فن لینڈ: خاتون وزیراعظم کی بولڈ تصاویر پر ملک میں ’جنسیت‘ پر بحث

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

سانا مارین نےبحث کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین انسٹاگرام
سانا مارین نےبحث کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین انسٹاگرام

یورپی ملک فن لینڈ کی وزیر اعظم 34 سالہ سانا مارین کی جانب سے حال ہی میں معروف فیشن میگزین کے لیے کرائے گئے قدرے بولڈ فوٹو شوٹ پر وہاں ’جنسیت‘ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

سانا مارین دسمبر 2019 میں محض 34 برس کی عمر میں وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا کی نوجوان ترین وزیر اعظم بنی تھیں اور گزشتہ ایک سال سے انہوں نے ملک میں کئی تبدیلیاں بھی متعارف کرائیں۔

سانا مارین جہاں دنیا کی کم عمر ترین وزیر اعظم بنی تھیں، وہیں وہ اب تک فن لینڈ کی تیسری خاتون وزیر اعظم بھی ہیں۔

سانا مارین نے اقتدار میں آنے کے بعد فن لینڈ میں صنفی مساوات اور خواتین کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کیا، جس وجہ سے ان کی تعریفیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔

تاہم حال ہی میں ان کی جانب سے فن لینڈ کے معروف فیشن میگزین ’ للی ٹرینڈی‘ کے لیے کرائے گئے فوٹو شوٹ پر وہاں ایک نئی بحث چھڑ گئی اور وہاں کے مرد و خواتین ’جنسیت‘ پر بحث کرنے لگ گئے۔

سانا مارین کو اکتوبر 2020 کے شمارے کی زینت بنایا گیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین
سانا مارین کو اکتوبر 2020 کے شمارے کی زینت بنایا گیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرینڈی میگزین نے اکتوبر 2020 کے شمارے میں سانا مارین کو سرورق کی زینت بنایا اور میگزین نے ان کا انٹرویو بھی شائع کیا۔

تاہم مذکورہ انٹرویو کے لیے وزیر اعظم سانا مارین کی جانب سے کھچوائی گئی تصاویر کے بعد فن لینڈ میں ’جنسیت‘ پر نئی بحث چھڑ گئی اور کئی افراد نے وزیر اعظم کو بولڈ فوٹو شوٹ کروانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرینڈی میگزین نے اگرچہ سرورق پر وزیر اعظم کی عام تصویر شائع کی تاہم میگزین میں شائع ان کے انٹرویو میں بعض تصاویر انتہائی بولڈ ہیں، جن میں وزیر اعظم کی چھاتی کے کچھ حصوں کو نمایاں پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سانا مارین کی ٹی شرٹ کے بغیر اوور کوٹ میں کھچوائی گئی تصاویر کو فحش قرار دیا گیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین انسٹاگرام
سانا مارین کی ٹی شرٹ کے بغیر اوور کوٹ میں کھچوائی گئی تصاویر کو فحش قرار دیا گیا—فوٹو: ٹرینڈی میگزین انسٹاگرام

ٹرینڈی میگزین نے سانا مارین کی ایک بولڈ تصویر انسٹاگرام پر بھی شیئر کی، جس کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی ’جنسیت‘ کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے وزیر اعظم کی تصاویر کو عریاں اور فحش قرار دیا۔

میگزین کی خاتون ایڈیٹر نے سی این این کو وزیر اعظم کی تصاویر کے بعد شروع ہونے والی ’جنسیت‘ کی بحث کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر مرد حضرات نے سانا مارین کی تصاویر کو فحش اور عریاں قرار دیا جب کہ خواتین نے ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خوبصورت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: فن لینڈ کی 34 سالہ سانا مارین دنیا کی کم عمر ترین وزیر اعظم بن گئیں

سانا مارین کی بولڈ تصاویر پر اعتراض کرنے والے زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ اگر ایک وزیر اعظم ہی ایسی تصاویر کھچوا کر ان کی تشہیر کریں گی تو اس کے اثرات عام عوام پر کیا پڑیں گے؟

سانا مارین کی تصاویر پر تنقید کرنے والوں نے ان کی چند تصاویر کو فحش اور عریاں قرار دیا۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

وزیر اعظم کی جن تصاویر کو فحش قرار دیا گیا، ان میں سانا مارین کو پینٹ کے ساتھ صرف اوور کوٹ پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ انہوں نے کوٹ کے نیچے کوئی ٹی شرٹ نہیں پہنی اور ان کے سینے کے کچھ حصے نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: فن لینڈ میں 16 سالہ لڑکی ایک دن کی وزیر اعظم بن گئیں

جہاں کئی لوگوں نے ان کی تصاویر کو فحش قرار دے کر ان پر تنقید کی، وہیں خواتین نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی بولڈ تصاویر شیئر کرکے ’ہم سانا مارین ہیں‘ اور ’ہم سانا مارین کے ساتھ کھڑے ہیں‘ جیسے ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔

زیادہ تر خواتین نے سانا مارین کی تصاویر کے انداز میں اپنی تصاویر شیئر کرکے وزیر اعظم کو پیغام دیا کہ خواتین ان کے ساتھ ہیں اور ان کی تصاویر میں کوئی عریانیت نہیں ہے۔