہیں، لیکن اب تک معاملات زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔

مذاکراتی ٹیموں کے درمیان دوحا میں تقریباً روز ہونے والی ملاقاتوں میں اب تک امن عمل کے قواعد و ضوابط پر ہی بحث ہو رہی ہے اور بیشتر اہم معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔