یہ عام غذائی عادت کینسر کی جان لیوا قسم کا خطرہ کم کرے

30 ستمبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

دودھ سے بنی مصنوعات کا روزانہ استعمال آنتوں کے کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کا روزانہ استعمال آنتوں کے کینسر کا خطرہ 19 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

آنتوں کا کینسر، پھیپھڑوں، بریسٹ اور مثانے کے سرطان کے ساتھ دنیا میں سب سے عام کینسر کی قسم ہے، جس سے ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 80 کلینیکل ٹرائلز اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کرکے دیکھا گیا کہ مختلف غذائیں اور ادویات کس حد تک آنتوں کے کینسر کے خطرے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پھلوں، فائبر اور سبزیوں کا بہت زیادہ استعمال اس بیماری سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے مگر دودھ سے بنی مصنوعات بھی اس حوالے سے کردار ادا کرسکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق دودھ سے بنی مصنوعات آنتوں کے کینسر کا خطرہ 13 سے 19 فیصد تک کم کرسکتی ہیں۔

دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کے استعمال کے اثرات اور کینسر کی تشخیص کے حوالے سے متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں مگر نئی تحقیق میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ جان لیوا بیماری سے بچاؤ کے لیے مفید ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹھوس طور پر یہ بتانا تو مشکل ہے کہ دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کی کتنی مقدار اس بیماری سے بچا سکتی ہے، کیونکہ ان کی متعدد مصںوعات دستیاب ہیں اور کئی بار تحقیقی رپورٹس کے نتائج بھی متضاد ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پھلوں، سبزیوں اور فائبر کا زیادہ استعمال زیادہ موثر ہوتا ہے جس سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں سرخ اور پراسیس گوشت کا بہت زیادہ استعمال اس کینسر کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

اس سے قبل کچھ عرصے قبل اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی ایک تحقیق کے مطابق اسپرین کا استعمال آنتوں میں بننے والی رسولی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

رواں سال اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات کو بہت زیادہ موبائل فون کی روشنی کی زد میں رہنا آنتوں کے کینسر کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

بارسلونا انسٹیٹوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ مصنوعی روشنی یا جسے رات میں خارج ہونے والی نیلی روشنی بھی کہا جاتا ہے، دیگر طبی مسائل جیسے نیند متاثر ہونے اور موٹاپے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

طبی ماہرین اس سے قبل موبائل ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی کا تعلق بریسٹ اور مثانے کے کینسر سے بھی جوڑ چکے ہیں۔

مگر اب محققین کا کہنا ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ تحقیق کو دیکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ مصنوعی روشنی کی زد میں رہنے اور آنتوں کے کینسر کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا جائے، جو کہ دنیا بھر میں پھیپھڑوں اور بریسٹ کینسر کے بعد سرطان کی تیسری سب سے عام قسم ہے۔

تحقیق کے دوران بارسلونا اور میڈرڈ سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار کے قریب افراد کو ایک سروے میں شامل کیا گیا۔

ان میں سے 650 سے زائد میں آنتوں کے کینسر کو دریافت کیا گیا۔